اللہ تعالی کے نور کی تفہیم

آیتِ مبارکہ میں پروردگارِ عالم نے اتنی مجرد اور علامتی گفتگو فرمائی ہے کہ جب تک بعض الفاظ واضح نہ ہوں، اس وقت تک آیت کے مفہوم کے واضح ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔
​پہلا جز آیتِ مبارکہ کا:
"اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”
​اللہ آسمانوں کا اور زمین کا نور ہے۔ یعنی اس کائنات میں، زمین و آسمان میں جتنی بھی نورانیت پائی جاتی ہے، جس مقدار میں بھی نورانیت پائی جاتی ہے، اس نورانیت کا سببِ حقیقی خود پروردگارِ عالم ہے۔
​اس لیے کہ نور کی جو تعریف کی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ النور:
"الظَّاهِرُ لِنَفْسِهِ وَالْمُظْهِرُ لِغَيْرِهِ”
​نور اسے کہتے ہیں جو خود ظاہر ہو اور دوسری شے کو ظاہر کر دے۔ یہ نور کی تعریف ہے۔ نور اور روشنی اس شے کو کہتے ہیں جو خود ظاہر و آشکار ہو اور دوسری شے اس کی روشنی میں ظاہر ہو جائے۔
​تو اب پروردگارِ عالم آسمان و زمین کا نور ہے، اس سے زیادہ ظاہر شے کون سی ہو سکتی ہے؟ وہی اس کائنات میں نور کا خلق کرنے والا ہے، وہی اس کائنات کو نورانیت بخشنے والا ہے۔
​اب وہ جو نورانیت اس کائنات میں آئی ہے، اس کے نور کی نورانیت وہ کس ذریعے سے آئی؟ اب آگے گفتگو:
"مَثَلُ نُورِهِ”
​اس کے نور کی ایک مثال ہے۔
​دیکھیں، اب ایک لفظ آ گیا اور میں اپنے سننے والوں کو یہاں روک رہا ہوں۔ آیت کا ترجمہ میں عرض کر چکا۔ "مَثَلُ نُورِهِ” — اس کے نور کی ایک مثال ہے۔
​دیکھیں، دو لفظ ہیں ابھی یہاں۔ ایک ہے ‘مَثَل’ — میم، ثاء، لام (میم پہ زبر، ثاء پہ زبر)۔ اور ایک ہے ‘مِثْل’ (میم کو زیر، ثاء کو جزم)۔
​بھئی ‘مَثَل’ میں اور ‘مِثْل’ میں فرق کیا ہے؟
‘مِثْل’ کے معنی ذات کے مشابہ ہونا اور ‘مَثَل’ کے معنی صفات کے مشابہ ہونا۔
​اب میں اپ کی خدمت میں اس کی مثال پیش کر دوں۔ ‘مِثْل’ کے معنی ذات کے مشابہ ہونا:
"لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ”
​اس کی ذات کے مثل کوئی شے کائنات میں نہیں ہے۔ تو پروردگارِ عالم کی ذات کی کوئی مثل اس پوری کائنات میں نہیں پائی جاتی۔ اور ‘مَثَل’ کے معنی اس کے صفات کا مظہر، اس کے صفات کے مشابہ۔ "مَثَلُ نُورِهِ” — اس کے نور کی ایک مثال اور اس کے نور کا ایک مظہر اس کائنات میں موجود ہے۔
​اب وہ کون ہے جو اللہ کے نور کی مثل ہے؟ ہم قرآن ہی سے پوچھیں۔ تو سورۂ زخرف میں (۴۵ واں سورہ ہے قرآنِ مجید کا) پروردگارِ عالم نے ایک نبی کے لیے لفظِ ‘مَثَل’ استعمال کیا۔
​حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ فرماتے ہوئے قرآنِ مجید نے کہا:
"إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ”
​”تم اسے خدا مانتے ہو” — عیسائیوں سے خطاب — "وہ ہمارا ایک بندہ ہے۔ عیسیٰ ہمارا ایک بندہ ہے، بس فرق یہ ہے کہ ‘أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ’ ہم نے اس کے اوپر اپنی نعمتیں اتاریں۔ ‘وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا’…”
وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ”
اور ہم نے قومِ بنی اسرائیل کے لیے اسے اپنی مثل قرار دیا ہے۔
تو عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں اللہ کی مثل ہیں۔ اللہ کے صفات کا نمونہ ہیں، اللہ کے صفات کا مظہر ہیں۔
اگر یہ بات واضح ہو گئی، تو مجھے جملہ کہنے کی اجازت دیں کہ وہ انسان جو منصبِ نبوت پہ ہو، وہ انسان جو منصبِ ہدایت سے ہو، اصطلاحِ قرآنی میں وہ اللہ کی مثل ہے۔
اتنی تو بات واضح ہوئی نا؟ عیسیٰ علیہ السلام اللہ کی مثل ہیں:
"إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ”
ہم نے عیسیٰ کو بنی اسرائیل کے لیے مثل قرار دیا۔ تو عیسیٰ علیہ السلام مثل ہیں۔ اب جو بھی نبی ہو، جو ہادی ہو، جو معصوم ہو، وہ اللہ کی مثل ہے۔
لیکن سورۂ روم میں (تیسواں سورہ قرآن کا)، اس کی ۲۷ ویں آیت میں پروردگارِ عالم نے پھر مثل کا تذکرہ کیا، اور بڑی شان کے ساتھ کیا:
"وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ”
یہ کیا سمجھتے ہو یہ اللہ کون ہے؟ "وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ” — اللہ وہ ہے جس نے اس کائنات کی تخلیق کا آغاز کیا۔ "ثُمَّ يُعِيدُهُ” — اور یہ اللہ ہی ہے جو دوبارہ پلٹا دے گا (یعنی فنا سے نکالا، فنا کی طرف لے جائے گا)۔ "وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ” — کیا سمجھتے ہو اللہ کو؟ اس کے لیے یہ کام انتہائی آسان ہے۔ اللہ کے لیے خلق کرنا، پلٹا دینا، پھر خلق کرنا، پلٹا دینا، انتہائی آسان ہے، اس میں کوئی مشکل ہی نہیں ہے اس کے لیے۔
اور سنو اللہ کون ہے: "وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” — اور آسمان و زمین میں اس کی ایک مثلِ اعلیٰ ہے، بلند ترین مثل اس کی آسمان و زمین میں ایک موجود ہے۔ "وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ” — اور وہ اللہ صاحبِ عزت بھی ہے اور صاحبِ حکمت بھی ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کو سورۂ زخرف میں مثل کہا، اور سورۂ روم میں ارشاد فرمایا کہ کوئی مثلِ اعلیٰ ہے، بلند مثل ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام تو نہیں ہو سکتے، اس لیے کہ وہ فقط مثل ہیں۔
اور کوئی ایسا ہے جو پروردگار کی نگاہ میں مثلِ اعلیٰ ہے۔ وہ ہے کون؟ اس کی پہچان کیا ہے؟ اس کی شناخت کیا ہے؟ اس کا تشخص کیا ہے؟ اسے ہم کیسے پہچانیں؟ تو لفظ خود رکھ دیا ہے: "وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”۔ یہ مثلِ اعلیٰ تنہا مکے میں نہیں ہے، تنہا زمین پہ نہیں ہے؛ یہ مثلِ اعلیٰ آسمانوں میں بھی ہے، یہ مثلِ اعلیٰ زمین پہ بھی ہے۔
تو اب اللہ کی مثلِ اعلیٰ وہ ہوگا کہ جتنا معروف وہ زمین پہ ہو، اتنا ہی معروف وہ آسمان کے اوپر ہو۔ تو نہیں ملے گا مگر ایک ہی شخص ملے گا، جو آسمانوں میں احمد کے نام سے مشہور ہو، زمین پر محمد کے نام سے مشہور ہو!

علامہ طالب جوہری:
#viralpost
#islamicpost

Loading