🍁 قیامت کا سلیبس 🍁
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ذرا اس آیت پر ٹھہریے… اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ ۚ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ (الزخرف: 43-44) — یعنی جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے، اسے مضبوطی سے تھامے رہیے، بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں، اور یقیناً یہ آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے، اور عنقریب تم سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ذرا سوچئے! جس قرآن کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے سوال ہونا ہے، کیا دنیا میں بھی وہی ہماری زندگی کا مرکز ہے؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں، مگر کیا اسے سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟ ہم اسے ثواب کے لیے کھولتے ہیں، مگر کیا اپنے فیصلوں، معاملات اور کردار کی رہنمائی کے لیے بھی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں؟ ہم اس کی تلاوت کرتے ہیں، مگر کیا اپنی خواہشات، نظریات اور تعصبات کو اس کے سامنے جھکاتے ہیں؟ اللہ کے رسول ﷺ قیامت کے دن اپنی قوم کی شکایت کرتے ہوئے عرض کریں گے: يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: 30) — “اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔” قرآن کو چھوڑ دینا صرف یہ نہیں کہ انسان اسے پڑھنا چھوڑ دے؛ کبھی انسان قرآن کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر بھی اپنی زندگی سے دور کر دیتا ہے، اسے گھر میں رکھ کر بھی اپنے فیصلوں میں نظر انداز کر دیتا ہے، اور اسے زبان سے پڑھ کر بھی اپنے کردار میں جگہ نہیں دیتا۔ اختلاف کے وقت ہم مختلف آراء، اقوال اور کتابوں کی طرف دیکھتے ہیں، جو علمی رہنمائی کا حصہ ہیں، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اصل معیار اللہ کی وحی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ (الشوریٰ: 10) — “اور جس چیز میں بھی تم اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کے پاس ہے۔” اس کا مطلب یہ نہیں کہ علماء، فقہاء یا علمی روایت کی اہمیت ختم کر دی جائے، بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ اللہ کا کلام اصل ہے اور انسانی فہم اس کی تشریح اور سمجھ کا ذریعہ ہے۔ ہمیں اپنے دل سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے: جس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لیے نازل فرمایا، وہ ہماری زندگی میں کہاں کھڑی ہے؟ کیا قرآن صرف ہماری الماری میں محفوظ ہے یا ہمارے دل، ہمارے اخلاق، ہمارے معاملات اور ہمارے فیصلوں میں بھی زندہ ہے؟ قیامت کا اصل امتحان صرف یہ نہیں ہوگا کہ ہم نے کتنی آیات یاد کیں، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ اللہ کی کتاب نے ہماری زندگی کو کتنا بدلا۔ اس لیے آج ہی اپنا “قیامت کا سلیبس” دیکھ لیجیے… قرآن ہماری الماری میں ہے یا ہماری زندگی میں؟ کیونکہ آخرکار ہمیں اسی کے بارے میں جواب دینا ہوگا: وَسَوْفَ تُسْأَلُونَ — “اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔” 🍁🤲🏻
![]()






