کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ دنیا کا کوئی بادشاہ اپنی کتاب میں خود لکھے کہ میں عاشق ہو گیا ہوں اور پاگل ہو گیا ہوں؟

 

کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ دنیا کا کوئی بادشاہ اپنی کتاب میں خود لکھے کہ میں عاشق ہو گیا ہوں اور پاگل ہو گیا ہوں؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک ہی بادشاہ نے ایسا کیا ہے۔ اس کا نام تھا ظہیر الدین محمد بابر۔ ہندوستان میں مغل سلطنت کا بانی۔

❓بابر کون تھا؟بابر فرغانہ کا شہزادہ تھا۔ چھوٹی عمر میں بادشاہ بن گیا۔ اس کے دشمن بہت تھے۔ ازبک اس کے پیچھے تھے۔ وہ کبھی سمرقند لیتا، کبھی چھین جاتا۔ کبھی کابل میں، کبھی قندھار میں۔

اسی بھاگ دوڑ میں وہ ایک بار ہرات گیا۔ ہرات آج کے افغانستان کا ایک شہر ہے، لیکن اس وقت ہرات دنیا کا سب سے خوبصورت شہر تھا۔ اسے چھوٹا بغداد کہتے تھے۔ وہاں سلطان حسین مرزا کی حکومت تھی، جس کے دربار میں دنیا کے سب سے بڑے شاعر، مصور اور عالم جمع تھے۔ جامی، بیہزاد، نوائی سب ہرات میں تھے۔ بابر جب ہرات گیا تو اس کی عمر 22 سال تھی۔ وہ جوان تھا، خوبصورت تھا، شاعر تھا۔

بابر نے خود کیا لکھا؟

بابر نے اپنی زندگی کی ساری باتیں ایک کتاب میں لکھیں۔ اس کتاب کا نام ہے "تزک بابری” یا "بابر نامہ”۔ یہ دنیا کی پہلی سچی سوانح میں سے ایک ہے۔ اس میں بابر نے جھوٹ نہیں لکھا۔ جو اچھا کیا وہ بھی لکھا، جو برا کیا وہ بھی لکھا۔

#یہ_پوسٹ_ہیسٹری_بوک_پیج_کی_جانب_سے_پیش_کی_جاتی_ہیں۔

اسی کتاب میں بابر نے اپنی محبت کا ذکر کیا ہے۔

وہ لکھتا ہے کہ جب میں ہرات میں تھا تو وہاں ایک لڑکا تھا۔ اس کا نام بابری تھا۔ وہ اندجان کا رہنے والا تھا۔ اس لیے لوگ اسے بابری اندجانی کہتے تھے۔

بابر لکھتا ہے کہ میں اس کے عشق میں ایسا گرفتار ہوا کہ میں اپنے ہوش میں نہ رہا۔

✏️بابر کے اپنے لفظ یہ ہیں

اس زمانے میں ایک عجیب معاملہ پیش آیا۔ میں ایک لڑکے پر عاشق ہو گیا۔ اس کا نام بابری تھا۔ یہاں تک کہ میں دیوانہ اور رسوا ہو گیا۔

وہ لکھتا ہے کہ میں اس کے لیے شعر کہتا تھا، اس کی گلیوں میں پھرتا تھا۔ ایک بار میں نے اس کے لیے یہ فارسی شعر کہا

 "کوئی شخص مجھ جیسا عاشق اور دیوانہ اور رسوا نہیں ہو گا  کوئی معشوق تجھ جیسا بے رحم نہیں ہو گا”

یہ دنیا کی تاریخ میں واحد جگہ ہے جہاں ایک اتنا بڑا بادشاہ، جو کل ہندوستان کا مالک بننے والا ہے، وہ خود کہہ رہا ہے کہ میں عاشق ہو کر پاگل ہو گیا۔

❤️یہ محبت کیا تھی؟

آج کے لوگ اس بات کو غلط سمجھتے ہیں۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس زمانے میں وسط ایشیا میں یہ رواج عام تھا۔ ہرات، سمرقند، بخارا میں جوان خوبصورت لڑکے محبوب کے طور پر مشہور ہوتے تھے۔ شاعر ان کے لیے شعر کہتے تھے۔ یہ عشق جسمانی نہیں، بلکہ ادبی اور روحانی عشق سمجھا جاتا تھا۔ جیسے آج کل فلمی ہیرو کے لیے دیوانہ ہونا۔

بابر بھی اسی ماحول کا آدمی تھا۔ وہ خود بہت نازک دل شاعر تھا۔ اس نے بابری کو دیکھا اور اس کا دل اس پر آ گیا۔

لیکن بابری بابر سے دور بھاگتا تھا۔ بابر جب اس کی طرف جاتا، وہ شرما کر چلا جاتا۔

📝بابر لکھتا ہے کہ میں اس کے پیچھے باغوں میں، بازاروں میں پھرتا رہتا۔ میرے دوست مجھ پر ہنستے کہ بابر بادشاہ ہو کر ایسا دیوانہ ہو گیا ہے۔

ایک دن بابر نے بابری کو ایک مجلس میں دیکھا۔ وہ وہاں بیٹھا تھا۔ بابر اسے دیکھ کر اتنا گھبرا گیا کہ اس کی زبان سے کچھ نہ نکلا۔

❗پھر کیا ہوا؟

یہ عشق زیادہ دن نہ چلا۔ بابر کو ہرات سے نکلنا پڑا۔ اس کی سلطنت خطرے میں تھی۔ وہ کابل واپس چلا گیا۔ لیکن بابر بابری کو نہیں بھولا۔ جب وہ کابل کا بادشاہ بنا تو اس نے بابری کو اپنے دربار میں بلا لیا۔ اسے اپنا خاص خادم بنا دیا۔

بابر نامہ میں لکھا ہے کہ بعد میں جب بابر نے ہندوستان فتح کیا، پانی پت کی لڑائی کے بعد، تو بابری بھی اس کے ساتھ تھا۔

لیکن بابری کی قسمت خراب تھی۔ آگرہ کے قریب ایک ندی میں وہ ڈوب کر مر گیا۔ بابر کو اس کی موت کا بہت دکھ ہوا۔ اس نے اپنی کتاب میں اس کا غم بھی لکھا۔

2️⃣دوسری محبت – بی بی مبارکہ

بابر کی زندگی میں ایک اور سچی محبت بھی تھی۔ وہ ایک عورت کی محبت تھی۔

جب بابر کابل میں تھا تو اس نے یوسفزئی قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کی۔ اس کا نام بی بی مبارکہ تھا۔ وہ یوسفزئی سردار کی بیٹی تھی۔ بابر نے اس سے محبت کی شادی کی تھی، سیاسی شادی نہیں۔ وہ اس سے بہت محبت کرتا تھا۔

بعد میں جب بابر نے اپنی بیٹی گل بدن بیگم کو یاد کیا تو اس نے ہمایوں نامہ میں لکھا کہ بابر بی بی مبارکہ سے بہت محبت کرتا تھا۔

☀️بابر کی سچائی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

بابر کی اس کہانی سے ہمیں تین باتیں پتہ چلتی ہیں۔

پہلی بات یہ کہ بڑے سے بڑا بادشاہ بھی انسان ہوتا ہے۔ اس کے دل میں بھی محبت آتی ہے۔ بابر تلوار کا بادشاہ تھا لیکن دل کا شاعر تھا۔ دوسری بات یہ کہ بابر دنیا کا سب سے سچا بادشاہ تھا۔ کوئی بادشاہ اپنی کمزوری نہیں لکھتا۔ سب اپنی تعریف لکھتے ہیں۔ لیکن بابر نے لکھا کہ میں عاشق ہو کر پاگل اور رسوا ہو گیا۔ یہ سچائی آج تک کسی بادشاہ میں نہیں دیکھی گئی۔

تیسری بات یہ کہ تزک بابری صرف جنگ کی کتاب نہیں، دل کی کتاب ہے۔ اس میں بابر نے ہرات کے باغوں کا، وہاں کے خربوزوں کا، وہاں کے لوگوں کا، اپنی محبت کا، اپنی شراب کا، اپنے گناہوں کا سب کچھ لکھا۔ اسی لیے یہ کتاب آج بھی زندہ ہے۔

ہمایوں، اکبر، جہانگیر سب نے یہی سچائی بابر سے سیکھی۔

آج جب ہم تاج محل دیکھتے ہیں تو شاہ جہاں کی محبت یاد آتی ہے۔ لیکن شاہ جہاں نے اپنی محبت کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ بابر نے لکھا۔ اسی لیے بابر کی محبت چھوٹی ہونے کے باوجود زیادہ سچی لگتی ہے۔

❕کیا تمہیں لگتا ہے کہ ایک بادشاہ کو اپنی محبت کا ایسے کھلے عام اعتراف کرنا چاہیے تھا؟ یا بابر کو یہ بات اپنی کتاب میں نہیں لکھنی چاہیے تھی؟ اپنی رائے ضرور لکھو۔

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

📎 پوسٹ اچھی لگی ہو تو لائک کردیجیے گا۔ اس طرح کی مزید مستند اور معلوماتی تاریخی پوسٹس اور ویڈیوز دیکھنے کے لیے پیج کو فالو کر کے ہمارے ساتھ جڑے رہیے۔ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں کہ آپ اگلی پوسٹ کس تاریخی شخصیت یا واقعے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ 📍یہ پوسٹ پہلے ہی سکرپٹ کی صورت میں استعمال ہوا ہے۔

⚠️ یہ پوسٹ تحقیق کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بغیر اجازت کاپی کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا اخلاقی اور قانونی طور پر درست نہیں History books

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#ظہیر_الدین_بابر_کی_محبت #تزک_بابری_کا_راز #ہرات_کی_محبت_کی_کہانی #بابری_اندجانی_کا_قصہ #مغل_بادشاہ_کا_عشق #بابر_نامہ_کا_سچا_واقعہ #پانی_پت_سے_پہلے_کی_محبت #کابل_سے_ہرات_تک #HistoryBooks