جھڑکی نہ دو۔۔۔ واصف علی واصف۔۔۔(قسط نمبر 2)

جھڑکی نہ دو

واصف علی واصف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ جھڑکی نہ دو۔۔۔ واصف علی واصف) لیکن وہ اچانک چپ ہو گئے… میں نے کہا ”مزید ارشاد۔“بولے ”نہیں…“میں نے کہا ”کیوں…“بولے ”جس طرح تیری جیب میں پڑے ہوئے دو سو روپے میں سے میرے لئے صرف پانچ روپے تھے ،اسی طرح میرے علم میں سے تمہارا اتنا ہی حصہ تھا…“میں نے کہا ”آپ سے پھر کب ملاقات ہو گی…؟“بولے ”ہو گی ،ضرور ہو گی۔

ہاں تم اپنا پتہ تو بتاؤ… ہم توسیلانی لوگ ہیں…“بابے نے جیب سے ایک سنہری رنگ والا پوسٹ کارڈ سائز کا کارڈ نکالا… میں نے اپنا پتہ لکھ دیا۔ دستخط کر دیئے۔ روشنی ختم ہو چکی تھی… بابے نے کہا ”اچھا بیٹا اب میرے پیچھے نہ آنا۔ میں جا رہا ہوں…“بابا ایک طرف کو ہو لیا… لیکن میں اس کے پیچھے چل پڑا… مگر کہاں تک… بابا غائب ہو چکا تھا… ڈیپریشن ختم ہو چکا تھا… نئے عنوان ظاہر ہو رہے تھے… بابا فقیر سرشار کر گیا…

بات ختم ہو گئی ،لیکن بات ختم نہیں ہوئی… سقوط ڈھاکہ پر بھی پھر ڈیپریشن کا شکار ہوا… ایک شام نماز مغرب کے بعد مسجد سے نکلے… گہری شام ہو چکی تھی… میں نے دیکھا کہ میرے آگے آگے ایک بزرگ صورت انسان چل رہا تھا۔

لمبے بال… ننگے پاؤں… ہاتھ میں تسبیح… میں اس کے پیچھے ہو لیا… کچھ دور جا کر وہ اچانک رک گیا اور پیچھے مڑ کر مجھ سے مخاطب ہوا۔ ”میرے پیچھے کیوں آ رہے ہو… میں نے پہلے بھی کہا تھا میرے پیچھے نہ آنا۔ تم باز نہیں آتے… اچھا بولو کیا تکلیف ہے…“میں نے کہا ”کچھ نصیحت ہی…“بولا ”سائل کو جھڑکی نہ دیا کرو… ہم لوگ محسن ہیں۔ معلم ہیں… ڈیپریشن کی ضرورت نہیں… تم ہم سے زیادہ فکر مند ہو…؟ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

“اتنے میں بابے نے جیب سے ایک کارڈ نکالا اور کہا ”مجھے اس پتہ پر پہنچا دو…“میں نے کارڈ دیکھا… میرا ہی نام ،میرا پتہ اور میرے ہی ہاتھ کا لکھا ہوا… دستخط میرے ہی ،بقلم خود… میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی… آج سے پندرہ سال پہلے والا بابا میری نظروں کے سامنے آیا۔ لیکن یہ بابا وہ نہیں تھا۔ قطعاً مختلف… میں اور حیران ہوا… بابا بولا ”حیران ہونے والی کوئی بات نہیں… ہمارا چولا بدلتا رہتا ہے… ہم صرف سائل ہیں۔

محسن ،معلم… ہماری شکل و صورت کچھ بھی ہو ،ہم وہی ہیں۔ تمہیں عطا کرنے کیلئے آتے ہیں… ہماری طرف غور کیا کرو… ہم پیسے مانگتے ہیں تو صرف اس لئے کہ تم بخیل ہونے سے بچ سکو… ہم تم کو سخی بنانے کیلئے آتے ہیں… سخی… اللہ کا دوست صرف سائل کے دم سے… سائل کو جھڑکی نہ دو…“بابا پھر غائب ہو گیا۔ ڈیپریشن ختم ہو گیا… اندھیرے میں روشنی پھیل گئی… مایوسیوں میں امید کے چراغ جل اٹھے۔ ”کار ساز ما فکر کارما…“

آج تک وہ سائل میری نظروں کے سامنے ہے۔ معلم… محسن… بخیل کو سخی بنانے والا۔ غیر اللہ کو حبیب اللہ بنانے والا… جھڑکی کیلئے نہیں ،ادب و احترام سکھانے کیلئے آتا ہے… ہمارے دروازے پر اللہ کی رحمت دستک دیتی ہے اور کہتی ہے۔ خبردار! غافل نہ ہونا