سورۃ قریش — رزق، امن اور شکرِ الٰہی کا ایک ایسا پیغام جسے ہم روز دیکھتے ہیں، مگر اکثر سمجھتے نہیں
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ اگر انسان کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں موجود ہوں، لیکن اسے دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، تو کیا وہ ان آسائشوں سے لطف اندوز ہو سکے گا؟
اور اگر اس کے گھر میں کھانے پینے کی فراوانی ہو، مگر ہر لمحہ جان کا خوف، ہر رات بے یقینی اور ہر صبح کسی نئے خطرے کا اندیشہ ہو، تو کیا وہ حقیقی سکون کے ساتھ زندگی گزار سکے گا؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کچھ نعمتیں ایسی ہیں جن کی موجودگی میں اسے ان کی قدر کا احساس نہیں ہوتا، لیکن جب یہی نعمتیں چھن جائیں تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بڑی دولت کے درمیان زندگی گزار رہا تھا۔
ایک محفوظ گھر، دسترخوان پر موجود کھانا، اہلِ خانہ کی سلامتی، کاروبار کے مواقع، سفر کی آزادی، رات کو اطمینان سے سونا اور صبح کسی خوف کے بغیر بیدار ہونا۔
ہم ان سب کو اپنی روزمرہ زندگی کا معمول سمجھتے ہیں۔
لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ ان میں سے کوئی ایک نعمت بھی ہماری ذاتی طاقت کے بل پر ہمیشہ ہمارے پاس نہیں رہ سکتی؟
قرآن کی سورۃ قریش اسی غفلت کا پردہ چاک کرتی ہے۔ یہ ایک مختصر سورت ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا معاشی، معاشرتی، اخلاقی اور روحانی پیغام پوشیدہ ہے۔
یہ سورت صرف قریش کے حالات بیان نہیں کرتی، بلکہ ہر اس انسان کو مخاطب کرتی ہے جو نعمتیں تو حاصل کر رہا ہے، مگر نعمت دینے والے کو بھولتا جا رہا ہے۔
آئیے اس سورت کو صرف ترجمے کے طور پر نہیں، بلکہ اس کے تاریخی پس منظر، قرآنی پیغام اور اپنی زندگی سے تعلق کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قریش کون تھے اور انہیں یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟
سورۃ قریش کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس معاشرے کو سمجھا جائے جس سے اس سورت کا خطاب ہے۔
قریش وہ معروف عرب قبیلہ تھا جس میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ میں آباد تھا اور خانۂ کعبہ کی خدمت اور اس کی نسبت کی وجہ سے عرب میں ایک نمایاں مقام رکھتا تھا۔
مکہ کی جغرافیائی صورتِ حال دوسری بہت سی آبادیوں سے مختلف تھی۔ یہ ایک وادی تھی جہاں زراعت کے وسیع مواقع موجود نہیں تھے۔ نہ وہاں بڑے بڑے کھیت تھے، نہ باغات اور نہ ہی پانی کے ایسے ذخائر جو ایک بڑے معاشرے کی تمام ضروریات پوری کر سکتے۔
اس کے باوجود قریش معاشی طور پر مضبوط تھے۔
اس کی ایک اہم وجہ ان کی تجارت تھی۔
قریش نے اپنے تجارتی تعلقات عرب کے مختلف علاقوں تک پھیلا رکھے تھے۔ ان کے تجارتی قافلے موسم کے مطابق سفر کرتے تھے۔ سردیوں میں یمن اور گرمیوں میں شام کی طرف سفر کیا جاتا تھا۔
یہ سفر محض سامان خریدنے اور فروخت کرنے کے لیے نہیں تھے، بلکہ قریش کی معاشی زندگی کا بنیادی حصہ تھے۔
لیکن اس دور کے عرب میں تجارت کرنا آج کے دور کی طرح آسان نہیں تھا۔
آج ایک شخص ہوائی جہاز، ریل یا جدید شاہراہوں کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ جاتا ہے۔ اس زمانے میں قافلوں کو طویل صحرائی راستے طے کرنے پڑتے تھے۔ پانی کی قلت، موسم کی شدت، راستوں کی دشواریاں اور مختلف قبائل کے حملوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا تھا۔
ایسے حالات میں کسی قافلے کا محفوظ طریقے سے سفر کرنا خود ایک بڑی نعمت تھی۔
قریش کو خانۂ کعبہ کی نسبت سے بھی عرب میں احترام حاصل تھا۔ اس نسبت اور ان کے تجارتی تعلقات نے ان کے لیے سفر اور تجارت کے مواقع پیدا کیے۔
اب ذرا غور کیجیے!
جس شہر میں زراعت کے وسائل محدود تھے، وہاں اللہ تعالیٰ نے تجارت کے راستے کھول دیے۔ جس معاشرے کو صحرائی مشکلات کا سامنا تھا، اسے سفر کی سہولت عطا فرمائی۔ جہاں بھوک کا خطرہ موجود ہو سکتا تھا، وہاں رزق کے اسباب پیدا کر دیے۔
یہی وہ نعمتیں تھیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے قریش کو متوجہ فرمایا۔
پہلی دو آیات: اللہ کی نعمتیں کبھی معمولی نہیں ہوتیں
ترجمہ: قریش کو مانوس اور اُنس عطا کرنے کے لیے، یعنی انہیں سردیوں اور گرمیوں کے سفر سے مانوس کرنے کے لیے۔
(سورۃ قریش: 1-2)
ان آیات میں لفظ إِيلَافِ خاص طور پر توجہ طلب ہے۔
اس لفظ میں مانوس ہونے، تعلق قائم ہونے اور کسی چیز کے معمول بن جانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔
یعنی قریش کے لیے سفر اور تجارت کا ایسا نظام قائم ہو گیا تھا جس سے وہ مانوس تھے۔ ان کے قافلے مخصوص موسموں میں نکلتے، مختلف علاقوں تک پہنچتے اور واپس آتے تھے۔
یہ ایک ایسی سہولت تھی جو ان کی معاشی زندگی کو مستحکم کرتی تھی۔
لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ یہ سہولتیں انہیں کس نے عطا کی تھیں؟
کیا صرف ان کی اپنی ذہانت نے؟
کیا صرف ان کی تجارتی منصوبہ بندی نے؟
کیا صرف ان کے قبائلی تعلقات نے؟
یقیناً ان سب اسباب کی اپنی اہمیت تھی، لیکن قرآن انسان کو اسباب سے آگے بڑھ کر سبب پیدا کرنے والے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
انسان کوشش کرتا ہے، مگر ہر راستہ اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔
انسان کاروبار شروع کرتا ہے، مگر اسے کامیابی ملنا یقینی نہیں ہوتا۔
انسان سفر کی منصوبہ بندی کرتا ہے، مگر محفوظ واپس پہنچنے کی ضمانت اس کے پاس نہیں ہوتی۔
یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بنیادی حقیقت سمجھا رہا ہے کہ دنیا میں موجود اسباب کو استعمال کرنا درست ہے، لیکن ان اسباب کو اپنی کامیابی کا واحد مالک سمجھ لینا درست نہیں۔
آج ہم بھی اپنی زندگی میں یہی غلطی کرتے ہیں۔
کسی کا کاروبار اچھا چل رہا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے۔ کسی کو اچھی ملازمت مل جائے تو اسے اپنی قابلیت یاد آتی ہے۔ کسی کا گھر آباد ہو، اولاد صحت مند ہو اور معاشی حالات بہتر ہوں تو وہ اپنی تدبیر اور منصوبہ بندی پر فخر کرنے لگتا ہے۔
بلاشبہ محنت انسان کا فرض ہے۔ اسلام انسان کو سستی اور بے عملی کی تعلیم نہیں دیتا۔ لیکن محنت کے ساتھ یہ اعتراف بھی ضروری ہے کہ اس محنت کو نتیجہ دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔
کتنے ہی لوگ محنت کرتے ہیں، مگر انہیں وہ مواقع نہیں ملتے جو کسی دوسرے کو مل جاتے ہیں۔
کتنے ہی لوگ کاروبار شروع کرتے ہیں، مگر حالات ان کے موافق نہیں ہوتے۔
کتنے ہی لوگ سفر پر نکلتے ہیں، مگر انہیں واپسی کی مہلت نہیں ملتی۔
اس لیے کامیابی کے بعد صرف اپنی قابلیت کو دیکھنا اور اللہ کی عطا کو بھول جانا انسان کو شکر سے دور کر دیتا ہے۔
اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نعمتیں حاصل کرے، بلکہ یہ ہے کہ نعمتیں حاصل ہونے کے بعد اپنے رب کو نہ بھولے۔
تیسری آیت: جس گھر کی نسبت سے عزت ملی، اس کے رب کو پہچانو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَلْيَعْبُدُوا رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ
ترجمہ: پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔
(سورۃ قریش: 3)
یہاں قرآن ایک نہایت اہم حقیقت بیان کرتا ہے۔
قریش کو خانۂ کعبہ کی نسبت سے عزت حاصل تھی۔ عرب کے مختلف قبائل اس گھر کا احترام کرتے تھے۔ حج کے موسم میں لوگ دور دراز علاقوں سے مکہ آتے تھے۔ اس گھر کی وجہ سے مکہ کو ایک خاص مذہبی مقام حاصل تھا۔
لیکن قرآن قریش کو یاد دلاتا ہے کہ تمہاری عزت کی بنیاد بننے والا یہ گھر بھی اللہ ہی کا ہے۔
تم اس گھر کی نسبت سے مقام رکھتے ہو، مگر عبادت کا حق صرف اس گھر کے رب کو حاصل ہے۔
غور کیجیے، اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی عبادت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
رَبَّ هَٰذَا الْبَيْتِ
یعنی اس گھر کا رب۔
اس تعبیر میں ایک گہرا پیغام ہے۔ کعبہ کی عظمت اپنی جگہ، لیکن اس کی عبادت نہیں کی جاتی؛ عبادت صرف اس کے رب کی کی جاتی ہے۔
یہی توحید کی بنیاد ہے۔
اللہ تعالیٰ انسان کو سمجھاتا ہے کہ مخلوق کی کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے بلند نہ کرو۔ عزت، برکت اور تقدیس کے تمام معاملات میں اللہ کی مقرر کردہ حدود کا احترام کرو۔
یہاں قریش کے لیے ایک اور پہلو بھی تھا۔
وہ کعبہ کی خدمت اور اس کی نسبت سے عزت حاصل کرتے تھے، لیکن ان کے معاشرے میں بت پرستی بھی موجود تھی۔ وہ اللہ کو خالق ماننے کے باوجود عبادت میں دوسروں کو شریک کرتے تھے۔
قرآن انہیں اصل حقیقت کی طرف واپس بلا رہا تھا کہ جس رب نے تمہیں یہ مقام عطا کیا ہے، اسی کی عبادت کرو۔
آج اس آیت کا پیغام ہمارے لیے بھی بہت اہم ہے۔
ہم بھی کبھی کبھی دین سے تعلق رکھنے والی نسبتوں، ظاہری شناختوں اور مذہبی ماحول پر فخر کرنے لگتے ہیں، لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ کے ہاں اصل اہمیت بندگی کی ہے۔
صرف مسلمان گھرانے میں پیدا ہونا کافی نہیں، اپنے کردار میں اسلام کو زندہ کرنا بھی ضروری ہے۔
صرف مسجد سے تعلق رکھنا کافی نہیں، اپنے معاملات کو بھی اللہ کے حکم کے مطابق بنانا ضروری ہے۔
صرف زبان سے اللہ کی محبت کا دعویٰ کافی نہیں، اس کے احکام کے سامنے جھکنا بھی ضروری ہے۔
کیونکہ اللہ کے ساتھ تعلق صرف شناخت کا نہیں، اطاعت کا تعلق ہے۔
چوتھی آیت: دو نعمتیں جن پر پوری انسانی زندگی قائم ہے
ترجمہ: جس نے انہیں بھوک میں کھانا کھلایا اور خوف سے امن عطا کیا۔
(سورۃ قریش: 4)
یہ سورت کی آخری آیت ہے، لیکن اس کے اندر انسانی زندگی کی دو بنیادی ضروریات بیان کر دی گئی ہیں:
بھوک سے نجات اور رزق کی فراہمی۔
خوف سے نجات اور امن کی نعمت۔
ذرا تصور کیجیے کہ قرآن نے کتنے مختصر الفاظ میں انسانی زندگی کی کتنی بڑی حقیقت بیان کر دی۔
پہلی نعمت: رزق اور کھانا
انسان کی زندگی کا آغاز ہی ایک بنیادی ضرورت سے ہوتا ہے: اسے خوراک چاہیے۔
بچہ پیدا ہوتا ہے تو اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان بڑا ہوتا ہے تو اس کی ضروریات بڑھتی ہیں۔ اسے اپنے لیے، اپنے خاندان کے لیے اور اپنے بچوں کے لیے رزق چاہیے۔
اسی ضرورت کے لیے انسان محنت کرتا ہے، کاروبار کرتا ہے، ملازمت تلاش کرتا ہے اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسان اپنے رزق کا مکمل مالک ہے؟
ایک کسان زمین میں بیج ڈالتا ہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ بارش کتنی ہوگی، فصل کیسی ہوگی اور پیداوار کتنی ملے گی۔
ایک تاجر سرمایہ لگاتا ہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ مارکیٹ کے حالات کیا رخ اختیار کریں گے۔
ایک ملازم محنت کرتا ہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ آنے والے دنوں میں اس کی ملازمت برقرار رہے گی یا نہیں۔
یہ سب مثالیں بتاتی ہیں کہ انسان کے اختیار کی ایک حد ہے۔
وہ کوشش کر سکتا ہے، اسباب اختیار کر سکتا ہے، لیکن رزق کے تمام دروازوں پر اس کا اختیار نہیں۔
اسی لیے قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس رب نے بھوک میں کھانا عطا کیا، اسی کا شکر ادا کرو۔
یہ شکر صرف زبان سے الحمدللہ کہنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
اگر اللہ نے ہمیں رزق دیا ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہمارے اردگرد کوئی بھوکا تو نہیں۔
اگر ہمارے گھر میں دسترخوان آباد ہے تو کسی ضرورت مند کا چولہا بھی جلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ہے تو ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے کہ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس بنیادی ضروریات پوری کرنے کے وسائل نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ
ترجمہ: اور سوال کرنے والے کو نہ جھڑکو۔
(سورۃ الضحیٰ: 10)
یہ آیت ہمیں انسانوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے کی تعلیم دیتی ہے۔
کبھی کوئی ضرورت مند ہمارے دروازے پر آتا ہے، کبھی کوئی رشتہ دار مدد مانگتا ہے، کبھی کسی غریب کے حالات ہمارے سامنے آتے ہیں۔
ایسے موقع پر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہنے کی ضمانت نہیں۔
ممکن ہے کل ہمیں بھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑ جائے۔
دوسری نعمت: امن اور تحفظ
اللہ تعالیٰ نے کھانے کے فوراً بعد امن کا ذکر فرمایا۔
یہ ترتیب ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
انسان کے پاس کھانا ہو، دولت ہو، بڑا گھر ہو، بہترین کاروبار ہو، لیکن اگر اسے اپنی جان، اپنے بچوں اور اپنے گھر کے تحفظ کا یقین نہ ہو تو وہ ان نعمتوں سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
ذرا ان لوگوں کا تصور کیجیے جو جنگ زدہ علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔
جن کے گھر موجود ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ اگلا حملہ کب ہوگا۔
جن کے بچے ہیں مگر وہ نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے یا نہیں۔
جن کے پاس کھانا موجود ہے مگر اسے کھانے کے لیے بھی محفوظ جگہ میسر نہیں۔
ایسے لوگوں کے حالات ہمیں بتاتے ہیں کہ امن صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
امن کے بغیر گھر صرف عمارت رہ جاتا ہے، بازار صرف راستہ بن جاتا ہے اور زندگی مسلسل خوف کا نام بن جاتی ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو رات کو اپنے گھروں میں اطمینان سے سوتے ہیں، صبح اپنے کام پر نکلتے ہیں اور شام کو اپنے بچوں کے پاس واپس آ جاتے ہیں؟
ہم اس معمول کو معمولی سمجھتے ہیں، لیکن یہ بھی اللہ کی عظیم نعمت ہے۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ امن صرف اللہ سے مانگنے کی چیز نہیں، بلکہ بندوں کے ساتھ ہمارے رویّوں میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
اگر اللہ نے ہمیں امن دیا ہے تو ہمیں دوسروں کے لیے خوف کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
اگر اللہ نے ہمیں طاقت دی ہے تو اس طاقت سے کمزوروں کو دبانا نہیں چاہیے۔
اگر اللہ نے ہمیں اختیار دیا ہے تو اسے دوسروں کے حقوق پامال کرنے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
کیونکہ نعمت کا حقیقی شکر یہ ہے کہ انسان اسے اللہ کی نافرمانی کے بجائے اس کی اطاعت میں استعمال کرے۔
سورۃ قریش اور سورۃ الفیل کا باہمی تعلق
سورۃ قریش کو سمجھنے کے لیے اس سے پہلے آنے والی سورۃ الفیل پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔
سورۃ الفیل میں اللہ تعالیٰ نے اصحابِ فیل کا واقعہ بیان کیا ہے، جب ابرہہ اپنے لشکر اور ہاتھیوں کے ساتھ خانۂ کعبہ کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے آیا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی اور ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔
اس کے بعد سورۃ قریش میں قریش کو ان کی نعمتیں یاد دلائی گئیں۔
گویا ایک طرف اللہ نے انہیں دکھایا کہ کس طرح اس نے خانۂ کعبہ کو ایک بڑے حملے سے محفوظ رکھا، اور دوسری طرف انہیں ان کی معاشی سہولتوں، تجارتی سفروں، رزق اور امن کی نعمت یاد دلائی۔
سورۃ الفیل میں اللہ کی قدرت کا اظہار ہے، جبکہ سورۃ قریش میں اس قدرت کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نعمتوں کی یاد دہانی ہے۔
یہ دونوں سورتیں ہمیں ایک اہم حقیقت سمجھاتی ہیں:
اللہ کی قدرت صرف غیر معمولی واقعات میں ظاہر نہیں ہوتی، بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کی ان سہولتوں میں بھی ظاہر ہوتی ہے جنہیں ہم اکثر دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔
کبھی اللہ کسی بڑے خطرے سے حفاظت فرماتا ہے اور کبھی زندگی کے عام راستوں کو آسان بنا دیتا ہے۔
دونوں صورتوں میں بندے کا کام اپنے رب کو پہچاننا اور اس کا شکر ادا کرنا ہے۔
کیا سورۃ قریش صرف قریش کے لیے تھی؟
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔
کیا یہ سورت صرف مکہ کے قریش قبیلے کے لیے تھی، یا اس میں ہمارے لیے بھی کوئی پیغام ہے؟
یقیناً اس کا فوری تاریخی خطاب قریش سے ہے، لیکن اس کی بیان کردہ نعمتیں اور توحید و شکر کی دعوت ہر زمانے کے انسان کے لیے ہے۔
قرآن کا انداز ہی یہ ہے کہ وہ کسی خاص واقعے یا قوم کا ذکر کرتا ہے، مگر اس کے ذریعے انسانی کردار کی ایسی حقیقتیں واضح کرتا ہے جو ہر دور میں موجود رہتی ہیں۔
آج ہم قریش کے تجارتی قافلوں میں نہیں بیٹھتے، لیکن ہمارے پاس کاروبار، ملازمت، ذرائع آمدورفت اور معاشی مواقع موجود ہیں۔
آج ہم قدیم عرب کے صحرائی راستوں سے سفر نہیں کرتے، لیکن ہمارے لیے سفر کی بے شمار سہولتیں موجود ہیں۔
آج ہمارے پاس کھانے کے لیے مختلف اقسام کی اشیاء ہیں، لیکن دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ایک وقت کی روٹی میسر نہیں۔
آج ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہیں، لیکن دنیا کے کئی حصوں میں لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں۔
اس لیے سورۃ قریش ہم سے پوچھتی ہے:
کیا تم اپنی زندگی میں موجود نعمتوں کو پہچانتے ہو؟
کیا تم ان نعمتوں کے دینے والے کو یاد رکھتے ہو؟
اور کیا تمہاری عبادت اور تمہارا کردار اس شکر کی گواہی دیتا ہے؟
جب نعمتیں بڑھ جائیں تو کہیں دل غافل نہ ہو جائے
انسان کی ایک عجیب نفسیات ہے۔
جب اس کے پاس کوئی چیز نہیں ہوتی تو وہ اسے حاصل کرنے کے لیے بے چین رہتا ہے، لیکن جب وہ چیز مل جاتی ہے تو کچھ عرصے بعد اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔
جس گھر کے لیے اس نے برسوں دعائیں کی ہوتی ہیں، وہاں پہنچ کر اسے نئی خواہشیں گھیر لیتی ہیں۔
جس ملازمت کے لیے اس نے راتیں جاگ کر محنت کی ہوتی ہے، وہ مل جائے تو کچھ عرصے بعد اسی سے بے زار ہو جاتا ہے۔
جس صحت کی بحالی کے لیے وہ اللہ سے دعائیں کرتا ہے، صحت واپس آ جائے تو عبادت اور شکر میں وہی سنجیدگی برقرار نہیں رہتی۔
یہی غفلت انسان کو نعمتوں کے باوجود محروم کر دیتی ہے۔
اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے، مگر دل میں اطمینان نہیں ہوتا۔
اس کی زندگی میں آسائشیں ہوتی ہیں، مگر شکر نہیں ہوتا۔
اس کے دسترخوان پر کھانا ہوتا ہے، مگر کسی بھوکے کا خیال نہیں ہوتا۔
اس کے گھر میں امن ہوتا ہے، مگر دوسروں کے لیے اس کے رویّے میں رحم نہیں ہوتا۔
سورۃ قریش ہمیں اسی مقام پر روک کر سوچنے کی دعوت دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قریش کو ان کی نعمتیں یاد دلائیں اور ان نعمتوں کے جواب میں عبادت کا حکم دیا۔
یہی ترتیب ہمارے لیے بھی ایک اصول ہے:
نعمت ملے تو شکر پیدا ہونا چاہیے، شکر پیدا ہو تو اطاعت میں اضافہ ہونا چاہیے، اور اطاعت کا اثر ہمارے اخلاق اور معاملات میں بھی نظر آنا چاہیے۔
شکر صرف لفظ نہیں، ایک طرزِ زندگی ہے
ہم اکثر شکر کو چند مخصوص الفاظ تک محدود کر دیتے ہیں۔
حالانکہ شکر کے تین اہم پہلو ہیں: دل سے نعمت کو اللہ کی عطا ماننا، زبان سے اس کی حمد بیان کرنا اور اپنے عمل سے اس نعمت کا درست استعمال کرنا۔
اگر اللہ نے ہمیں مال دیا ہے تو اس مال کو حلال طریقے سے کمانا اور جائز کاموں میں خرچ کرنا شکر ہے۔
اگر اللہ نے ہمیں علم دیا ہے تو اس علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا شکر ہے۔
اگر اللہ نے ہمیں صحت دی ہے تو اس صحت کو نیکی اور عبادت میں استعمال کرنا شکر ہے۔
اگر اللہ نے ہمیں امن دیا ہے تو دوسروں کے حقوق کی حفاظت کرنا اور کسی کے لیے خوف کا سبب نہ بننا شکر ہے۔
اور اگر اللہ نے ہمیں کھانا دیا ہے تو بھوکوں کو کھلانا بھی شکر کی ایک خوب صورت صورت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ
ترجمہ: جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
(سنن ابی داؤد: 4811، جامع ترمذی: 1954)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کا تعلق صرف اللہ کے ساتھ ہمارے ذاتی تعلق تک محدود نہیں، بلکہ انسانوں کے ساتھ ہمارے رویّوں میں بھی اس کا اظہار ہونا چاہیے۔
جو شخص اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسے اللہ کے بندوں کے ساتھ بھی احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا چاہیے۔
آج سورۃ قریش ہمیں اپنے اندر کیا تلاش کرنے کی دعوت دیتی ہے؟
ذرا اپنی زندگی کا جائزہ لیجیے۔
آپ کے گھر میں کھانا موجود ہے۔ کیا آپ نے کبھی کسی ایسے شخص کے بارے میں سوچا جو آج بھوکا سوئے گا؟
آپ کو رات کو سونے کے لیے محفوظ جگہ میسر ہے۔ کیا آپ نے کبھی ان لوگوں کے لیے دعا کی جو جنگ، خوف اور بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں؟
آپ کے پاس کاروبار یا ملازمت کا موقع ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس موقع کو حلال، دیانت دارانہ اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بنانے کی کتنی ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے؟
آپ کے پاس صحت، وقت اور صلاحیت ہے۔ کیا آپ ان نعمتوں کو صرف دنیاوی خواہشات پوری کرنے میں استعمال کر رہے ہیں، یا اللہ کی رضا کے لیے بھی کچھ کر رہے ہیں؟
یہ سوالات کسی دوسرے انسان کے لیے نہیں، ہمارے اپنے لیے ہیں۔
کیونکہ قرآن جب نعمتوں کی یاد دہانی کراتا ہے تو اس کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں ہوتا، بلکہ انسان کے اندر ایک تبدیلی پیدا کرنا ہوتا ہے۔
ہمیں یہ احساس دلانا ہوتا ہے کہ ہماری زندگی خود بخود نہیں چل رہی۔
ہماری سانسیں، ہمارا رزق، ہماری حفاظت، ہمارے مواقع اور ہمارے گھر میں موجود سکون، سب اللہ کی عطا ہیں۔
اور جس رب نے یہ سب عطا کیا ہے، اسی کے سامنے جواب دہی بھی ہے۔
آخری بات: جس نے بھوک میں کھلایا اور خوف میں امن دیا، اسے مت بھولیے
سورۃ قریش کی چار آیات ہمیں زندگی کا ایک مکمل اصول سمجھاتی ہیں۔
رزق ملے تو رزق دینے والے کو پہچانو۔
امن ملے تو اس کی قدر کرو۔
مقام ملے تو اسے غرور کا سبب نہ بناؤ۔
تجارت اور کامیابی ملے تو اسے اپنی ذاتی بڑائی کا ثبوت نہ سمجھو۔
اور جب اللہ کی نعمتوں کو پہچان لو تو اس کی عبادت اور اطاعت کی طرف بڑھو۔
ہماری سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ ہمارے پاس کوئی نعمت کم ہے، بلکہ بعض اوقات ہماری سب سے بڑی محرومی یہ ہوتی ہے کہ ہمارے پاس بہت کچھ ہوتا ہے، مگر ہم اسے نعمت سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
ہم مزید مانگتے رہتے ہیں، مگر موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھول جاتے ہیں۔
شاید ہمیں اپنی زندگی میں کبھی رک کر صرف یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ نے ہمیں پہلے ہی کتنا کچھ دے رکھا ہے۔
جس رب نے ہمیں بھوک میں کھانا دیا، خوف میں امن دیا اور زندگی کے راستوں کو آسان بنایا، کیا ہم نے اپنی زندگی اس کی بندگی کے لیے وقف کرنے کی کوشش کی؟
یہی سورۃ قریش کا بنیادی پیغام ہے۔
تدبر کے لیے چند سوالات
کیا میں اپنی کامیابیوں کو صرف اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہوں یا ان میں اللہ کی عطا کو بھی پہچانتا ہوں؟
کیا میرے رزق میں کسی بھوکے، غریب اور ضرورت مند کا خیال بھی شامل ہے؟
کیا میں اپنے گھر میں موجود امن اور سکون پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں؟
کیا میری عبادت، میرا اخلاق اور میرے معاملات میری شکر گزاری کی گواہی دیتے ہیں؟
اگر آج مجھ سے میری کوئی بڑی نعمت چھن جائے تو کیا میں اس کی قدر پہچان سکوں گا؟
یاد رکھیے، نعمتوں کی پہچان انسان کو شکر گزار بناتی ہے، اور حقیقی شکر انسان کو اپنے رب کے قریب لے جاتا ہے۔
اگر سورۃ قریش کی یہ تحریر آپ کو اپنی زندگی کی نعمتوں پر غور کرنے کا موقع دے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔ صفحے کو فالو کریں، پوسٹ کو لائک اور شیئر کریں، اور کمنٹ میں ضرور بتائیں:
آپ کے خیال میں انسان سب سے زیادہ کس نعمت کو معمولی سمجھ کر بھول جاتا ہے: رزق، صحت یا امن؟