مقام حیرت کی گفتگو ۔۔۔ انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی

مقام حیرت کی گفتگو

انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ مقام حیرت کی گفتگو ۔۔۔ انتخاب ۔  محمد جاوید عظیمی)مریض کے حق میں سب سے زیادہ مضر چیز بد پرہیزی ہے ہم میں سے ہر شخص خواہش نفس کا مریض ہے اگر کوئ شیخ بھی ہے تو وہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اسکی مکمل اصلاح ہوچکی ، وجہ یہ ہے کہ نفس کے اندر جو برے اخلاق ہیں وہ بظاہر ختم ہوچکے مگر موافق حالات آتے ہی دوبارا نمو پا جاتے ہیں جیسے کہ ماچس کی تیلی رگڑ لگتے ہی جل پڑتی ہے ویسے ہی برے اخلاق کا معاملہ ہے انکی طرف سے جو شخص بئفکر ہوا وہی شیطان کا آسان شکار ہے —-

ارباب آخرت کی بد پرہیزی دو قسم کی ہے ایک تو علماء کی بد پرہیزی یعنی امرا و سلاطین سے ملنا جلنا کیونکہ امرا انکے یقین کی قوت کو کمزور کرتے ہیں اور جب اختلاط یعنی میل۔جول زیادہ ہوگا تو یہ اپنے معتقدین کو بھی لے ڈوبیں گے کیونکہ یا تو وہ انکی تقلید کریں گے تو خود بھی امیروں سے تعلقات کو خوبی سمجھیں گے اور آہستہ آہستہ حلال و حرام کی تمیز چھوڑ بیٹھیں گے یا انکے دل میں انکے لئے بد اعتقادی پیدا ہو جائے گی دونوں ہی صورتوں میں دونوں طرفین کا نقصان ہے

عالموں کا یہ حال ہے کہ قرآن اور حدیث یاد کرتے ہیں اسکی معرفت حاصل کرتے ہیں لیکن غیبت کے سلسلے میں چشم پوشی سے کام لیتے ہیں اور تف یہ کہ اسکے لئے حیلہ اختیار کرتے ہیں اور جرح و تعدیل کے بہانے غیبت کرتے ہیں

جواب فورآ دینے کو خوبی سمجھتے ہیں خواہ اس جواب پہ انہیں شرح صدر نہ ہو تاکہ اپنی جاہ مجروح نہ ہو خواہ جواب میں غلطی ہی کیوں نہ ہو جائے ۔

دوسری قسم فقرا یعنی زاہدوں کی بد پرہیزی ہے جو کبھی بڑے بڑے عہدے داروں اور امرا سے اختلاط کی شکل میں ہوتی ہے اور کبھی مصنوعی خشوع کا مظاہرہ کرکے اپنی ناموس کی حفاظت کی صورت میں ہوتی ہے تاکہ عوام کا اعتقاد حاصل کرسکیں انکی اس کوتاہی کی وجہ سے عوام کے دلوں سے انکی عظمت ختم کردی جاتی ہے

شیخ ابو منصور جوالیقی اکثر چپ رہنے والے ، غور وفکر کے بعد گفتگو کرنے والے بہت پختہ محقق تھے اکثر ایسا ہوتا کہ آپ سے کوئ سوال پوچھا جاتا جسکا جواب بچے بھی فورآ دے دیتے لیکن آپ اس میں توقف فرماتے اور جب شرح صدر ہوجاتا تب بتلاتے بہت روزہ رکھنے والے اور بہت خاموش رہنے والے تھے

یاد رکھئے عوام الناس کے حق میں وہی شیخ اور فقیر بہتر ثابت ہوگا جو اپنے علم پہ عمل کرنے والا ہوگا

علم و فقر کا اصل امتحان کردار ہے! آج کا المیہ یہ ہے کہ بعض علماء اور اہلِ فقر کی زبان پر حدیث، ذکر اور نصیحت کے موتی ہوتے ہیں، مگر کردار میں وہی روشنی نظر نہیں آتی جس کا درس دوسروں کو دیتے ہیں؛ مجلس میں تقویٰ کی باتیں، زبان پر سنت کے حوالے، مگر مجلس سے باہر غیبت، دل میں حسد، نگاہ میں خیانت اور تنہائی میں نفس کی غلامی! ایک ہاتھ سے نیکی کا چراغ روشن کرتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے اپنے اعمال کی روشنی بجھا دیتے ہیں۔ قرآن خود تنبیہ کرتا ہے: ’’تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟‘‘ (الصف: ۲) اور یہی وہ مقام ہے جہاں علم حجت بن جاتا ہے، زینت نہیں؛ کیونکہ حدیث پڑھ لینا اور حدیث کے اخلاق اپنا لینا دو الگ منزلیں ہیں۔ البتہ ہر عالم یا فقیر پر منافقت کا حکم لگانا بھی انصاف نہیں؛ اصل بیماری اس وقت ہے جب انسان اپنی اصلاح کے بجائے اپنی نیک نامی کی حفاظت میں لگ جائے۔ یاد رکھو! اللہ کے ہاں لباسِ فقر نہیں، فقر کی سچائی؛ زبان کا وعظ نہیں، کردار کی گواہی؛ اور خلوت کا دعویٰ نہیں، خلوت کی پاکیزگی معتبر ہے۔ جس علم سے دل میں خشیت نہ جاگے اور جس فقر سے نفس نہ ٹوٹے، وہاں دوسروں کے عیب گننے سے پہلے اپنے باطن کا محاسبہ ضروری ہے؛ کیونکہ سب سے خطرناک پردہ وہ ہے جو انسان کو اپنی ہی حقیقت دیکھنے نہ دے۔

وہ خواہ کتنا جاہ و حشمت والا فقیر یا عالم ہو درحقیقت مسکین ہے کیونکہ اس سے دنیا کی لذتیں بھی فوت ہوگئیں اور آخرت کی بھلائیاں بھی

اور وہ اللہ کے حضور اس حال میں پہنچا کہ مفلس تھا اور اسکے خلاف حجت قوی تھی

جنوں میں جو کچھ کہ رہا ہوں

مقام حیرت  کی  گفتگو  ہے

خبر نہیں کسکو دیکھتا ہوں

پتہ  نہیں  کون  روبرو  ہے

اعوذ باللہ من افلاس الدنیا والآخرۃ

حنا عرفان سہروردی

نفحات تصوف سندھ

25 October 2026