نبوی پیشگوئی جس نےصحابہ کو لرزا دیا  ۔۔۔انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی

نبوی پیشگوئی جس نے

صحابہ کو لرزا دیا  ۔۔۔۔۔

انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ نبوی پیشگوئی جس نےصحابہ کو لرزا دیا  ۔۔۔انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی )ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے ایک ایسی لرزہ خیز بات ارشاد فرمائی جو آپ کی عمومی نرم دلجو طبیعت کے خلاف تھی اور اس نے حاضرین کے دلوں کو خوف سے بھر دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں ایک ایسا شخص بھی بیٹھا ہے، جس کی داڑھ جہنم کی آگ میں احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی۔”

یہ خبر اس بات کا اعلان تھی کہ اس محفل میں موجود افراد میں سے کوئی ایک شخص مستقبل میں جہنم کا شدید ترین عذاب جھیلے گا۔

وقت کا گزرنا اور دو افراد کا بچ جانا

سال گزرتے گئے اور اس مجلس میں شریک تمام صحابہ کرام باری باری ایمان و سلامتی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے گئے۔ بالآخر اس محفل کے شرکاء میں سے صرف دو ہی افراد زندہ رہ گئے:

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ

  2. الرَّجّال بن عَنفَوَہ (بنو حنیفہ کا ایک باشندہ)

الرَّجّال بن عَنفَوَہ کون تھا؟

الرَّجّال کوئی عام انسان نہیں تھا، بلکہ وہ مدینہ منورہ آ کر اسلام قبول کرنے والے وفد کا ایک نمایاں چہرہ تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے براہِ راست دین سیکھا، قرآنِ کریم حفظ کیا اور وہ اس قدر عابد و زاہد تھا کہ راتوں کو جاگنا اور دن کو روزے رکھنا اس کا معمول بن چکا تھا۔

 حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت رافع بن خدیجؓ جیسے جلیل القدر صحابہ بھی اس کے خشوع و خضوع اور تلاوتِ قرآن پر رشک کرتے تھے۔

 دوسری طرف، حضرت ابو ہریرہؓ اس کی یہ زاہدانہ زندگی دیکھ کر خوف سے کانپ اٹھتے تھے کیونکہ انہیں نبی کریم ﷺ کی پیشگوئی یاد آ جاتی اور وہ ڈرتے تھے کہ کہیں وہ جہنمی شخص خود ان کی ذات نہ ہو ان سے کوئی ایسا گناہ نہ سرزد ہوجائے۔

جب خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یمامہ کے مقام پر مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، تو انہوں نے الرَّجّال بن عَنفَوَہ کو وہاں بھیجا تاکہ وہ اپنے علم اور اثر و رسوخ سے لوگوں کو اس فتنے سے بچائے۔

لیکن جب الرَّجّال وہاں پہنچا، تو مسیلمہ نے اس کا شاہانہ استقبال کیا اور اسے دولت و اقتدار کا شدید لالچ دیا۔ مسیلمہ نے پیشکش کی کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے یہ جھوٹی گواہی دے دے کہ محمد ﷺ نے اسے نبوت میں شریک کیا ہے، تو وہ اپنی آدھی سلطنت اس کے نام کر دے گا۔ الرَّجّال جو مالی طور پر ایک غریب آدمی تھا وہ دنیاوی چمک دمک کے سامنے پھسل گیا اور اس نے عوام کے سامنے   جو اسے ایک قاری اور صحابی رسول مانتے تھے   کھلم کھلا جھوٹ بولا کہ: "میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ مسیلمہ بھی نبوت میں شریک ہے۔”

الرَّجّال کا یہ ارتداد مسیلمہ کے اپنے دعوے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہوا، کیونکہ اس کی گواہی پر بھروسا کر کے چالیس ہزار لوگ گمراہ ہو گئے۔ اس فتنے کو کچلنے کے لیے حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا۔ اس لشکر میں حضرت وحشی بن حربؓ بھی شامل تھے، جنہوں نے زمانۂ کفر میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا اور اب وہ اپنے اس گناہ کا کفارہ ادا کرنے کے لیے بے چین تھے۔

معرکہِ یمامہ کی خونریز جنگ میں:

  حضرت وحشی بن حربؓ نے اپنے نیزے کے وار سے مسیلمہ کذاب کو واصلِ جہنم کیا اور اپنے ماضی کے داغ کو دھو ڈالا۔

  الرَّجّال بن عَنفَوَہ جنگ کے میدان میں ذلت و رسوائی کے ساتھ مارا گیا اور یوں کفر کی حالت میں اس کا خاتمہ ہوا۔

جب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تک اس کے انجام کی خبر پہنچی، تو انہوں نے اللہ کے حضور شکر کا سجدہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس فتنے سے محفوظ رکھا اور وہ ہولناک پیشگوئی الرَّجّال کے حق میں سچ ثابت ہوئی۔

تاریخ کے دو متضاد کردار اور حاصلِ سبق

الرَّجّال بن عَنفَوَہ: جس نے صحبتِ رسول ﷺ پائی، قرآن حفظ کیا، کثرت سے عبادت کی، لیکن دنیاوی لالچ نے اسے کفر اور ابدی جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ: جو اسلام لانے سے پہلے ایک بڑے گناہ کے مرتکب ہوئے، لیکن سچی توبہ اور حسنِ خاتمہ کے باعث جنگ یمامہ میں اسلام کے ہیرو ٹھہرے۔

 انسان کو اپنے علم، تقویٰ یا نیک اعمال پر کبھی بھی گھمنڈ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ دلوں کا بدلنا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہمیشہ عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور اللہ سے ایمان پر ثابت قدمی مانگنی چاہیے۔

اللَّهُمَّ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ

(اے دلوں کو پھیرنے والے پروردگار! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر قائم رکھ۔ )

آمین

(یہ واقعہ علامہ ابن کثیرؒ نے اپنی مشہور کتاب "البداية والنهاية” (جلد 6) میں تفصیل سے بیان کیا ہے)

#islamic #story #history #makkah #viral