ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر آپ کو لنکس مانگنے اور لنکس پر کلک کرنے کا بہت شوق ہے تو اپنا یہ شوق ختم کر دیں۔ اس وقت سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے حالات حد سے زیادہ ٹائٹ ہیں۔ حتی کہ حکومتیں تین دن کا رزشن جمع کرنے کا کہہ رہی ہیں کیونکہ کبھی بھی سارا بینکنگ سسٹم بند ہو سکتا ہے (جو کہ اللہ نا کرے ہو)۔
لہذا ایسے وقت میں کبھی بھی غیر ضروری ویب سائٹس کے انباکس آنے والےلنکس یا غیر ضروری ڈاکیومنٹس کبھی بھی ڈاؤنلوڈ نا کریں۔
اور انہیں خاص کر تب کلک نا کریں جب آپ کے سگے رشتوں نے بھیجا ہو۔ کیونکہ کوئی معلوم نہیں کس کا فون ہیک ہے اور انجانے سے اس سے لنک آیا ہے اور وہ لنک بعد میں آپ کی موبائل بینکنگ ایپلکیشن سے سارے پیسے نکال کر آگے ٹرانسفر ہو جائے گا۔
یہ پوسٹ ڈرانے کے لئے نہیں بلکہ مفاد عامہ کے لئے ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے اصولوں کے تحت ایسا پہلے بھی کہا جاتا تھا لیکن گزشتہ دو تین ماہ سے، خاص کر تب جب سے اے آئی نارمل چیٹ بوٹ سے ایجنٹک اے آئی بن چکی ہے بہت سے لوگ اپنے agent swarms کے ساتھ انٹرنیٹ پر جگہ جگہ گھوم رہے ہیں اور یہ cluster اٹیک کر کے کسی ایک سادہ یوزر کو لوٹنے سے شروع کرکے بہت سوں کو لوٹ رہے ہیں۔
کل کا بائنانس کی ایکسچینج ہیک ہونے کا معاملہ بھی ایسے ایجنٹک اٹیک کا ہی ایک طرح سے شاخشابہ ہے جس میں کسی DevOps یا پھر کمپنی کے تکنیکی انجینئیر کے لیپ ٹاپ سے راستہ ملا تھا لیکن ہیک کرنے والا بندہ اپنے اے آئی ایجنٹس کی مدد سے پچاس مختلف خفیہ دروازے ٹرائی کرتا رہا اور آخر میں پچاسویں سے پوری ایکسچینج ہیک ہوگئی اور باقی اربوں ڈالر کی چوری اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔
ایسے میں یہ کہنا کہ ہیکر مجھ سے کیا لوٹے گا؟ غلط ہوگا۔ کیونکہ اگر آپ کنگلے غریب ہیں تو رہیں لیکن آپ کی ڈیوائس ہیک ہونے کے بعد آپ کے سب رشتے داروں کے فون ہیک ہونگے اور پھر نا جانے کتنوں کے اور سب کی بینک ایپس ٹارگٹ ہونگی تو ان کا سوچ کر ہی نامعلوم لنکس اور اٹیچمنٹس پر کلک نا کریں۔