ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوزانٹرنیشنل۔۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی۔۔۔ کی شاعری میں توحید کا بیان)حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی بر صغیر کے اُن عظیم صوفی شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے توحید، عشق الہی اور معرفت کے نہایت عمیق مضامین کو سادہ مگر پراثر انداز میں بیان کیا۔ آپ کا شہرہ آفاق مجموعہ کلام شاہ جو رسالو نہ صرف سندھی ادب کا سرمایہ ہے بلکہ روحانیت اور تصوف کا بھی ایک روشن مینار ہے۔ آپ کے حمدیہ کلام میں اللہ تعالی کی ذات و صفات، اس کی قدرت، وحدانیت اور جمال و جلال کا حسین امتزاج قاری کے دل میں مخشوع و مخضوع پیدا کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کا بیان
شاہ لطیف اپنے حمدیہ کلام کا آغاز اللہ تعالی کی صفات کا ملہ کے ذکر سے کرتے ہیں:
أول الله عليه، اعلي عالم جو ذَنِي
قادر پنهنجي قدرت سين، قائم آه قديم
والي واحد، وحده، رازق، رب رحيم
سو ساراه سچو دلي، چني حمد حكيم
كري يان كريم، جوڑوں جوز جهان جي
اول نام اللہ کا اعلیٰ اور علیم
قادر اپنی فطرت سے قائم اور قدیم
والی واحد وحده رازق رب رحیم
بڑھ کر ہے ہر حمد سے اس کی حمد حکیم
ہے سارے سنسار کا مالک وہی کریم
شاہ جو رسالو، شهر کلیان ، داستان 1 بیت 1]
یہ اشعار اللہ تعالی کی ہمہ جہت صفات کو جامع از میں بیان کرتے ہیں۔ یہاں علم ، قدرت، از لیت، حدانیت اور ربوبیت کو یکجا کر کے ایک مکمل توحیدی مور پیش کیا گیا ہے۔ شاہ لطیف” کے نزدیک کائنات اہر شے اسی ایک ذات کی تخلیق ہے ، اور اسی خالق کی سب سے برتر ہے۔
جمال و جلال الہی کا عرفانی تصور
شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے کلام میں اللہ تعالی کے سال (حسن) اور جلال (عظمت) دونوں کا نہایت ستیں بیان ملتا ہے:
پاٹھین جل جلالہ، پاٹھیں جان جمال
پاٹھیں صور پرین جی پاٹھیں حسن كمال
پاٹھیں پر مرید لني، پاٹھیں پان خیال
سپ سپوئی حال، منجهان هي معلوم ثني
غیر محدود ہے جلال اس کا
د هر آئینہ جمال اس کا
آپ رہبر ہے آپ ہی راہی
ختم خود اس پر ہے کمال اس کا
اس کا احساس ہر جگہ ہر وقت
کہ ہم گیر ہے خیال اس کا
روح انسان میں جلوہ فرما ہے
پر تو حسن بے مثال اس کا
شاہ جو رسالو، سر کلیان، داستان 1 بیت 16]
ان اشعار میں خالق اور مخلوق کے تعلق کو بہت لطافت سے بیان کیا گیا ہے۔
یہاں خالق اور مخلوق کے تعلق کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ تخلیق میں خالق کا حکم اور خالق کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ تصور انسان کو کائنات میں پھیلی ہوئی خالق حقیقی اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
عشق الہی اور بندگی کا پیغام
شاہ لطیفؒ کے حمدیہ کلام میں عشق الہی کی مرکزی حیثیت ہے۔ شاہ لطیف فرماتے ہیں اے عاشق! محبوب کی دہلیز پر جابیٹھے ، اپنے آپ کو اس کے حضور پیش کر دے، تب ہی تو ہمیشہ سر ضرور ہے گا۔
عاشق معشوقی جو، ولي ويه دكان
پنج پیش پريي جي، يتي، وجهي يان
ته تون تنين سان، سدا رهین سرخرو.
منزل عشق ہے در محبوب
سجدہ ریزی کرد عقیدت سے
کیا عجب تم پہ مہربان ہو جائے
اور نوازے تمہیں محبت سے
کاش مل جائے خوب و زشت کا راز
تمہیں اس رہبر حقیقت سے
شاہ جو رسالو، سر یمن کلیان، داستان 7 بیت 11]
یہاں بندگی کو عشق کے پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی تک رسائی کے لیے خودی کو مٹانا اور عاجزی اختیار کرناضروری قرار دیا گیا ہے۔ یہی صوفیانہ تعلیمات کا بنیادی نکتہ ہے۔
ذکر الہی اور معرفت کا راستہ
شاہ عبداللطیف بھٹائی ذکر الہی اور اسم اعظم کی اہمیت کو نہایت عمدگی سے بیان کرتے ہیں:
جسي بر جبار جو خفي خيمو کورا
جلی توی زبان سین، چارتي پھر چورا
فکر سین فرقان بر ، اسم اعظم دور
؛ بیا در وجي ووژ، اي أمل انانين سيجي
اسم اعظم ہو یا ہو ذکر جلی
ہے بہر طور ایک ہی مفہوم
جیسے ہوتا ہے سیپ میں موتی
ہے یونہی دل میں ذات نامعلوم
غیر کے در سے کچھ نہ پائے گا
اس کے در سے جو ہو گیا محروم
شاہ جو رسالو، سر یمن کلیان ، داستان 5 بیت 8]
یہ اشعار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کی معرفت انسان کے اپنے باطن میں پوشیدہ ہے۔ ذکر ، فکر اور اخلاص کے ذریعے اس خزانے تک رسائی ممکن ہے۔ غیر کے در پر جانے کے بجائے اسی ایک ذات کی طرف رجوع کرنا اصل کامیابی ہے۔ حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا حمدیہ کلام توحید، عشق، معرفت اور بندگی کا ایک جامع اور دلنشیں مجموعہ ہے۔
آپ کے اشعار نہ صرف اللہ تعالی کی صفات کو بیان کرتے ہیں بلکہ انسان کو اس کے خالق سے تعلق جوڑنے کا عملی راستہ بھی دکھاتے ہیں۔ آپ کے کلام میں سادگی کے ساتھ گہرائی، اور عشق کے ساتھ حکمت کا حسین امتزاج حقیقت کے متلاشی قاری کے دل کو ہمیشہ منور کرتار ہے گا۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ شاہ لطیف کا حمدیہ کلام محض شاعری نہیں بلکہ ایک روحانی سفر کی دعوت ہے، ایسا سفر جو انسان کو اپنے رب کی پہچان تک لے جاتا ہے۔