اکیسویں صدی کے صوفی
خواجہ شمس الدین عظیمی رحمتہ اللہ علیہ
تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ : وراثت۔۔تحریر ۔۔۔ ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی) لیے پہلا سبق ”ادب“ ہے۔
قلند با بااولیاء نے فرمایا سلوک کے راستے پر گامزن رہنے کے لیے ضروری ہے کہ علوم کے حصول اور ترقی کو اللہ تعالی کی دی ہوئی توفیق سمجھا جائے۔ روحانی علوم کے انعامات کو اپنی ذاتی کوشش نہ سمجھا جائے۔ باادب بانصیب، بے ادب بے نصیب۔ سالک کی زندگی کیلئے مشعل راہ ہے۔[ صدائے جرس، روحانی ڈائجسٹ]
مراقبه :انسانی صلاحیتوں سے زیادہ اچھی طرح کام لینے ، علم حصولی اور علم حضوری دونوں طرح کے علوم کی استعداد بڑھانے اور دیگر کئی مقاصد کے لیے مراقبہ ایک مفید و موثر عمل ہے۔
مراقبہ اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کا صدیوں پرانا معمول ہے۔ اپنے کثیر الجہتی مفید اثرات کی وجہ سے مراقبہ صدیوں سے مشرق کی کئی تہذیبوں میں معروف اور رانج رہا ہے۔ اب مغرب اور دیگر خطوں ترقی یافتہ ممالک میں بھی سائنس دان، ماہرین نفسیات، نیورولوجسٹ اور دیگر شعبوں کے ماہرین مراقبے کے اثرات پر تحقیقات کر رہے ہیں۔
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے اراکین سلسلہ کو اور اپنے قارئین کو مراقبہ کی افادیت کے بارے میں بتایا۔ آپ نے صوفیانہ روایات کے ساتھ سائنسی تحقیقات کو بھی پیش نظر ر کھا۔ مراقبہ ایک مشق ہے، ایک طرز فکر ہے اور ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جو خوابیدہ حواس کو بیدار اور متحرک کر دیتی ہے۔ مراقبہ کے ذریعے ان قوتوں کو تسخیر کیا جاتا ہے جو مادی حواس سے ماوراء ہیں۔
مراقبہ سے ماورائی صلاحیتیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ مراقبہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں رائج رہا ہے۔ روحانی، نفسیاتی اور طبعی حیثیت سے مراقبہ کے بے شمار فوائد ہیں۔ [ مراقبہ ]
روح
سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒ نے انسان کی اصل یعنی روح کی اہمیت واضح کرتے ہوئے اس حقیقت کو نمایاں کیا کہ انسانی وجود جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ آپ نے انسانوں کو اس جانب متوجہ کیا کہ جسم ایک عارضی میڈیم ہے۔ روح اس دنیا میں مادی جسم کو عارضی طور پر استعمال کرتی ہے۔ حضرت خواج شمس الدین قیمی بی فرماتے ہیں
زندگی کا قیام روح پر ہے اور جسمانی تقاضے جن بنیادوں پر قائم ہیں وہ روح کی تحریکات ہیں۔ روح زندگی کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنا ایک میڈیم بناتی ہے۔ “ [ تو جیہات ]
حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے یہ آگہی عام کی کہ روحانی تقاضوں کو نظر انداز کرنے سے انسان اپنے وجود کے مستقل حصہ سے لا تعلق ہو جاتا ہے۔ یہ لا تعلقی انسان کے لیے شدید عدم توازن کا سبب بنتی ہے۔
علم اور اخلاق : حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ نے قوم خصوصانی نسل کو علم کے حصول کی مسلسل تلقین کی۔ آپ اس امر پر زور دیتے رہے کہ ماڈرن ایجو کیشن اور دینی و روحانی علوم حاصل کرنے پر یکساں توجہ دی جائے۔ حصول علم کی تلقین اور ترغیب کے ساتھ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ اخلاق بہتر بنانے کی بہت زیادہ تاکید فرماتے تھے۔
آپ نے یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش کی کہ علم مادی ہو یا روحانی، اس کا اثر انسان کے فکر و عمل میں عاجزی، شکر گزاری اور احساس ذمہ داری کی صورت میں ظاہر ہونا چاہیے۔
سلسلہ عظیمیہ کا بنیادی نصب العین علوم کا فرغ ہے۔ انبیاء کی طرز فکر کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ ن شیرہ کے اراکین پر لازم ہے کہ وہ موجودہ دور کے رائج علوم حاصل کریں اور لوگوں کو باطنی علوم اور سائنسی علوم سکھائیں۔ بین تیمیہ روحانی اور سائنسی دونوں علوم کے فروغ میں دلچپسی رکھتا ہے کیونکہ سائنسی علوم (فنرکس) اور روحانی علوم (میٹا فزکس) دونوں اپنے اپنے دائرہ کار میں کائنات کی حقیقت کی تلاش میں ہیں“۔[اسوہ حسنہ کی روشنی میں تعمیر شخصیت ]
روحانی اور لاشعوری صلاحیتیں : صوفی بزرگ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی ؒنے واضح کیا کہ روحانی تربیت کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ انسان کو اللہ کی نشانیوں میں تفکر کرتے ہوئے، اللہ کی اطاعت کی ترغیب دی جائے۔ انسان اپنی شعوری کیفیات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ لاشعوری صلاحیتوں سے بھی آگاہ ہو۔ اس آگاہی کا ایک نتیجہ باطنی نگاہ کی بیداری ہے۔ آپ انسان کی اس آگہی کو اپنے روحانی وجود کو سمجھنے اور روحانی قوتوں سے استفادہ کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔
اہل روحانیت نے اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اگر آدمی اپنے قلب، اپنے من کے اندر سفر کرے تو اس کے اوپر روح کی قوتوں کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ “ [کتاب مراقبہ ]
علم حصولی اور علم حضوری : روحانی علوم کے استاد حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی نے علم حصولی کے ساتھ علم حضوری کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ آپ نے جدید تعلیم یافتہ افراد کو علم حضوری کی صلاحیتیں بڑھانے کی ترغیب دی۔ آپ نے واضح کیا کہ علم حضوری سے استفادہ کرنے والا قدرت کے نظام کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ علم کی دو اقسام ہیں۔ علم کی ایک قسم کا نام علم حضوری ہے اور دوسری کا نام علم حصولی ہے۔ یعنی ایک علم یہ ہے کہ آدمی اپنی کوشش، محنت جد و جہد اور صلاحیتوں کے مطابق ظاہری اسباب میں رہ کر کوئی علم سیکھتا ہے اور اس علم میں مادی وسائل بروئے کار آتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں علم کی دوسری قسم علم حضوری ہے۔ علم حضوری ایک ایسا علم ہے۔ جو مادی وسائل کا محتاج نہیں ہے۔ اس علم کو سیکھنے کے لئے کاغذ، قلم، دوات کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ یہ علم مادی وسائل سے ماوراء ہے۔
بشکریہ ماہنا مہ روحانی ڈائجسٹ مارچ 2026
![]()

