سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی۔۔۔قسط نمبر3

سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات

تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ سلسلہ عظیمیہ اس کی علمی و سماجی خدمات۔۔۔ تحریر۔۔۔ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی)لئے اللہ تعالی نے انبیائے کرام علہیم السلام کے ذریعے اپنے بندوں کو عبادات کا نظام عطا فرمایا۔

حقوق العباد :پیغمبران علیہم السلام کی تعلیمات واضح کرتی ہیں کہ انسان اس دنیا میں عارضی قیام کے لئے آیا ہے۔ یہ دنیا دارالاسباب اور آخرت کی کھیتی ہے۔ اس عارضی قیام کے دوران انسان کا تعلق دوسرے انسانوں (معاشرہ) سے قائم رہتا ہے۔ انسان اپنی پیدائش سے لیکر آخری لمحات تک مختلف صورتوں میں معاشرہ سے وابستہ رہتا ہے۔ قریبی رشتوں سے لیکر معاشرہ کے دوسرے شعبوں تک مثلاً معاشرت، تعلیم ، معیشت، تہذیب اور اخلاق وغیرہ سےجڑا ہوا ہے۔

آدمی کا تعلق اپنے گھر میں پہلے اپنے والدین اور بیوی بچوں سے رہتا ہے۔ پھر دیگر قریبی رشتہ داروں اور ہمسائیوں سے ہوتا ہے۔ اسکے بعد معاش کے دائرہ کار میں اس کا ربط کئی طرح کے لوگوں سے رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی بے شمار لوگ کسی نہ کسی ذریعے سے ہر آدمی کے ساتھ رابطہ یا تعلق میں آتے ہیں۔

انبیائے کرام کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ انسان دوسرے لوگوں سے کس قسم کا برتاؤ رکھے۔ وہ معاشرہ کے لئے کس طرح ایک مفید شخص ثابت ہو سکتا ہے۔ معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہی اور ان کو پورا کرنا اسلام کی اصطلاح میں حقوق العباد ہے۔ انسانوں کے لئے ہدایت ورہنمائی کی غرض سے نبوت و رسالت کے سلسلہ کا انتقام اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ہو گیا۔

ترجمہ: محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النسیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ [ سورۃ احزاب (33): 40] حضرت محمدصلی ال نیلم کے بعد قیامت تک کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ انسانوں کے لئے وحی کے ذریعہ اللہ تعالی کے احکامات و ہدایات کا سلسلہ اب

مکمل ہو کر بند ہو چکا ہے۔

حضرت محمد ﷺ پر بذریعہ وحی نازل ہونے والی کتاب قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے۔ اللہ تعالی نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر دین کی تکمیل فرمادی اور آپ ﷺ کی امت کے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا۔

ترجمہ: آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا۔ [سوره مانده (5): 3]

توحید باری تعالی کو سمجھنے ، تخلیق انسانی کا منشار تلاش کرنے اور اللہ تعالی کی پسندیدہ طرزوں میں خود کو ڈھالنے کا جامع اور سہل ترین ذریعہ اسلام ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تعلیم کی تعلیمات اہمیت و ضرورت :

حضور کریم ﷺ نے مکہ میں مشرکین کے شدید رد عمل، مدینہ منورہ میں یہودیوں اور منافقین کی سازشوں اور دشمنوں کی لشکر کشی کے باوجود اس سے پاکیزہ دین کی اشاعت و فروغ کا سلسلہ جاری رکھا اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اتنی ہمہ جہت ہیں کہ رہنمائی کے تمام پہلو ذات محمدی ﷺمیں سمٹ گئے ہیں۔ ڈاکٹر حمید اللہ کے الفاظ میں اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔

دنیا میں ایک حیثیتی بڑے لوگوں کی کمی نہیں۔ لیکن اگر ہم مثلا سکندر اعظم اور نپولین و ہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی صرف ایک سپہ سالار اور فاتح کے لئے مفید مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے اور بس۔ گوتم بدھ کی زندگی، ریاضت اور عبادت میں خصوصی دلچسپی لینے والوں کے لئے سبق آموز ہو سکتی ہے۔ ہومر تصرف ایک شاعر اور قصہ گو تھا۔ افلاطون و ارسطو صرف حکیم و فلسفی تھے، زندگی کے دوسرے شعبوں میں ان کی کوئی بڑی وقعت نہیں خاص کر اکثر ناصح ہے عمل رہے۔ اس کے برخلاف پیغمبر اسلام لیا ایلیم کی زندگی قول و فعل کی یکسانی ہمہ ہمہ جہت حیثیت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زندگی ہی میں کامیابی کے لحاظ سے ایک بے مثل چیز ہے کہ دعوی بھی ہے اور اس کا ثبوت بھی۔” [ عہد نبوی میں نظام حکمرانی، ڈاکٹر حمید اللہ ]

رسول اللہ ﷺ کی ہمہ جہت شخصیت کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر حمید اللہ نے خصوصاً رسول اللہ صلی لیلیوم کی سیاسی بصیرت ، آپ ﷺ به حیثیت سپه سالار، به حیثیت منتظم و مدبر، معلم اخلاق، معاشی و معاشرتی مصلح کے مختلف پہلو بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ان تمام شعبوں میں حضور کریم ﷺ نے بہترین رول ادا کیا۔ (ایضاً ] ڈاکٹر حمید اللہ حضور پاک ﷺ کی ہمہ جہت

ہستی کے ان پہلوؤں کو بیان کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں” یہ دنیوی پہلو تھا۔ اسلام کی خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ دین ود نیادونوں کی بہ یک وقت بھلائی چاہتا ہے۔ روحانی ترقی اور تزکیۂ نفس کے لئے توحید سے بڑھ کر کوئی وسیلہ نہیں ہو سکتا۔“ [ ایضاً ]

رسول اللہ ﷺ کی ذات ستودہ صفات اور آپ ﷺ کی ضرورت اس لئے ہے کہ آپ ﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لئے بہترین رول ماڈل یا نمونہ حیات ہے۔ دنیاوی معاملات میں گھریلو زندگی کی بہتری سے لے کر اصول حکمرانی تک رہنمائی کے تمام پہلور سول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں موجود ہیں۔ ان دنیوی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ آدمی کو ہمیشہ تزکیہ نفس اور روحانی ترقی کی بھی ضرورت رہتی ہے چنانچہ

اس بارے میں بھی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں واضح رہنمائی موجود ہے۔

اس تفصیل سے ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں ہماری دنیاوی معاشرتی ، اخلاقی ، معاشی و تہذ یہی بہتری کے لئے رہنمائی بھی موجود ہے اور روحانی ترقی ( تزکیہ نفس، ایمان کی پختگی اور رسول اللہ ﷺ سے عشق و محبت) کی رہنمائی بھی ملتی ہے۔

میں نے اپنے مقالہ میں اس روحانی پہلو پر روشنی ڈالی ہے بعد میں اسی کو تصوف کا نام مل گیا۔

تصوف کے متعلق صوفیائے کرام کے مختلف اقوال منقول ہیں ان اقوال کی تفصیل پہلے باب میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کا مطلب اپنا تزکیہ نفس کرنا اور باطنی۔۔۔جاری ہے۔