شعور سے لاشعور کاسفر

شعور سے لاشعور کاسفر
انسان تین پرت کا مجموعہ ہے
جسم، روح اور عقل
عقل کے تین درجے ہیں
شعور، لاشعور، تحت الشعور
شعور باہر کی دنیا کی پہچان کرواتا ہے، لاشعور اندر کی دنیا سے احکام دیتا ہے، تحت الشعور تخلیقی، الہامی، وجدانی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے،

علم کی تین شاخیں ہیں
جاننا، پہچاننا، ماننا،

خودشناسی علم الوجود تصوف کی اور روحانیت کی عظیم علمی شاخ ہے انسان اگر اپنی محاسبہ کرے توتحقیق، تصدیق اور یقین کے مرحلے کے بعد اس کا اپنی شخصیت پر سیلف کنٹرول کا مرحلہ آسان بن جاتا ہے۔

جسم ذہن کا محکوم ہے جو ذہن کہتا ہے جسم اس کی مانتا ہے ذہن پر عموماً خیالات، تصورات اور حالات کا کنٹرول ہوتا ہے اور یہ ماضی حال اور مستقبل کے داٸرے میں گھومتے رہتے ہیں ماضی میں جینا مسلسل یادوں میں کھوۓ رہنا ایسے ہے جیسے اپنے ساتھ dustbin لیکر گھومنا یہ ثابت کرتا ہے کہ انسان اپنے حال سے مطمٸن نہیں ہے اور مستقبل کے بارے میں مسلسل سوچتے رہنا بھی ایسے ہے کہ دس کلو کا وزن سر پر لے کر گھومنا جو کل دیکھا نہیں جس پر انسان کا کچھ کنٹرول نہیں وہ تو حال کو بےحال کرنے والی سوچ ہے اس سے جان چھڑانے کا اور اپنی زات اور ماحول میں خوش رہنے کا واحد حل *Meditation* {مراقبہ} ہے یہ اپنے ذہن پر خود کے کنٹرول کا بہترین حل ہے جو انسان کو اپنے حال میں خوش اور مطمعن رکھ سکتا ہے
ذہن روزمرہ جو حالات پیدا ہوتے ہیں ان کے تحت فیصلے اور ریٸیکٹ کرتا ہے جو زیادہ تر جزباتی سطح پر ہوتے ہیں یہ پوری دنیا انسان کے مدِ مقابل ہے اس سے روزانہ غیرارادی ہر انسان کا مقابلہ ہوتا رہتا ہے جس کی سوچ اپنے قابو ہوگی اس کے ارادے مظبوط ہونگے تو وہ ہر صورتحال میں سرخرو رہے گا
ارادوں سے عمل کو تقویت ملتی ہے ہر انسان اپنی فطری سطح پر بادشاہ ہے اس کی اپنے اندر اور باہر واقعی بادشاہت ہوتی ہے، جو اچھی بری ہوسکتی ہے یہ اس کی سوچ اور بچپن کے حالات اور تربیت پر ڈپینڈ کرتا ہے جو لاشعور میں پندرہ سال تک اس نے سیکھا ہے وہ اس کے ذہن سے کبھی نہیں نکلتا چپک جاتا ہے وہ حالات ساری زندگی اس کے ساتھ رہتے ہیں تبھی بڑوں کی کہاوت ہے کہ بچوں کو اچھی تربیت دو ورنہ اس بچے کو علم کچھ نہیں بگاڑ سکتا جو بچپن سے سیکھا وہ پوری زندگی لاشعوری طور پر ان کے داٸرے میں ریٸیکٹ کرتا رہتا ہے وہ اس کی عادت بن چکی ہوتی ہیں اور ان میں تبدیلی صرف قدرت کر سکتی ہے یا پھر اپنی قوت ارادی کو فطرت کے مقابل کرکے اپنے دماغ کو اپنے طابعہ کرکے فتح حاصل کرسکتا ہے اور یہ ممکن ہے
دماغ کی دنیا بہت وسیع دنیا ہے جس نے اسے اپنے تابع کیا سمجھو اس نے من کی دنیا فتح کرلی جس نے من کی دنیا فتح کرلی مانو دنیا فتح کرلی،
مثال کے طور پر،،،،،،،
ہم بہتا ہوا پانی ندی دریا روک کر ڈیم بناتے ہیں اس کی طاقت کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں وہی پانی کھیتی باڑی کے لیے استعمال کرتے ہیں بجلی بناتے ہیں اس کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں اسی طرح کاٸنات کی گھومتی انرجی کو دماغ کے ذریعے جسم کے طابعہ کرکے ہم اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں یہ میڈیٹیشن مراقبہ کے ذریعے ممکن ہے اور صدیوں سے یوگی اور مذہبی روحانیت سے متعلق لوگ کر رہے ہیں ایک اور مثال لیجیے ایک بھترین سدھایا ہو گھوڑا لیجیے جسے آپ نے بچپن سے سدھایا ہے پر جب تک اس کو لگام نہ ڈالیں سیدھے راستے پر زبانی حکم سے نہیں چلے گا اسی طرح دماغ پر اپنی زات کے کنٹرول کے لیے لگام لازمی ہے تاکہ ذہن آپ کی مرضی کے مطابق چل سکے اس کا بہترین حل مراقبہ کا ہے جس سے ہم اپنے دماغ پر خود کا کنٹرول حاصل کرکے اپنے من پسند فلاحی مقاصد استعمال کرسکتے ہیں،
یاد رکھیں
میڈیٹیشن {مراقبہ} صرف فلاحی کام میں ممکن ہے
مراقبہ کے لیے لازمی گاٸیڈنس کی ضرورت ہوتی ہے باقی منزل تک سارے راستے آپ کو اپنی اندر کی تیسری آنکھ کو روشن کرکے طے کرنے آسان ہوجاتے ہیں جب اندر روشن ہوتا ہے تو بند دروازے خودبخود کھل جاتے ہیں اور آپ اپنا اندر مکمل دیکھ پاتے ہیں
@highlight