کیا انسان 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے؟ پوتن اور بڑھاپے کو شکست دینے کی سائنسی کوششیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا انسان واقعی 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے؟ کیا سائنس اتنی ترقی کر سکتی ہے کہ بڑھاپے کے عمل کو سست کر دیا جائے اور انسان کئی دہائیوں تک صحت مند زندگی گزار سکے؟ روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور جدید اینٹی ایجنگ ریسرچ نے ایک بار پھر دنیا میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہے۔
روس سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سائنس دان انسانی عمر بڑھانے، خلیات کو جوان رکھنے اور بڑھاپے سے جڑی بیماریوں کو روکنے کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ کوششیں واقعی انسان کو 150 سال تک زندہ رکھ سکتی ہیں، یا ابھی یہ صرف ایک سائنسی خواب ہے؟
روس کا منصوبہ آخر ہے کیا؟
روس میں انسانی عمر بڑھانے اور لوگوں کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے کے لیے جینیاتی اور طبی تحقیق پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اس تحقیق کا ایک مقصد ملک میں آبادی کی کمی اور افرادی قوت کے مسائل سے نمٹنا بھی ہے۔
اس حوالے سے پوتن کی بڑی بیٹی ڈاکٹر ماریا ورونتسووا کا نام بھی سامنے آتا ہے، جو اینڈوکرائنولوجی اور جینیاتی تحقیق سے وابستہ ہیں۔ وہ روس کے بعض سائنسی منصوبوں میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد صرف انسان کی عمر بڑھانا نہیں، بلکہ اسے زیادہ عرصے تک جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رکھنا بھی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ سائنس دانوں نے بڑھاپے کو ختم کرنے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔
سائنس بڑھاپے کو روکنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
انسانی جسم میں بڑھاپا ایک پیچیدہ حیاتیاتی عمل ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ خلیات میں نقصانات جمع ہونے لگتے ہیں، ڈی این اے متاثر ہوتا ہے اور جسم کے مختلف اعضا کی کارکردگی آہستہ آہستہ کم ہونے لگتی ہے۔
سائنس دان ان تبدیلیوں کو سمجھنے اور ان کی رفتار کم کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔
ایک اہم تحقیق ٹیلومیرز (Telomeres) سے متعلق ہے۔ یہ کروموسومز کے سروں پر موجود حفاظتی حصے ہوتے ہیں، جو خلیات کی تقسیم کے دوران آہستہ آہستہ چھوٹے ہوتے جاتے ہیں۔ سائنس دان ان کی حفاظت کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، لیکن انہیں دوبارہ بڑھانے کی کوششوں میں کینسر جیسے خطرات کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
دوسرا طریقہ سینولٹکس (Senolytics) کہلاتا ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم میں کچھ ایسے خلیات جمع ہو جاتے ہیں جو اپنی معمول کی تقسیم روک دیتے ہیں، لیکن ایسے مادے خارج کرتے رہتے ہیں جو اردگرد کے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان خلیات کو ختم کرنے والی ادویات پر تحقیق جاری ہے۔
اس کے علاوہ سائنس دان جینیاتی ری پروگرامنگ (Cellular Reprogramming) کے ذریعے خلیات کو دوبارہ جوان حالت میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس تحقیق میں یاماناکا فیکٹرز (Yamanaka Factors) اہم ہیں، جن کی مدد سے خلیات میں عمر سے متعلق بعض تبدیلیوں کو واپس پلٹانے کے تجربات کیے جا رہے ہیں۔
کیا ادویات انسان کو دوبارہ جوان بنا سکتی ہیں؟
میٹفارمن (Metformin) اور ریپامائسن (Rapamycin) جیسی ادویات بھی بڑھاپے کے عمل پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحقیق کا حصہ ہیں۔ یہ خلیات کے توانائی کے نظام اور ان کی مرمت کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اسی طرح روس میں پیپٹائڈ تھراپی (Peptide Therapy) پر بھی تحقیق کی جاتی رہی ہے۔ اس طریقے میں مخصوص پیپٹائڈز کے ذریعے خلیات اور جسمانی اعضا کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ کسی دوا کا جانوروں یا خلیات پر فائدہ مند اثر دکھانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ انسانوں میں بھی بڑھاپا روک دے گی۔ فی الحال ایسی کوئی دوا ثابت نہیں ہوئی جو انسان کو یقینی طور پر دوبارہ جوان بنا سکے یا اس کی عمر 150 سال تک بڑھا دے۔
کیا سائنس کو اب تک کامیابی ملی ہے؟
جانوروں پر ہونے والی بعض تحقیقات میں عمر بڑھانے کے حوالے سے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ چوہوں اور دیگر جانداروں پر کیے گئے تجربات میں مخصوص ادویات اور جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے عمر میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بعض تجربات میں یہ اضافہ 20 سے 40 فیصد تک بھی رپورٹ ہوا ہے، تاہم نتائج ہر تحقیق میں ایک جیسے نہیں ہوتے۔
انسانوں کے معاملے میں صورت حال مختلف ہے۔ اب تک کوئی ایسا سائنسی طریقہ ثابت نہیں ہوا جو انسان کو 120 یا 150 سال تک زندہ رکھنے کی ضمانت دے سکے۔
جدید طب نے دل کی بیماریوں، انفیکشنز اور کئی خطرناک امراض کے علاج میں نمایاں ترقی کی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے کئی حصوں میں اوسط متوقع عمر بڑھی ہے۔ لیکن بڑھاپے کو مکمل طور پر پلٹ دینا اب بھی سائنس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
کیا انسان واقعی 150 سال تک زندہ رہ سکتا ہے؟
انسانی جسم میں عمر بڑھنے کے ساتھ کئی حیاتیاتی تبدیلیاں آتی ہیں۔ عام انسانی خلیات ایک محدود تعداد میں تقسیم ہو سکتے ہیں، جسے ہیف لک لمٹ (Hayflick Limit) کہا جاتا ہے۔ بہت سے خلیات تقریباً 50 سے 70 مرتبہ تقسیم ہونے کے بعد مزید تقسیم کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ دماغ کے اعصابی نظام میں تبدیلیاں، مائٹوکونڈریا کی کارکردگی میں کمی، ڈی این اے کو پہنچنے والے نقصانات اور کینسر کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی انسانی عمر کو محدود کرتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ تصدیق شدہ عمر 122 سال ہے۔ فرانس کی جین کالمینٹ (Jeanne Calment) نے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ وہ 1875 میں پیدا ہوئیں اور 1997 میں وفات پا گئیں۔
مستقبل میں جینیاتی ایڈیٹنگ، خلیاتی مرمت، مصنوعی اعضا اور جدید نینو ٹیکنالوجی کے ذریعے انسانی عمر میں مزید اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن اگلی چند دہائیوں میں کسی انسان کا صحت مند حالت میں 150 سال تک پہنچنا فی الحال انتہائی غیر یقینی ہے۔
پوتن کی عمر اور طویل زندگی کا خواب
ولادیمیر پوتن اکتوبر 1952 میں پیدا ہوئے تھے۔ اکتوبر 2026 میں ان کی عمر 74 سال ہے۔
انسانی عمر بڑھانے کے حوالے سے روس کی سائنسی کوششیں عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان بھی انسانی عمر کو 150 سال تک بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔
روس کی پالیسی میں عام شہریوں کی اوسط متوقع عمر بڑھانا بھی شامل ہے۔ حکومت نے 2030 تک اوسط عمر کو 78 سال تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ طویل مدت میں اسے مزید بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
تاہم، کسی سیاسی رہنما کی طویل زندگی میں دلچسپی اور سائنس کی جانب سے اس مقصد کو حقیقت بنانے کی صلاحیت دو الگ چیزیں ہیں۔
اس تحقیق پر کتنی رقم خرچ ہو رہی ہے؟
روس کے قومی جینیاتی اور بائیومیڈیکل منصوبوں کے لیے اربوں روبلز مختص کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مختلف رپورٹس میں ان منصوبوں کے اخراجات کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آتے رہے ہیں۔
ان منصوبوں میں جینیاتی تحقیق، خلیات کی مرمت، جدید ادویات اور طبی ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ ان کا مقصد ایسی سائنسی ترقی حاصل کرنا ہے جو مستقبل میں انسانی صحت اور عمر پر مثبت اثر ڈال سکے۔
دوسری جانب پوتن کی ذاتی دولت کے بارے میں بھی مختلف اندازے سامنے آتے رہے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں ان کی تنخواہ اور ظاہر کیے گئے اثاثوں کی تفصیلات موجود ہیں، جبکہ بعض آزاد تجزیہ کار ان کی ممکنہ دولت کو اس سے کہیں زیادہ قرار دیتے ہیں۔
تاہم، ان کی حقیقی ذاتی دولت کے بارے میں کوئی ایسا حتمی اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ عدد موجود نہیں جسے یقینی سمجھا جا سکے۔
اصل سوال: کیا ایک دن بڑھاپے کو شکست دینا ممکن ہو جائے گا؟
سائنس نے انسان کو کئی ایسی بیماریوں سے بچانے میں کامیابی حاصل کی ہے جو کبھی جان لیوا سمجھی جاتی تھیں۔ ممکن ہے مستقبل میں نئی ادویات اور جدید ٹیکنالوجی انسان کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھنے میں کامیاب ہو جائیں۔
لیکن بڑھاپا صرف ایک بیماری نہیں، بلکہ جسم کے مختلف نظاموں میں ہونے والی پیچیدہ تبدیلیوں کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے اسے مکمل طور پر روکنے کے لیے ایک دوا یا ایک علاج کافی نہیں ہوگا۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: 150 سال تک زندہ رہنا اور 150 سال تک صحت مند رہنا دو مختلف باتیں ہیں۔ اصل کامیابی صرف عمر کے سال بڑھانا نہیں، بلکہ ان سالوں میں انسان کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ہے۔
شاید مستقبل کی سب سے بڑی سائنسی کامیابی یہ ہو کہ انسان زیادہ عرصے تک بیماریوں سے محفوظ رہے، اپنے کام خود کر سکے اور زندگی کے آخری برس بھی بہتر صحت کے ساتھ گزار سکے۔