ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نورِ الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ خاص روشنی، ہدایت اور رحمت ہے جو دلوں کو زندہ کرتی ہے، اندھیروں کو روشنی میں بدلتی ہے۔ یہ عام روشنی جیسا نہیں، یہ وہ نور ہے جس سے مومن کا دل روشن ہوتا ہے، حق نظر آتا ہے۔
اللہ کا نور نہ تو سورج جیسا ہے نہ چاند جیسا، بلکہ اللہ خود ہی نور ہے اور اسی کے نور سے ساری کائنات روشن ہے۔ جب یہ نور کسی دل میں آ جائے تو انسان گناہوں سے نکل کر نیکی کی طرف آ جاتا ہے۔
*1. قرآنِ پاک سے:*
> *اَللّٰهُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ*
> "اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے”
> *(سورۃ النور، آیت 35)*
> *یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ*
> "اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے”
> *(سورۃ النور، آیت 35)*
*2. حدیثِ مبارکہ سے:*
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
> *”جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو دل کھل جاتا ہے اور کشادہ ہو جاتا ہے۔”*
> صحابہؓ نے پوچھا: یا رسول اللہ ﷺ اس کی نشانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: *”دھوکے کے گھر (دنیا) سے دوری، ہمیشہ کے گھر (آخرت) کی طرف رجوع، اور موت آنے سے پہلے اس کی تیاری۔”*
> (سنن ابن ماجہ)
*خلاصہ یہ کہ:*
نورِ الٰہی اصل میں اللہ کی ہدایت ہے۔ جس کو یہ نور مل جائے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جاتا ہے، اسے نماز میں مزہ آنے لگتا ہے، قرآن سے محبت ہو جاتی ہے، اور دنیا کی محبت دل سے نکل جاتی ہے۔ یہی سب سے بڑی دولت ہے۔