موت کی یاد ہمیں زندگی جینا کیوں نہیں سکھاتی؟

موت کی یاد ہمیں زندگی جینا کیوں نہیں سکھاتی؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کسی جنازے میں شرکت کرکے واپس آئیے، تو کچھ دیر کے لیے دل بدل سا جاتا ہے۔ دنیا کی بھاگ دوڑ بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ جس مال کے لیے ہم نے رشتے خراب کیے، جس عہدے کے لیے دوسروں کو پیچھے دھکیلا، جس انا کی خاطر برسوں کسی اپنے سے بات نہیں کی، آخر ایک دن یہ سب یہیں رہ جانا ہے۔ قبرستان سے واپسی پر انسان کے دل میں کئی فیصلے جنم لیتے ہیں۔ اب کسی کا دل نہیں دکھاؤں گا، کسی کا حق نہیں دباؤں گا، ناراضی کو طول نہیں دوں گا، نماز میں غفلت نہیں کروں گا اور اپنے وقت کو بے مقصد ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ لیکن پھر چند دن گزرتے ہیں۔ زندگی دوبارہ اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ وہی تلخ لہجے، وہی پرانی رنجشیں، وہی دوسروں سے آگے نکلنے کی دوڑ اور وہی یہ گمان کہ ابھی بہت وقت باقی ہے۔

آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟

*کیا ہم موت کو یاد تو کرتے ہیں، مگر اس حقیقت کو اپنی زندگی کے فیصلوں تک پہنچنے نہیں دیتے؟*

موت دوسروں کی آتی ہے، مگر ہمیں اپنی یاد کیوں نہیں رہتی؟

جب کسی شناسا کی وفات کی خبر ملتی ہے تو اچانک احساس ہوتا ہے کہ زندگی کتنی غیر یقینی ہے۔ کل تک جو شخص ہمارے ساتھ بیٹھا تھا، اپنے منصوبے بنا رہا تھا، بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا، آج اس کی دنیاوی مصروفیات ختم ہوچکی ہیں۔ ہم اس کے لیے دعا کرتے ہیں، اس کے گھر والوں سے تعزیت کرتے ہیں اور اس کی زندگی کے واقعات یاد کرتے ہیں۔ مگر اکثر اس واقعے کو اپنی زندگی میں تبدیلی کا سبب بنانے کے بجائے اسے ایک غم ناک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارا ذہن دوسروں کی موت کو ایک حقیقت سمجھتا ہے، لیکن اپنی موت کو ایک دور کے امکان کی طرح دیکھتا ہے۔

ہم دوسروں کے جنازوں میں کھڑے ہوکر سوچتے ہیں کہ ایک دن ہمیں بھی جانا ہے، مگر اپنے روزمرہ فیصلے ایسے کرتے ہیں جیسے ہمارے پاس ہر غلطی کی تلافی کے لیے لامحدود وقت موجود ہو۔ حالاں کہ موت کی یاد کا مقصد صرف یہ جاننا نہیں کہ زندگی ختم ہوجائے گی؛ اس کا مقصد یہ سمجھنا بھی ہے کہ *زندگی ختم ہونے سے پہلے ہمیں اسے کس طرح گزارنا ہے۔*

قرآن موت سے آگے زندگی کی ذمہ داری دکھاتا ہے

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: ﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ ترجمہ: جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے بہتر ہے۔ (سورۃ الملک: ۲)

اس آیت میں زندگی کا مقصد صرف زندہ رہنا، کامیاب ہونا یا زیادہ سے زیادہ جمع کرنا نہیں بتایا گیا، بلکہ عمل کی خوبی کو اہمیت دی گئی ہے۔ غور کیجیے، یہاں محض زیادہ اعمال کا ذکر نہیں، بلکہ بہتر اعمال کی بات ہے۔ ایک شخص ساری زندگی مال جمع کرتا رہا، مگر اس کے ملازمین اپنے حق کے لیے ترستے رہے۔ دوسرا شخص محدود وسائل کے باوجود لوگوں کے ساتھ دیانت سے پیش آیا، اپنے وعدے پورے کیے اور کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا۔

دونوں کی دنیاوی کامیابی کے پیمانے مختلف ہوسکتے ہیں، مگر قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی قدر کا ایک پہلو ہمارے اعمال کا معیار بھی ہے۔ یہاں کسی کی آخرت کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں؛ ہمیں اپنی زندگی کو اس معیار پر پرکھنے کی دعوت دی گئی ہے۔

ہم توبہ کو کل پر کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟

ایک شخص جانتا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کا حق دبایا ہے۔ وہ دل ہی دل میں مانتا بھی ہے کہ یہ غلط ہوا، مگر اسے واپس کرنے کے لیے قدم نہیں اٹھاتا۔ کبھی مناسب وقت کا انتظار کرتا ہے، کبھی اپنی انا کو آڑے آنے دیتا ہے اور کبھی سوچتا ہے کہ بعد میں معاملہ درست کرلوں گا۔ ایک شخص اپنے بوڑھے والدین سے محبت کرتا ہے، لیکن ان کے پاس بیٹھنے کے لیے وقت نہیں نکالتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ ابھی تو وہ موجود ہیں، پھر کبھی تفصیل سے بات کرلیں گے۔ کوئی اپنے شریکِ حیات کو برسوں سے ایک ہی شکایت سناتا آرہا ہے، مگر اپنا رویّہ بدلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اسے لگتا ہے کہ معذرت کرنے یا اپنی غلطی ماننے سے اس کی اہمیت کم ہوجائے گی۔

ہم میں سے بعض لوگ عبادت کی طرف واپسی، علم حاصل کرنے، کسی سے صلح کرنے یا اپنی اصلاح شروع کرنے کو بھی مستقبل کے کسی دن پر چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں ایک خطرناک غلط فہمی کام کرتی ہے: ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں موقع ضرور ملے گا۔ لیکن وقت ہمارے ارادوں کا پابند نہیں۔ جو کام آج ممکن ہے، اس کے لیے کل کی ضمانت ہمارے پاس نہیں۔ قرآنِ مجید ان لوگوں کی کیفیت بیان کرتا ہے جو موت سامنے آنے پر مہلت مانگتے ہیں: ﴿رَبِّ لَوْلَا أَخَّرْتَنِي إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُنْ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾ ترجمہ: اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں شامل ہوجاتا۔ (سورۃ المنافقون: ۱۰)

یہ آیت ہمیں ایک ایسی حسرت سے آگاہ کرتی ہے جس کا تعلق صرف مال سے نہیں، بلکہ اس مہلت سے بھی ہے جس میں انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا تھا۔ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے: کیا ہم بھی کسی ضروری نیکی کو صرف اس لیے مؤخر کررہے ہیں کہ ابھی وقت باقی ہونے کا گمان ہے؟

موت کی یاد رشتوں کو کیوں نہیں بدلتی؟

ہم کسی عزیز کی وفات پر اس کی محبت، خوبیوں اور یادوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ کاش اس کے ساتھ کچھ اور وقت گزار لیا ہوتا، کاش آخری ملاقات میں تلخ بات نہ کی ہوتی، کاش ناراضی ختم کردی ہوتی۔ لیکن یہی احساسات زندہ رشتوں کے معاملے میں اکثر ہمارے فیصلے نہیں بدلتے۔ ایک باپ اپنے بیٹے سے برسوں ناراض رہتا ہے، حالاں کہ دونوں کے درمیان بات چیت کا راستہ کھلا ہوتا ہے۔ دو بھائی معمولی جائیداد کے اختلاف میں ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں۔ بہن بھائی ایک دوسرے کی خیریت پوچھنے کو بھی اپنی انا کے خلاف سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر جب ان میں سے کوئی دنیا سے چلا جاتا ہے تو باقی رہ جانے والوں کے پاس یادیں تو ہوتی ہیں، مگر بعض مواقع دوبارہ نہیں ملتے۔

یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے: ہر صلح کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم برداشت کیا جائے یا نقصان دہ تعلق میں بلاحدود واپس چلا جائے۔ بعض حالات میں مناسب حدود قائم رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن جہاں معاملہ محض انا، ضد یا معمولی رنجش کا ہو، وہاں موت کی یاد ہمیں یہ سوچنے کا موقع دے سکتی ہے کہ کیا اس اختلاف کی قیمت ہمارے رشتے سے زیادہ ہے؟ کبھی پہل کرکے خیریت پوچھ لینا، اپنی غلطی پر معذرت کرنا، کسی کی بات سن لینا یا ایک پرانی غلط فہمی دور کردینا زندگی کے ان کاموں میں شامل ہے جنہیں غیر ضروری طور پر مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔

*ہمیں ہمیشہ یہ موقع نہیں ملتا کہ کسی بچھڑ جانے والے سے کہہ سکیں: میں تم سے ناراض نہیں تھا، میں تمہاری قدر کرتا تھا۔* اس لیے جو محبت آج ظاہر کی جاسکتی ہے، اسے صرف مستقبل کی حسرت نہ بننے دیجیے۔

کیا دنیا سے محبت ہی مسئلہ ہے؟

دنیا میں رہنا، گھر بنانا، اولاد کی پرورش کرنا، حلال روزی کمانا، علم حاصل کرنا اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا بذاتِ خود غلط نہیں۔ اسلام انسان کو اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی تعلیم نہیں دیتا۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دنیا کے حصول میں ہم اپنے مقصد، حدود اور ذمہ داریوں کو بھول جاتے ہیں۔ ایک باپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، لیکن اگر اس محنت میں وہ ان کے ساتھ تعلق، اپنی صحت، عبادت اور دوسرے حقوق کو مسلسل نظرانداز کرتا رہے تو اسے اپنی ترجیحات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ایک شخص کاروبار میں ترقی کرتا ہے، مگر ملازمین کی اجرت روک کر یا گاہک کو دھوکا دے کر۔ دوسرا ترقی کے لیے محنت کرتا ہے، مگر حلال و حرام کی حدود کا خیال رکھتا ہے اور دوسروں کے حقوق محفوظ رکھتا ہے۔ فرق دنیا رکھنے میں نہیں، بلکہ دنیا کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے راستے اور اس کی ترجیحات میں ہے۔ موت کی یاد انسان کو زندگی سے بے تعلق نہیں کرتی؛ اسے زندگی کی ذمہ داریوں کے بارے میں زیادہ سنجیدہ بناتی ہے۔

ہر دن کا اختتام ایک سوال کے ساتھ

اگر ہم واقعی موت کی یاد کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے صرف جنازے، تعزیت یا قبرستان تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ دن کے اختتام پر چند لمحے اپنے لیے نکالیے۔ آج کسی کا حق تو نہیں دبایا؟ کسی کو بلاوجہ تکلیف تو نہیں دی؟ کسی ضروری ذمہ داری سے غفلت تو نہیں برتی؟ کوئی ایسا کام تو نہیں جس کی اصلاح کل پر چھوڑ دی ہو، حالاں کہ آج ممکن تھی؟ اگر کسی سے زیادتی ہوئی ہے تو جہاں ممکن ہو اس کی تلافی کیجیے۔ اگر کسی کا حق باقی ہے تو اسے ادا کرنے کا راستہ اختیار کیجیے۔ اگر عبادت میں کوتاہی ہوئی ہے تو مایوسی کے بجائے اللہ کی طرف رجوع کیجیے۔ اور اگر کوئی اچھا کام کرنے کا موقع ملا ہے تو اسے صرف اس لیے نہ چھوڑ دیجیے کہ شاید کل بھی مل جائے۔

یہ خود احتسابی انسان کو ہر وقت خوف زدہ رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہے۔ موت کی یاد کا صحت مند اثر یہ ہے کہ انسان امید بھی رکھے اور ذمہ داری بھی محسوس کرے؛ اللہ کی رحمت سے امید باندھے، مگر اپنی اصلاح کے لیے قدم اٹھانا نہ چھوڑے۔

زندگی کو جینے کا مطلب کیا ہے؟

زندگی کو اچھی طرح جینے کا مطلب صرف خوش رہنا، خواہشات پوری کرنا یا کامیابیاں حاصل کرنا نہیں۔ اس میں اپنے رب کے حقوق ادا کرنا، انسانوں کے ساتھ انصاف کرنا، اپنے اہلِ خانہ کی ذمہ داریاں نبھانا، حلال روزی کمانا، علم حاصل کرنا، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا اور اپنی غلطیوں سے سیکھنا بھی شامل ہے۔ کبھی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک قرض واپس کرنا، کسی کی تنخواہ وقت پر ادا کرنا، بوڑھے والدین کی بات توجہ سے سننا، بچوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا، غلط خبر آگے نہ پھیلانا یا کسی ناراض رشتے دار سے مناسب انداز میں رابطہ کرنا بھی ایک بامعنی قدم ہوسکتا ہے۔

ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے، مگر یہ ضرور معلوم ہے کہ آج کا دن ہمارے اختیار میں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ» ترجمہ: دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا راستے سے گزرنے والے مسافر۔ صحیح البخاری، حدیث: ۶۴۱۶

اس تعلیم کا مطلب دنیا کی ذمہ داریوں کو چھوڑ دینا نہیں، بلکہ اس حقیقت کو پہچاننا ہے کہ دنیا ہمارا مستقل ٹھکانا نہیں۔ مسافر اپنے سفر کو بے مقصد نہیں بناتا؛ وہ راستے میں ضروری کام بھی کرتا ہے اور اپنی منزل کو بھی یاد رکھتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی زندگی کے کام انجام دینے ہیں، مگر اس احساس کے ساتھ کہ ہمارے پاس جو وقت ہے وہ ایک ذمہ داری ہے، ہمیشہ کے لیے محفوظ ملکیت نہیں۔

آخری سوال: اگر آج کا دن واپس نہ آئے تو؟

ذرا تصور کیجیے کہ آج کی رات سونے سے پہلے آپ کو اپنے دن کا جائزہ لینا ہو۔ آپ نے کتنی باتیں صرف غصے میں کہیں؟ کتنی بار اپنے فائدے کو کسی دوسرے کے حق پر ترجیح دی؟ کتنے ضروری کام مؤخر کیے؟ اور کتنے مواقع ایسے تھے جن میں آپ کسی کے لیے آسانی پیدا کرسکتے تھے؟ یہ سوال کسی کو مایوس کرنے کے لیے نہیں۔ یہ یاد دلانے کے لیے ہے کہ ابھی اصلاح کا موقع موجود ہے۔ ہم ماضی کو واپس نہیں لاسکتے، لیکن اس سے سیکھ سکتے ہیں۔ ہم ہر غلطی مٹا نہیں سکتے، مگر جہاں ممکن ہو اس کی تلافی کرسکتے ہیں۔ ہم اپنی موت کا وقت نہیں جانتے، مگر اپنی زندگی کے اگلے فیصلے کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

شاید موت کی یاد ہمیں زندگی جینا اس لیے نہیں سکھا پاتی کہ ہم اسے ایک دن پیش آنے والا واقعہ سمجھتے ہیں، آج کے لیے رہنمائی نہیں۔ ہم جنازے سے واپس آکر موت کے بارے میں سوچتے ہیں، مگر اپنی زندگی کی سمت بدلنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔ ہم دوسروں کی رخصتی سے متاثر ہوتے ہیں، مگر اپنی موجودہ ذمہ داریوں کو وہ اہمیت نہیں دیتے جس کے وہ مستحق ہیں۔ *موت کو یاد کرنے کا سب سے بامعنی اثر یہ نہیں کہ ہم زندگی سے ڈرنے لگیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم زندگی کو بے مقصد گزارنے سے بچنے لگیں۔*

آج کسی کا حق ادا کیجیے۔ کسی ضروری معذرت کو مزید مؤخر نہ کیجیے۔ اپنے رب سے تعلق بہتر بنانے کے لیے ایک قدم اٹھائیے۔ اپنے گھر والوں کے لیے وقت نکالیے۔ اور جو نیکی ممکن ہے، اسے کسی نامعلوم کل کے حوالے نہ کیجیے۔ کیونکہ ایک دن ہماری زندگی کی کہانی مکمل ہوجائے گی، لیکن آج ہمارے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ اس کے اگلے حصے میں کیا لکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں موت سے پہلے زندگی کی قدر پہچاننے، اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کرنے، بندوں کے حقوق ادا کرنے اور اپنی آخرت کے لیے بہترین عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری زندگی کو خیر کا ذریعہ اور ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔