وجہِ نفرت
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) مومن محبتوں کا سفیر ہوتا ہے۔ محبتیں عام کرتا ہے۔ احساسِ محبت جگاتا ہے۔ لوحِ دل پر مضامین محبت رقم کرتا ہے۔ نفرتوں کو مٹاتا ہے۔ نفرت کی فضا کو محبت کے عطر سے ختم کر کے مشکبار بناتا ہے۔ معلوم ہوا کہ نفرت بُری شے ہے۔ ذاتی مخاصمت میں نفرتیں پروان چڑھتی ہیں۔ جس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
لیکن! وجہِ نفرت اگر دین کے لیے ہو۔ دین کی تقویت کے لیے دین کو نقصان پہنچانے والوں سے نفرت کی جائے تو یہ ضرورت بن جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بے ادبی کرنے والوں سے نفرت! یہ بقاے دین کے لیے ضروری ہے۔
بحمدہٖ تعالیٰ ہم ان افراد سے نفرت کرتے ہیں؛ جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں ایسی تعبیریں وضع کیں جن سے بے ادبی واقع ہوتی ہے۔ ایسی تحریریں لکھیں جن سے گستاخی کا مفہوم نکلتا ہے؛ تو مرتکبِ توہین سے یقیناً نفرت ہی کی جائے گی چہ جائیکہ مرتکب مولوی ہو، شیخ طریقت ہو، پابند صوم و صلوٰۃ ہو۔ اس کی تحریر سے نفرت کی جائے گی۔ اس کی فکر سے نفرت کی جائے گی۔ اس کے نام سے نفرت کی جائے گی-
جب ہم ان کتابوں کا جائزہ لیتے ہیں تو روح کانپ جاتی ہے، دل تڑپ اٹھتا ہے کہ، کیوں کر توہینِ رسالت مآب ﷺ کا ارتکاب کیا گیا، مولویوں نے اسلام کے قصر رفیع میں نقب زنی کیوں کی؟ کیوں ایسی کتابیں وجود میں آئیں کہ بارگاہِ رسالت ﷺ میں عقیدے کی فضا آلودہ ہوتی دکھائی دیتی ہے:
۱۔ تقویۃ الایمان(از شاہ اسماعیل دہلوی)،
۲۔حفظ الایمان (از اشرف علی تھانوی)
۳۔ تحذیرالناس (از قاسم نانوتوی)
۴۔براہین قاطعہ (از خلیل احمد انبیٹھوی)
۵۔ فتاویٰ رشیدیہ(از رشید احمد گنگوہی)
عمیق نگاہ سے دیکھا جائے تو توہین رسالت کے کیکر و ببول انھیں کتابوں کے فکری بیج سے پیدا ہوئے اور نفرتوں کا ماحول تیار ہوا۔ دلوں میں محبوب پاک ﷺ سے بغض کا تعفن یہیں سے پیدا ہوا۔ انھیں کتابوں نے ہند میں فرقہ بندی کو وجود بخشا۔ انھیں کتابوں میں موجود گستاخیاں خرمن اتحاد کو تباہ کرنے کا سبب بنیں۔ اس لیے اہل سنّت سے وابستہ مسلمان وہابیت کے ان جراثیم سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے دوری میں ہی ایمان و عقیدے کی سلامتی ہے۔
غلام مصطفیٰ رضوی
نوری مشن مالیگاؤں
۵؍اکتوبر ۲۰۲۶ء
#Gustakhi
#islamicpost
#iman
#islam
![]()






