“دو مشرق اور دو مغرب” — سورج سال بھر ایک ہی جگہ سے کیوں طلوع نہیں ہوتا؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)ہم میں سے اکثر لوگ روزمرہ بول چال میں یہ سادہ جملہ دہراتے ہیں کہ “سورج مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتا ہے”۔ بظاہر یہ بات بالکل درست معلوم ہوتی ہے، لیکن اگر آپ سال کے بارہ مہینے روزانہ صبح کے وقت کسی کھلے میدان یا چھت پر کھڑے ہو کر افق کا بغور مشاہدہ کریں تو ایک حیران کن فلکیاتی حقیقت سامنے آئے گی: سورج سال کے 365 دن افق کے عین ایک ہی نقطے سے طلوع نہیں ہوتا۔
کبھی اس کے طلوع ہونے کا مقام شمال کی جانب سرک جاتا ہے اور کبھی جنوب کی طرف ڈھل جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح شام کے وقت اس کے ڈوبنے کی جگہ بھی مغرب کے افق پر مستقل دائیں بائیں حرکت کرتی رہتی ہے۔
قرآنِ حکیم نے چودہ سو سال قبل کائنات کے اس باریک اور منظم فلکیاتی توازن کو ایک بے مثل اور دلنشین آیت میں یوں سمیٹا ہے:
﴿رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ﴾
ترجمہ: “وہ دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا پروردگار ہے۔”
حوالہ: سورۃ الرحمن، آیت نمبر 17
یہاں یہ سوال ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ عام فہم مشرق و مغرب تو ایک ایک ہی جانے جاتے ہیں، پھر قرآن نے “دو مشرقوں” اور “دو مغربوں” کی تخصیص کیوں فرمائی؟ جدید علمِ فلکیات (Astronomy) اور زمینی حرکیات اس کے پیچھے کون سے طبعی قوانین آشکار کرتی ہیں؟
1. زمین کا 23.4 درجے جھکاؤ — موسموں اور زاویوں کا راز
سورج کے طلوع و غروب کے مقامات کا روزانہ بدلنا دراصل خود سورج کے ہلنے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا دارومدار زمین کے اپنے محور کے گرد گھومنے کے انداز پر ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) کے مطابق زمین اپنے مدار پر بالکل سیدھی 90 درجے کی پوزیشن میں سورج کے گرد نہیں گھومتی، بلکہ اس کا گردشی محور اپنے مداری مستوی (Orbital Plane) کے مقابلے میں تقریباً 23.4 درجے جھکا ہوا ہے جسے سائنسی زبان میں Axial Tilt کہا جاتا ہے۔
یہی وہ جھکاؤ ہے جس کے باعث سال کے چھ ماہ شمالی نصف کرہ (Northern Hemisphere) سورج کی طرف مائل رہتا ہے اور باقی چھ ماہ جنوبی نصف کرہ (Southern Hemisphere) سورج کے سامنے جھکا رہتا ہے۔ زمین کے اسی سالانہ سفر سے نہ صرف موسم بدلتے ہیں بلکہ زمین پر رہنے والے ناظر کے لیے افق پر سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے زاویے بھی مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
2. دو انتہائیں — گرمیوں اور سردیوں کے دو مشرق اور دو مغرب
سال کے دوران طلوع اور غروب کی اس حرکت کی دو انتہائیں یعنی انتہائی حدود (Extreme Limits) بنتی ہیں جنہیں علمِ فلکیات میں سولسٹس یعنی Solstice کہا جاتا ہے:
پہلا مشرق اور پہلا مغرب (June Solstice):
20 یا 21 جون کے آس پاس، جب شمالی نصف کرہ سورج کے سامنے زیادہ سے زیادہ جھکا ہوتا ہے، تو سورج اپنے طلوع کے انتہائی شمالی نقطے (شمال مشرق) سے نمودار ہوتا ہے۔ یہ گرمیوں کے عروج کا وقت ہوتا ہے جب دن سب سے طویل اور دوپہر کے وقت سورج آسمان میں بلند ترین مقام پر چمکتا ہے۔ اسی دن سورج اپنے انتہائی شمال مغربی نقطے پر غروب ہوتا ہے۔
دوسرا مشرق اور دوسرا مغرب (December Solstice):
ٹھیک چھ ماہ بعد، 21 یا 22 دسمبر کو جب زمین کا دوسرا رخ جھکتا ہے تو سورج اپنے طلوع کے انتہائی جنوبی نقطے (جنوب مشرق) سے نکلتا ہے۔ اس دن شمالی نصف کرے میں سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے اور سورج اپنے انتہائی جنوب مغربی مقام پر ڈوب جاتا ہے۔
کلاسیکی مفسرین نے بغیر کسی جدید دوربین یا سیٹلائٹ کے، خالص فطری مشاہدے اور عربی فہم سے اس آیت کی یہی تشریح فرمائی:
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری نے اپنی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس، مجاہد، قتادہ اور ابن زید سے نقل فرمایا کہ “المشرقین” سے مراد گرمیوں کا انتہائی مشرق اور سردیوں کا انتہائی مشرق ہے، اور “المغربین” سے مراد گرمیوں اور سردیوں کے ڈوبنے کے دو انتہائی مقامات ہیں۔
عماد الدین ابن کثیر نے بھی صراحت کے ساتھ لکھا کہ اس سے مراد گرمی اور سردی کے الگ الگ مشرق و مغرب (مشرقي الصيف والشتاء ومغربي الصيف والشتاء) ہیں۔
3. قرآنی الفاظ میں تدبر — مفرد، تثنیہ اور جمع کا اعجاز
قرآنِ کریم میں مشرق اور مغرب کا تذکرہ تین مختلف نحوی صورتوں میں آیا ہے، اور جدید فلکیات کے مشاہدے سے ان تینوں تعبیرات کی درستگی اور بلاغت کھل کر سامنے آتی ہے:
واحد کی صورت — ﴿رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ﴾ (سورۃ المزمل: 9):
یہاں مشرق اور مغرب سے مراد کائنات کی دو بنیادی سمتیں ہیں، یعنی روشنی کے پھوٹنے کی مجموعی جہت اور تاریکی کے چھا جانے کی مجموعی سمت۔
تثنیہ کی صورت — ﴿رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ﴾ (سورۃ الرحمن: 17):
اس سے مراد سال بھر کے دوران طلوع و غروب کی وہ دو انتہائی سالانہ حدود (Summer and Winter Solstices) ہیں جن کے درمیان سورج کی پوری آمد و رفت مقید رہتی ہے۔
جمع کی صورت — ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ﴾ (سورۃ المعارج: 40):
ان دو انتہائی حدود کے درمیان سال کے 365 دنوں میں ہر روز سورج افق کے ایک بالکل نئے نقطے سے طلوع اور ایک نئے نقطے پر غروب ہوتا ہے۔ یوں سال کے جتنے دن ہیں، افق پر اتنے ہی مشرق اور اتنے ہی مغرب وجود میں آتے ہیں۔
امام ابن کثیر نے سورۃ الرحمن کی تفسیر میں خود واضح فرمایا کہ سورۃ المعارج میں مشارق و مغارب کی جمع اس لیے لائی گئی کیونکہ ہر روز کے طلوع و غروب کا افقی مقام پچھلے دن سے قدرے مختلف ہوتا ہے۔
4. ایکوینوکس (Equinox) — حسابی توازن کا درمیانی نقطہ
جون اور دسمبر کی ان دو انتہاؤں کے درمیان سال میں دو دن ایسے بھی آتے ہیں جب سورج نہ شمال کی طرف مائل ہوتا ہے اور نہ جنوب کی طرف۔ انہیں سائنسی اصطلاح میں مارچ اور ستمبر کے Equinoxes کہا جاتا ہے۔
ان دنوں زمین کا محور سورج کے بالکل متوازی ہوتا ہے، دن اور رات کا دورانیہ بالکل برابر (12، 12 گھنٹے) ہو جاتا ہے، اور سورج افق پر عین حقیقی مشرق (True East) سے نکل کر عین حقیقی مغرب (True West) میں ڈوبتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی اگلی انتہائی حد کی طرف بتدریج سفر شروع کر دیتا ہے۔
5. عام مغالطہ — فاصلہ نہیں بلکہ زاویہ
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ عام غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شاید گرمیوں میں زمین سورج کے زیادہ قریب آ جاتی ہے اور سردیوں میں دور چلی جاتی ہے۔
سائنس اس مغالطے کو سختی سے رد کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنوری کے مہینے میں جب ہمارے ہاں کڑاکے کی سردی پڑ رہی ہوتی ہے، زمین اپنے بیضوی مدار کے باعث درحقیقت سورج کے سب سے زیادہ قریب (Perihelion) ہوتی ہے۔ موسموں کی تبدیلی اور طلوع و غروب کے مقامات کے کھسکنے کا اصل راز فاصلہ نہیں بلکہ زمین کا وہی 23.4 درجے کا محوری جھکاؤ (Axial Tilt) ہے جس نے آسمان کی وسعتوں میں مشرقوں اور مغربوں کا ایک حسابی نظام برپا کر رکھا ہے۔
حاصلِ کلام
سورۃ الرحمن کی آیت 17 خالقِ کائنات کی باریک بین تدبیر اور اس کائنات کے اٹل ریاضیاتی نظم کا ایک درخشاں ثبوت ہے۔
زمین کے 23.4 درجے محوری جھکاؤ کے نتیجے میں طلوع و غروب کے مقامات کا سال بھر بدلنا، موسموں کا حسن ترتیب پانا اور افق پر جون اور دسمبر کے دو انتہائی مشرقوں اور مغربوں کا قائم ہونا—یہ تمام مظاہر اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ کائنات کا یہ پہیہ خودبخود نہیں چل رہا، بلکہ اس کے پیچھے ایک قادرِ مطلق کی ربوبیت کارفرما ہے۔
قرآنِ پاک کا مفرد، تثنیہ اور جمع کے ذریعے مشرق و مغرب کے تمام ظاہری اور باطنی زاویوں کا احاطہ کرنا اس الہامی کلام کی اعجازی وسعت کو ظاہر کرتا ہے، جو انسان کو اس نظامِ شمسی کے پیچیدہ اور خوبصورت میکانزم پر تدبر کی دعوت دے کر اس کے رب کی عظمت کے سامنے جھکنے کا شعور بخشتا ہے۔
#قرآن_اور_سائنس #سورۃ_الرحمن #فلکیات #دو_مشرق_دو_مغرب #زمین_کا_جھکاؤ #سولسٹس #تدبر_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الرحمن، آیت نمبر 17
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ المعارج، آیت نمبر 40
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ المزمل، آیت نمبر 9
حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ الرحمن
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ الرحمن و سورۃ المعارج
حوالہ: سائنسی دستاویزات، ناسا سائنس (NASA Science) — ارتھ فیکٹس: محوری جھکاؤ، مدار اور موسمی چکر
حوالہ: فلکیاتی ڈیٹا، ناسا ارتھ آبزرویٹری (NASA Earth Observatory) — ایکوینوکس اور سولسٹس کی پیمائش اور افقی زاویے
![]()

