ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسان کا کوئی بھی علم Empirical نہیں، بلکہ سارا کا سارا علم logical ہے، کیونکہ انسان کبھی بھی خالص مشاہدہ کو نہیں پکڑ سکتا اور نہ اسکو آگے کسی تک منتقل کر سکتا ہے۔ انسان مشاہدہ کو محض محسوس کر سکتا ہے اور بس۔۔۔۔۔۔۔
فرض کریں آپ نے کوئی سرخ چیز دیکھی۔۔ اب آپ کا دیکھنا بالکل ڈائریکٹ، صاف، واضح اور "ایمپیریکل” ہے جس پر آپ مکمل یقین رکھتے ہیں لیکن جونہی آپ اس چیز کو دوسرے کو منتقل کرنے کیلئے اپنی "زبان یعنی Tongue” پر لاتے ہیں تو آپکو اس کے لیے "زبان یعنی language” کا استعمال کرنا ہوگا، جو ایک لاجیکل و معاشرتی Construct ہے اور آپ نے نہیں بنایا ہے، سو آپکو دوسروں کے بنائے گئے ‘کنسٹرکٹ میں اپنی بات رکھنی ہے جو آپ کے مشاہدہ کی "شدت” کی ایسی کی تیسی پھیر دیتا ہے…. مطلب آپ کا Qualia (فرسٹ ہینڈ تجربہ) ایک تجرید (زبان و الفاظ) میں منتقل ہو جاتا ہے۔ آپ چاہ کر بھی دل پھاڑ کر تو نہیں دکھا سکتے نا۔۔۔
اب
ا) ایمپریکل نالج اس "علم” کو کہا جاتا ہے جو حسی مشاہدہ سے آتا ہے۔
لیکن
ب) خالص حسی مشاہدات کو کسی لفظ یا کسی Concept میں قید نہیں کیا جا سکتا ہے… اس کو براہ راست محسوس کیا جا سکتا ہے اور بس۔۔۔۔
اس لیے
ج) جونہی آپ اس کے بارے میں محض ایک لفظ بھی بولتے ہیں، تو آپ اس مشاہدہ کی خالص شدت کو پامال کر کے اس کو دوسروں کے بنائے گئے ایک linguistic میڈیم میں لے آتے ہیں جو ایک سوشل اور لاجیکل کنسٹرکٹ ہے۔
د) اب یہاں dillema ہے۔۔ اگر اس کو زبان یعنی language میں نہیں لاتے، تو وہ آپکے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اور اگر اسکو زبان پر لاتے ہیں، تو وہ لاجک اور linguistic کا تصور بن جاتا ہے۔
نتیجہ) مشاہدہ حقیقی ضرور ہے، تاہم علم نہیں… علم صرف لاجیکل ہے اور بس۔۔ کوئی امپریکل یا مشاہداتی علم موجود نہیں ہے۔
یاد رہے کہ میں مشاہدہ کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا بلکہ میں محض یہ دعویٰ کر رہا ہوں کہ الفاظ و تصورات مشاہدہ کی حقیقت کو "پورا” بیان کرنے سے قاصر ہے… ایسا نہیں ہے کہ "بالکل” بیان کرنے سے ہی قاصر ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ ہم مشاہدے کو آخرکار تو الفاظ اور زبان کے ذریعہ ہی بیان کرتے ہیں، کیونکہ اس کے سوا تو ہمارے پاس رونا، ہنسی اور باقی Non verbal چیزیں ہی رہتی ہے، جو زبان سے کم درجہ کی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس جن "مشاہدات” کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں ہوتے تو وہ ہمیں بہت زیادہ "تنگ” کرتے رہتے ہیں، کیونکہ وہ "ناقابلِ بیان” جو ہے…. مطلب ہمارے دل میں بہت کچھ ہوتا ہے، لیکن ہم اسکو بیان ہی نہیں کر پاتے سو وہ دل پر بوجھ بنے رہتے ہیں۔
اسی طرح جس شخص کی Vocabulary کمزور ہوتی ہے تو وہ بیچارہ قابلِ بیان مشاہدہ کو بھی اپنے سے باہر نہیں نکال پاتا ہے، کیونکہ اس کے پاس الفاظ کی قلت ہوتی ہے۔ وہ اپنے مشاہدہ کے اظہار کے لئے مطلوب الفاظ جانتا ہی نہیں ہے سو خاموش رہ جاتا ہے یا "100 فیصد” میں سے محض 1 فیصد ظاہر کر دیتا ہے اور باقی اندر رہ جاتا ہے۔۔ ہم انسان کو تاریخ کے آغاذ سے ہی شاعر و ادیب اسیلیے اچھے لگتے ہیں کیونکہ وہ "ہمارے مشاہدات” کو ہم سے کئی گنا بہتر الفاظ میں بیان کر دیتے ہیں۔۔۔۔ ہم اگر اپنے مشاہدہ کا 1 فیصد باہر نکال پاتے ہیں، تو شاعر و ادیب ہم سے 20 گنا زیادہ باہر نکال پاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے الفاظ سے زیادہ ان کے الفاظ سے relate کر پاتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کو اپنے سٹیٹسز پر لگاتے رہتے ہیں۔
اگر کسی معاشرہ کی زبان میں کسی ‘”خاص مشاہدہ”’ کے لئے الفاظ موجود نہیں ہے، تو وہ معاشرہ اس "مشاہدہ” کے تصور تک سے بھی آگاہ نہیں ہوتا ہے اور انکو بحیثیت مجموعی یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ ایسی کوئی چیز بھی وجود رکھتی ہے۔۔ اس وجہ سے انکی زندگی پر بھی اچھا خاصا فرق آتا ہے اور انکی بعض خاص Skills (جو ان غیربیان شدہ مشاہدات سے متعلق ہے) باقی انسانوں سے زیادہ بہتر یا کم بہتر ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔ سائنسدانوں نے بہت سارے Indigenous گروہوں پر اس حوالہ سے تحقیقات کی ہوئی ہے جس کو آپ پڑھ سکتے ہیں۔۔۔۔ اسی وجہ سے مشہور فلسفی لڈوگ وٹنگسٹائن نے کہا تھا کہ
Limit of my words is limit of my world…..
یاد رہے
بہت سارے لوگوں کے دماغ میں ایسے بھی بےشمار مشاہدات ہوتے ہیں، جنکو وہ محض اسلیے بیان نہیں کر سکتے کیونکہ انکے پاس ان مشاہدات کے لیے موزوں الفاظ و نام نہیں ہوتے ہیں۔ وہ شدت سے اس کو محسوس تو کر رہے ہوتے ہیں، تاہم اس کو بیان کن "خاص الفاظ” میں کرنا ہے کیسے کرنا ہے اور اسکا نام کیا ہے وغیرہ تو یہ سب ان کو پتہ نہیں ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ ایک قسم کی "بےچینی” سی محسوس کرتے ہیں۔۔ اس سب کے بعد جب وہ کسی تحریر یا ریسرچ میں ان مشاہدات کیلیے کوئی "خاص” نام دیکھتے ہیں یا پھر موزوں الفاظ میں اس مشاہدے کی ڈسکرپشن دیکھتے ہیں تو ان کو یہ سب بالکل ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتا ہے اور وہ اس چیز کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں، کیونکہ یہ بالکل اس طرح ہے جیسے ان کو زبان مل گئی ہو۔۔۔۔۔۔ ظاہر ہے کہ اب وہ اپنے مشاہدے کو صحیح سے express کر پاتے ہیں کیونکہ ان کو موزوں الفاظ اور نام جو مل گئے ہیں۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ
ا) انسان کا مشاہدہ الفاظ یعنی کہ "زبان” کے بغیر صرف ایک پرائیویٹ چیز ہے اور یہ پبلک زبان سے بنتا ہے جو Social و لاجیکل کنسٹرکٹ ہے۔
ب) علم پرائیویٹ نہیں ہوتا ہے بلکہ پبلک ہوتا ہے۔
نتیجہ) اسوجہ سے علم کبھی بھی ایمپیریکل نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ لاجیکل ہوتا ہے….. کیونکہ مشاہدہ کو پبلک بنانے والی چیز زبان ہے۔
یہاں اس کی ایک خاص Implication جاننا ضروری ہے۔ اگر Limit of My Words is limit of My World حقیقت ہے، تو کیا ہمارے زبان یعنی کہ (ورڈز) کی limit سے باہر حقیقت وجود رکھتا ہے؟ جی بالکل، رکھتا ہے بلکہ اصل حقیقت کا تو وجود ہی ہمارے زبان سے باہر ہے۔۔
دیکھیں
ا) ہماری زبان ان مشاہدات پر لاگو ہوتی ہے جو ہمارے حواس نے Perform کیے ہوتے ہیں۔
ب) ہمارے حواس اصل حقیقت کو کبھی پکڑ ہی نہیں سکتے بلکہ وہ محض حقیقت کے بہت ہی چھوٹے ٹکڑے تک محدود ہے۔ مثال کے طور پر ہماری آنکھ EM ویوز کا محض 0.035 فیصد ہی دیکھ سکتا ہے اور باقی کچھ نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔
ج) اب جس چیز کا ہم نے کبھی "مشاہدہ” ہی نہیں کیا ہے تو اس کا ہمیں نام بھی معلوم نہیں ہوگا۔
د) ہم نے جتنا مشاہدہ کیا ہے تو وہ کل مشاہدہ کا 0.00001 فیصد بھی نہیں ہوگا (یہ مشاہداتی بات نہیں٫، بلکہ لوجیکل بات ہے)
ہ) اس "معمولی اور مختصر” سے مشاہدہ کو بھی ہم باقاعدہ الفاظ میں نہیں ڈھال پاتے اور اس مشاہدے کے الفاظ و زبان میں ٹرانسلیئشن کے وقت اس کا بھی بہت سا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔
یعنی
اصل حقیقت کا ایک بہت بڑا حصہ ہمارے الفاظ تک سے بھی باہر موجود ہے اور اس تک ہماری صفر رسائی ہے۔ یہاں کوئی کہ سکتا ہے کہ جب ہمارے الفاظ کے پاس اس کا نام نہیں ہے اور وہ اس کی limit سے باہر ہے تو پھر
Limit of My Words is limit of My World
کے اصول کے تحت تو وہ ہماری limit سے ہی باہر ہے، تو پھر اس کے وجود کا ہمیں کیسے پتہ؟؟ تو جناب، یہ بالکل درست بات ہے۔ اصل حقیقت مکمل تنزیہی اور ورا الوراء ہے جس پر ہمارے زبان کی کوئی کیٹیگری بھی لاگو نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔ وہ ہماری زبان سے مکمل پاک ہے۔ ہماری زبان اس کا احاطہ نہیں کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہماری لاجک ہم کو بس اتنا بتاتی ہے کہ "وہ ہے” اور بس۔۔۔۔
یہاں تین باتیں نوٹ کریں۔۔۔۔۔۔
ا) میں مشاہدہ کی اہمیت سے انکاری نہیں ہوں، تاہم بس اتنا کہ رہا ہوں کہ مشاہدہ اپنی خالص حالت میں قابل بیان نہیں ہے۔۔
ب) بعض لوگ ‘”خالص مشاہدہ'” کو Intuitive knowledge کہتے ہیں، جو پرسنل اور یقینی ہوتا ہے۔۔ اس کا دوسرا حصہ یعنی کہ یہ پرسنل اور یقینی ہے تو یہ بات تو درست ہے تاہم اس کا پہلا حصہ یعنی کہ یہ نالج یعنی علم ہے، تو یہ درست نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب یہ ناقابلِ انتقال ہے تو یہ نالج نہیں ہو سکتا گو اس سے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔ میں نے بھی اپنی بعض پرانی تحاریر میں اس چیز کو نالج کہا ہے تو میں وہ بات واپس لیتا ہوں۔۔ باقی سب چیزیں یعنی اس کی ڈسکرپشن وہی صحیح ہے لیکن اس کا نام نالج نہیں ہے۔
ج) بعض لوگ کہیںنگے کہ میں "زبان” کا استعمال کر کے زبان کا رد کر رہا ہوں تو یہ Performative Contradiction ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے….. میں ہرگز زبان کا رد نہیں کر رہا بلکہ زبان کی limit بتا رہا ہوں۔۔ میں ہرگز یہ نہیں کہ رہا کہ زبان بیکار ہے یا فضول ہے بلکہ میں صرف اتنا کہ رہا ہوں کہ اصل حقیقت "ورا الوراء اور تنزیہی” ہے یعنی وہ زبان کی حدود میں نہیں آ سکتی ہے، سو زبان کی limit بتانا زبان کو refute کرنے کے مترادف نہیں ہے۔