ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔ قرآن سے ملاقات۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی )سورۃ العصر — وقت کی قسم! انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے اپنی زندگی کا مقصد پہچان لیا
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ انسان دنیا میں سب سے زیادہ کس چیز کو ضائع کرتا ہے، مگر اسے اس نقصان کا احساس بھی نہیں ہوتا؟
وہ اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔
وہ دولت کھو دے تو پریشان ہو جاتا ہے، کاروبار میں نقصان ہو تو کئی راتیں جاگتا ہے، کوئی قیمتی چیز گم ہو جائے تو اسے تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، لیکن اپنی زندگی کے قیمتی لمحات ایک ایک کرکے گزرنے دیتا ہے اور اکثر اسے احساس تک نہیں ہوتا کہ اس کے ہاتھ سے کیا نکل رہا ہے۔
ہم میں سے ہر شخص کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہیں۔ کسی کے پاس زیادہ نہیں، کسی کے پاس کم نہیں۔ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا عام انسان، عالم ہو یا ان پڑھ، سب کے لیے وقت ایک ہی رفتار سے گزر رہا ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اس وقت کو اپنی آخرت سنوارنے میں لگا رہا ہے اور کوئی اسے ایسی مصروفیات میں گزار رہا ہے جن کا اسے زندگی کے آخری لمحوں میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وقت کم ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنا وقت کس مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
قرآن مجید کی ایک مختصر سورت اسی حقیقت کو انتہائی جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔
یہ سورۃ العصر ہے۔
صرف تین آیات پر مشتمل یہ سورت انسانی زندگی کا ایک ایسا اصول پیش کرتی ہے جس میں کامیابی اور ناکامی، نجات اور خسارے، ایمان اور عمل، انفرادی اصلاح اور اجتماعی ذمہ داری سب کچھ سمو دیا گیا ہے۔
یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں کامیاب نظر آنا اور حقیقت میں کامیاب ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔
کوئی شخص دولت جمع کرکے بھی خسارے میں ہو سکتا ہے، کوئی شہرت حاصل کرکے بھی ناکام ہو سکتا ہے، کوئی پوری زندگی دنیا کی دوڑ میں گزار کر بھی اصل منزل سے دور رہ سکتا ہے۔
کیونکہ اللہ کے نزدیک کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں کہ انسان نے دنیا میں کتنا حاصل کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنی زندگی کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
جب اللہ تعالیٰ وقت کی قسم کھاتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَالْعَصْرِ
ترجمہ: زمانے کی قسم!
(سورۃ العصر: 1)
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر اپنی مخلوقات اور کائنات کی نشانیوں کی قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ ان قسموں کے ذریعے انسان کی توجہ کسی اہم حقیقت کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھائی ہے۔
لفظِ عصر کے معنی میں زمانہ اور وقت کا مفہوم شامل ہے۔ مفسرین نے اس کی تفسیر میں مختلف اقوال نقل کیے ہیں، جن میں زمانے اور وقت کا مفہوم نمایاں ہے۔
ذرا سوچیے!
وقت ایک ایسی دولت ہے جو ہر انسان کو روزانہ ملتی ہے، لیکن اس کے استعمال کا اختیار اسے ایک خاص حد تک ہی حاصل ہے۔
آپ دولت کھو کر دوبارہ کما سکتے ہیں۔ مکان فروخت ہو جائے تو دوبارہ بنایا جا سکتا ہے۔ کاروبار میں نقصان ہو جائے تو دوبارہ آغاز کیا جا سکتا ہے۔
لیکن جو لمحہ گزر گیا، وہ کسی قیمت پر واپس نہیں آ سکتا۔
انسان چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ گزرے ہوئے وقت کو روک نہیں سکتا۔
وہ اپنی عمر میں ایک دن کا اضافہ نہیں کر سکتا۔
وہ اپنی زندگی کے کسی گزشتہ لمحے میں واپس جا کر اپنی غلطی درست نہیں کر سکتا۔
یہی وقت کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
ہم روزانہ اپنی زندگی کا ایک حصہ خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمیں اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ یہ خرچ ہونے والا وقت ہمارے حق میں جا رہا ہے یا ہمارے خلاف۔
ایک شخص صبح سے شام تک محنت کرتا ہے، لیکن اس کی محنت کا مقصد صرف دنیاوی دولت جمع کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا شخص اپنی محنت کے ساتھ اللہ کی رضا، حلال رزق، اہلِ خانہ کے حقوق اور آخرت کی تیاری کو بھی پیش نظر رکھتا ہے۔
دونوں کے گھنٹے برابر ہیں، لیکن ان کے مقاصد اور نتائج مختلف ہیں۔
یہاں ہمیں ایک بات سمجھنی چاہیے: اسلام دنیاوی محنت اور جائز تفریح سے نہیں روکتا۔ بلکہ انسان کو اپنے فرائض ادا کرنے، حلال روزی کمانے اور زندگی کی جائز ضروریات پوری کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
مسئلہ دنیا میں مصروف ہونا نہیں، بلکہ دنیا میں اس قدر کھو جانا ہے کہ انسان اپنی آخرت کو بھول جائے۔
ہم گھنٹوں موبائل استعمال کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک کے بعد دوسری پوسٹ دیکھتے رہتے ہیں، دوسروں کی زندگیوں کے حالات جاننے میں وقت گزارتے ہیں، لیکن کبھی اپنے دل سے یہ نہیں پوچھتے کہ میری اپنی زندگی کس سمت جا رہی ہے؟
ہمیں دوسروں کی کامیابیوں کی خبریں تو یاد رہتی ہیں، لیکن اپنی زندگی کے مقصد کی خبر نہیں ہوتی۔
شاید اسی لیے قرآن ہمیں وقت کی قسم کھا کر ایک ایسی حقیقت بتاتا ہے جس سے کوئی انسان مستثنیٰ نہیں۔
انسان خسارے میں ہے، لیکن کون خسارے سے بچ سکتا ہے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
ترجمہ: بے شک انسان یقیناً خسارے میں ہے۔
(سورۃ العصر: 2)
یہ آیت بظاہر بہت مختصر ہے، لیکن اس کا مفہوم انتہائی گہرا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ صرف غریب انسان خسارے میں ہے، صرف ناکام کاروباری شخص خسارے میں ہے، صرف کمزور یا بے اختیار انسان خسارے میں ہے۔
بلکہ فرمایا:
إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
یعنی انسان بحیثیتِ انسان خسارے میں ہے۔
کیوں؟
اس لیے کہ اس کی عمر مسلسل کم ہو رہی ہے۔
اس کی زندگی کا ہر گزرتا ہوا لمحہ اسے اس کے انجام کے قریب کر رہا ہے۔
انسان چاہے دنیا میں کتنی ہی کامیابیاں حاصل کر لے، اس کی عمر واپس نہیں آ سکتی۔ اس کا جسم ایک دن کمزور ہوگا، اس کی طاقت ختم ہوگی، اس کے منصوبے ادھورے رہ سکتے ہیں اور آخرکار اسے اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
دنیا میں انسان اکثر نفع اور نقصان کا حساب لگاتا ہے۔
تاجر دیکھتا ہے کہ اس نے کتنا سرمایہ لگایا اور کتنا منافع حاصل کیا۔ ملازم دیکھتا ہے کہ اس کی تنخواہ کتنی بڑھی۔ کاروباری شخص اپنی آمدنی کا موازنہ کرتا ہے۔
لیکن قرآن ایک مختلف حساب سامنے رکھتا ہے۔
وہ پوچھتا ہے کہ تم نے اپنی زندگی کے بدلے کیا حاصل کیا؟
تم نے کتنی عمر گزاری، مگر اس عمر میں اللہ کو کتنا یاد کیا؟
تم نے کتنا مال کمایا، مگر اس میں سے کتنا حلال تھا؟
تم نے کتنے لوگوں سے تعلقات قائم کیے، مگر کتنے لوگوں کے حقوق ادا کیے؟
تم نے کتنی باتیں سیکھیں، مگر ان میں سے کتنی باتوں پر عمل کیا؟
تم نے کتنی بار دوسروں کی غلطیاں تلاش کیں، مگر کتنی بار اپنی اصلاح کی؟
یہاں خسارے کا تصور صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتا، بلکہ انسان کی پوری زندگی کا محاسبہ بن جاتا ہے۔
ایک شخص ساری زندگی دولت جمع کرتا رہتا ہے، لیکن اگر اس دولت کے حصول میں اس نے حرام راستے اختیار کیے، لوگوں کے حقوق دبائے، نماز چھوڑ دی اور اپنے رب سے تعلق کمزور کر لیا تو بظاہر کامیابی کے باوجود وہ حقیقی خسارے میں ہے۔
ایک دوسرا شخص دنیاوی اعتبار سے عام زندگی گزارتا ہے، مگر ایمان، نیکی، دیانت داری اور صبر کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔ ممکن ہے دنیا اسے بہت بڑا کامیاب انسان نہ سمجھے، لیکن اللہ کے ہاں اس کی کامیابی کا معیار بالکل مختلف ہو۔
یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن دنیا کے بنائے ہوئے کامیابی کے پیمانے کو بدل دیتا ہے۔
لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان لازماً خسارے میں رہے گا؟
نہیں!
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کا راستہ بتاتا ہے جو اس عمومی خسارے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ترجمہ: سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے، ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
(سورۃ العصر: 3)
یہاں اللہ تعالیٰ نے خسارے سے بچنے کے لیے چار بنیادی صفات بیان فرمائی ہیں۔
غور کیجیے، ان چاروں صفات میں انسانی زندگی کی اصلاح کا مکمل راستہ موجود ہے۔
پہلی شرط: ایمان — زندگی کی بنیاد درست کرو
آمَنُوا
یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے۔
سب سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا، کیونکہ انسان کی پوری زندگی کی بنیاد اسی پر قائم ہوتی ہے۔
ایمان صرف زبان سے چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دل سے اللہ تعالیٰ کو ماننے، اس کے رسولوں، کتابوں، فرشتوں، آخرت اور تقدیر پر ایمان رکھنے کا نام ہے۔
ایمان انسان کو بتاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں بے مقصد پیدا نہیں کیا گیا۔
اس کی زندگی کا ایک مقصد ہے، اس کے اعمال کا حساب ہوگا اور اسے ایک دن اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
جب یہ یقین انسان کے دل میں مضبوط ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی کا انداز بدلنے لگتا ہے۔
وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔
وہ کسی کا حق مارنے سے ڈرتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا۔
وہ مشکلات میں مکمل طور پر مایوس نہیں ہوتا، کیونکہ اسے اپنے رب کی رحمت پر یقین ہوتا ہے۔
وہ کامیابی پر غرور نہیں کرتا، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نعمت اللہ کی عطا ہے۔
یہی ایمان انسان کو اندر سے بدلتا ہے۔
آج ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہمارا ایمان صرف ہماری شناخت تک محدود ہے، یا ہمارے فیصلوں، معاملات، اخلاق اور کردار میں بھی اس کا اثر دکھائی دیتا ہے؟
کیا ہم مسجد میں اللہ کو یاد رکھتے ہیں، مگر بازار میں اس کے احکام بھول جاتے ہیں؟
کیا ہم عبادت کے وقت اس کے سامنے جھکتے ہیں، مگر اپنے معاملات میں اپنی خواہشات کے سامنے جھک جاتے ہیں؟
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی اللہ کی بندگی کے تابع ہو۔
دوسری شرط: عملِ صالح — ایمان کو زندگی میں ظاہر کرو
**وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ**
اور وہ نیک اعمال کرتے رہے۔
قرآن نے ایمان کے فوراً بعد عملِ صالح کا ذکر کیا۔
یہ ترتیب ہمیں سمجھاتی ہے کہ ایمان کا اثر انسان کے عمل میں ظاہر ہونا چاہیے۔
صرف اچھے خیالات رکھنا کافی نہیں، صرف نیکی کی باتیں کرنا کافی نہیں، صرف دوسروں کو نصیحت کرنا کافی نہیں۔
ضروری ہے کہ انسان خود بھی نیکی کی زندگی اختیار کرے۔
نماز قائم کرنا، روزہ رکھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، یتیموں اور محتاجوں کی مدد کرنا، حلال روزی کمانا، وعدہ پورا کرنا، سچ بولنا، امانت کی حفاظت کرنا اور لوگوں کے حقوق ادا کرنا، یہ سب نیک اعمال کی مختلف صورتیں ہیں۔
لیکن ایک بات یہاں سمجھنے کی ہے۔
عملِ صالح صرف انفرادی عبادات تک محدود نہیں۔
اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے مگر اپنے کاروبار میں دھوکا دیتا ہے، اگر کوئی قرآن پڑھتا ہے مگر اپنے رشتہ داروں کے حقوق پامال کرتا ہے، اگر کوئی عبادت کرتا ہے مگر دوسروں کی عزت اچھالتا ہے، تو اسے اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے۔
دین انسان کو زندگی کے ہر شعبے میں نیکی کی طرف بلاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ
ترجمہ: نیکی حسنِ اخلاق کا نام ہے۔
(صحیح مسلم: 2553)
یہ حدیث ہمیں اخلاق کی اہمیت سمجھاتی ہے۔
کبھی کسی پریشان انسان کی بات سن لینا بھی نیکی ہے۔ کسی کی غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے حکمت سے سمجھانا بھی نیکی ہے۔ کسی کا حق واپس کرنا، کسی کے ساتھ انصاف کرنا اور کسی کی مشکل آسان کرنا بھی نیکی ہے۔
عملِ صالح کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی زندگی اللہ کی رضا کے مطابق سنورنے لگے۔
ایمان دل میں ہو اور نیکی اس ایمان کا عملی اظہار بن جائے۔
تیسری شرط: حق کی نصیحت — صرف خود نہ بچو، دوسروں کو بھی بچانے کی فکر کرو
وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ
اور وہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے۔
یہاں قرآن نے ایک انتہائی اہم حقیقت بیان کی ہے۔
صرف خود ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا کافی نہیں، بلکہ انسان کو دوسروں کے لیے بھی خیر خواہی کا ذریعہ بننا چاہیے۔
لفظ تَوَاصَوْا میں باہمی نصیحت کا مفہوم ہے۔
یعنی ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرنا، ایک دوسرے کو صحیح راستہ یاد دلانا اور حق کے معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا۔
یہاں ایک خوب صورت بات پوشیدہ ہے۔
قرآن یہ نہیں کہتا کہ صرف ایک شخص دوسروں کو نصیحت کرتا رہے اور باقی سب خاموشی سے سنتے رہیں، بلکہ باہمی نصیحت کی بات کرتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں ہر شخص حق کا طالب بھی ہو اور حق کی دعوت دینے والا بھی۔
اگر کوئی دوست غلط راستے پر جا رہا ہو تو اسے محبت سے سمجھایا جائے۔
اگر کوئی بھائی کسی کا حق مار رہا ہو تو اسے انصاف کی طرف بلایا جائے۔
اگر کوئی شخص نماز سے غافل ہو رہا ہو تو اسے نرمی سے یاد دہانی کرائی جائے۔
اگر کسی معاشرے میں جھوٹ، دھوکا، ظلم اور بے حیائی عام ہونے لگے تو اہلِ ایمان خاموش تماشائی نہ بنیں۔
لیکن حق کی نصیحت کا مطلب کسی کو ذلیل کرنا، اس کی تضحیک کرنا یا ہر وقت اس کی غلطیاں تلاش کرنا نہیں۔
نصیحت کے لیے علم، اخلاص، حکمت اور اچھے اخلاق کی ضرورت ہے۔
ترجمہ: اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دیجیے۔
(سورۃ النحل: 125)
آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کی اصلاح تو چاہتے ہیں، لیکن اپنی اصلاح کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
ہمیں دوسروں کی نماز کی فکر ہوتی ہے، مگر اپنی نماز میں غفلت نظر نہیں آتی۔
ہمیں دوسروں کی زبان کی سختی دکھائی دیتی ہے، مگر اپنے الفاظ کا زخم محسوس نہیں ہوتا۔
ہم دوسروں کی غلطیوں پر لمبی بحث کرتے ہیں، مگر اپنی غلطیوں کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں۔
سورۃ العصر ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانے کی دعوت دیتی ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کی نجات کے خیر خواہ ہوں۔
چوتھی شرط: صبر کی نصیحت — حق پر قائم رہنا آسان نہیں
وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ
اور وہ ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے رہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق کی نصیحت کے بعد صبر کا ذکر کیوں کیا گیا؟
اس لیے کہ حق کو پہچاننا ایک بات ہے، اس پر قائم رہنا دوسری بات۔
انسان جب نیکی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اسے مختلف مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کبھی نفس اسے گناہ کی طرف بلاتا ہے، کبھی معاشرہ اس کا مذاق اڑاتا ہے، کبھی لوگ اس کی دیانت داری کو کمزوری سمجھتے ہیں، کبھی حق بات کہنے پر مخالفت ہوتی ہے اور کبھی زندگی کی آزمائشیں اسے مایوس کرنے لگتی ہیں۔
ایسے حالات میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
صبر کا مطلب صرف خاموشی سے تکلیف برداشت کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت پر ثابت قدم رہنا، گناہوں سے خود کو روکنا اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا کے ساتھ قائم رہنا بھی صبر ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو! صبر کرو، ثابت قدمی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، اور مورچوں پر ڈٹے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
(آل عمران: 200)
یہاں بھی کامیابی کو صبر، ثابت قدمی اور تقویٰ کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
ذرا اپنی زندگی میں دیکھیے۔
نماز کی پابندی کے لیے صبر چاہیے۔
حرام کمائی چھوڑنے کے لیے صبر چاہیے۔
غصے کے وقت خود پر قابو پانے کے لیے صبر چاہیے۔
کسی کی زیادتی کے باوجود انصاف کی حدود میں رہنے کے لیے صبر چاہیے۔
مشکلات میں اللہ سے امید قائم رکھنے کے لیے صبر چاہیے۔
اور حق بات پر قائم رہنے کے لیے بھی صبر چاہیے۔
اسی لیے سورۃ العصر میں صرف حق کی نصیحت پر اکتفا نہیں کیا گیا، بلکہ صبر کی نصیحت کو بھی اس کے ساتھ شامل کیا گیا۔
کیونکہ حق کا راستہ اختیار کرنے والا انسان کبھی نہ کبھی آزمائش سے گزرتا ہے، اور اس وقت اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے مایوس ہونے کے بجائے ثابت قدم رہنے کی یاد دہانی کرائیں۔
چار صفات، ایک مکمل کامیاب زندگی
اب پوری سورت کو ایک ساتھ دیکھیے۔
اللہ تعالیٰ نے خسارے سے بچنے کے لیے چار صفات بیان کیں:
ایمان، عملِ صالح، حق کی نصیحت اور صبر کی نصیحت۔
ان چاروں کو الگ الگ نہیں بلکہ ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ایمان انسان کی بنیاد درست کرتا ہے۔
عملِ صالح اس ایمان کو عملی زندگی میں ظاہر کرتا ہے۔
حق کی نصیحت انسان کو دوسروں کی اصلاح اور خیر خواہی کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔
اور صبر کی نصیحت انسان کو اس راستے پر ثابت قدم رکھتی ہے۔
یہاں قرآن صرف ایک اچھا انسان بننے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا راستہ دکھا رہا ہے جہاں لوگ خود بھی اللہ کے راستے پر چلیں اور دوسروں کو بھی خیر کی طرف بلائیں۔
سوچیے، اگر ایک گھر میں یہ چاروں صفات پیدا ہو جائیں تو اس گھر کا ماحول کیسا ہوگا؟
اگر ایک خاندان کے افراد ایمان والے ہوں، نیک اعمال کرتے ہوں، ایک دوسرے کو محبت سے حق کی نصیحت کرتے ہوں اور مشکلات میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہوں تو وہاں کتنی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے؟
اور اگر یہی صفات کسی معاشرے میں عام ہو جائیں تو اس معاشرے میں جھوٹ، ظلم، دھوکا، بے انصافی اور اخلاقی بگاڑ کے لیے کتنی کم جگہ باقی رہ جائے گی؟
یہی سورۃ العصر کی جامع تعلیم ہے۔
وقت کا سب سے بڑا نقصان: انسان کا اپنی منزل بھول جانا
ہم اپنی زندگی کے لیے بہت سے منصوبے بناتے ہیں۔
کسی کو گھر بنانا ہے، کسی کو کاروبار بڑھانا ہے، کسی کو بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانی ہے، کسی کو بیرونِ ملک جانا ہے، کسی کو دولت جمع کرنی ہے اور کسی کو معاشرے میں مقام حاصل کرنا ہے۔
ان میں سے بہت سے مقاصد جائز اور ضروری بھی ہیں۔
لیکن ایک سوال ہے جسے ہم اکثر اپنے منصوبوں میں شامل نہیں کرتے:
میں اپنی آخرت کے لیے کیا کر رہا ہوں؟
ہمیں معلوم ہے کہ ہماری زندگی محدود ہے، لیکن ہم ایسے منصوبے بناتے ہیں جیسے ہمیں ہمیشہ اسی دنیا میں رہنا ہے۔
ہم اپنے مستقبل کے لیے سرمایہ جمع کرتے ہیں، لیکن آخرت کے لیے نیک اعمال جمع کرنے کی فکر اکثر کم رہ جاتی ہے۔
ہم بچوں کے مستقبل کے لیے پریشان ہوتے ہیں، لیکن ان کے ایمان اور اخلاق کی تربیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
ہم دنیا میں اپنی عزت بنانے کے لیے بہت کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ کے ہاں اپنی حیثیت بہتر بنانے کے لیے اتنی فکر نہیں کرتے۔
سورۃ العصر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقت گزر رہا ہے اور ہر گزرتا ہوا لمحہ ہمیں ہماری آخری منزل کے قریب لے جا رہا ہے۔
ہمیں اپنے وقت کا حساب خود لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ ہمارا حساب لیا جائے۔
ترجمہ: دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے معاملے میں بہت سے لوگ خسارے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔
(صحیح بخاری: 6412)
یہ حدیث سورۃ العصر کے پیغام کو سمجھنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔
صحت موجود ہو تو انسان اسے معمولی سمجھتا ہے، فراغت ہو تو اسے غیر ضروری مصروفیات میں گزار دیتا ہے، لیکن جب صحت ختم ہو جائے یا وقت ہاتھ سے نکل جائے تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے کتنی بڑی نعمت ضائع کر دی۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ گزاریں۔
ہر دن میں کچھ وقت عبادت کے لیے ہو، کچھ وقت علم حاصل کرنے کے لیے، کچھ وقت اہلِ خانہ اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے لیے، اور کچھ وقت اپنے اعمال کا جائزہ لینے کے لیے بھی ہو۔
کیونکہ کامیاب زندگی وہ نہیں جس میں صرف مصروفیات ہوں، بلکہ وہ ہے جس میں مصروفیات کا مقصد بھی درست ہو۔
تدبر کا سوال: کیا میرا وقت میرے حق میں گواہی دے گا یا میرے خلاف؟
آج اس مختصر سورت کو پڑھنے کے بعد اپنے دل سے چند سوال کیجیے:
کیا میری زندگی میں ایمان صرف ایک دعویٰ ہے یا میرے کردار میں بھی اس کی روشنی موجود ہے؟
کیا میرے اعمال مجھے اللہ کے قریب کر رہے ہیں یا میں صرف دنیاوی مصروفیات میں اپنا وقت گزار رہا ہوں؟
کیا میں دوسروں کو حق کی نصیحت کرنے سے پہلے اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہوں؟
کیا میں مشکلات کے باوجود نیکی پر قائم رہنے کی کوشش کرتا ہوں یا معمولی آزمائش پر مایوس ہو جاتا ہوں؟
اور سب سے اہم سوال:
اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا میں اپنے گزرے ہوئے وقت کو دیکھ کر مطمئن ہو سکوں گا؟
یہ سوال خوف پیدا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ بیداری پیدا کرنے کے لیے ہے۔
کیونکہ جب تک سانس باقی ہے، اصلاح کا راستہ کھلا ہے۔
اگر نماز میں غفلت ہے تو آج سے اسے درست کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے واپس کیا جا سکتا ہے۔
اگر کسی سے تعلق خراب ہے تو صلح کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اگر گناہوں میں زندگی گزر رہی ہے تو توبہ کا دروازہ موجود ہے۔
اگر وقت ضائع ہو رہا ہے تو آج ہی سے اس کے استعمال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان لے۔
سورۃ العصر کا آخری پیغام
یہ سورت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی زندگی کا اصل خسارہ دولت کی کمی، شہرت کی کمی یا دنیاوی مقام کی کمی نہیں۔
اصل خسارہ یہ ہے کہ انسان کو زندگی اور وقت جیسی عظیم نعمت ملے، مگر وہ اسے اللہ کی رضا کے لیے استعمال نہ کر سکے۔
اور اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ زندگی گزارے، نیک اعمال کرے، حق کا ساتھ دے، دوسروں کی خیر خواہی کرے اور مشکلات میں صبر کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی چیز کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
کوئی دولت کے پیچھے، کوئی شہرت کے پیچھے، کوئی مقام کے پیچھے اور کوئی خواہشات کے پیچھے۔
لیکن قرآن ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے کی دعوت دیتا ہے:
تم جس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہو، کیا وہ تمہیں حقیقی کامیابی تک لے جا رہی ہے؟
تم اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کہاں خرچ کر رہے ہو؟
اور جب تمہارا وقت ختم ہو جائے گا تو تمہارے پاس اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کے لیے کیا ہوگا؟
یاد رکھیے!
وقت گزرنے کا نام زندگی ہے، لیکن وقت کو اللہ کی رضا میں گزارنے کا نام کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرمائے جو ایمان لاتے ہیں، نیک اعمال کرتے ہیں، حق کی نصیحت کرتے ہیں اور صبر کے ساتھ اس راستے پر قائم رہتے ہیں۔
آمین یا رب العالمین۔
اگر سورۃ العصر کا یہ پیغام آپ کے دل تک پہنچا ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ صفحے کو فالو کریں، تحریر کو لائک اور شیئر کریں، اور کمنٹ میں ضرور بتائیں:
آپ کے خیال میں آج کے دور میں انسان اپنا سب سے زیادہ قیمتی وقت کس چیز میں ضائع کر رہا ہے؟