مودت اور رحمت — جب اللہ دو دلوں کے درمیان گھر بنا دیتا ہے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی غور کیا ہے کہ ایک اجنبی انسان اچانک ہماری زندگی میں آتا ہے، چند لفظوں میں نکاح کا عہد بندھتا ہے، اور پھر وہ شخص جس سے کل تک ہمارا کوئی تعلق نہیں تھا، آج ہماری خوشی کا سبب، ہماری پریشانی کا ساتھی، ہماری تنہائی کا مداوا اور ہماری زندگی کا سب سے قریب انسان بن جاتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف نکاح کا نتیجہ نہیں۔ قرآن اسے *اللہ کی نشانی* کہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: *﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾* *ترجمہ:* اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے ہی لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔ *سورۃ الروم: ۲۱* ذرا رک کر دیکھیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں صرف یہ نہیں فرمایا کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے محبت کریں گے۔
فرمایا: *وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً* *ہم نے تمہارے درمیان مودت اور رحمت رکھ دی۔* یعنی کبھی کبھی انسان جس محبت کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے، وہ دراصل اللہ کی عطا ہوتی ہے۔
دو اجنبی، اور درمیان میں اللہ کی ایک نشانی
نکاح سے پہلے دو انسان اپنی اپنی دنیا میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ایک گھر میں پلا ہوتا ہے، دوسرا کسی اور گھر میں۔ ان کی یادیں الگ ہوتی ہیں، عادتیں الگ، مزاج الگ، پسند ناپسند الگ، تربیت الگ۔ پھر ایک دن ایک رشتہ قائم ہوتا ہے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک دوسرے کے دکھ اپنے دکھ محسوس ہونے لگتے ہیں۔ ایک کے چہرے کی تھکن دوسرے سے چھپتی نہیں۔ ایک کی خاموشی دوسرے کو پریشان کرتی ہے۔ ایک بیمار ہو تو دوسرے کی رات بدل جاتی ہے۔ ایک کامیاب ہو تو دوسرے کے دل میں خوشی پیدا ہوتی ہے۔ ایک روئے تو دوسرے کے اندر کچھ ٹوٹنے لگتا ہے۔ یہ صرف انسانی قربت نہیں۔ یہ اس رب کی کاریگری ہے جس نے فرمایا: *وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً* اس نے تمہارے درمیان مودت اور رحمت رکھ دی۔
محبت صرف ایک جذبہ نہیں
ہم اکثر محبت کو مسکراہٹ، تحفے، خوبصورت باتوں اور خوشگوار لمحات تک محدود کر دیتے ہیں۔ مگر قرآن نے محبت کے ساتھ *رحمت* کا لفظ رکھا ہے۔ شاید اس لیے کہ زندگی ہمیشہ خوبصورت نہیں رہتی۔ جوانی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ صحت ہمیشہ ساتھ نہیں دیتی۔ چہرے پر ہمیشہ وہی رونق نہیں رہتی۔ آمدنی میں ہمیشہ فراخی نہیں رہتی۔ اور انسان بھی ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کبھی شوہر تھک کر گھر آتا ہے۔ کبھی بیوی مسلسل ذمہ داریوں سے بوجھل ہوتی ہے۔ کبھی دونوں میں سے کوئی بیماری سے لڑ رہا ہوتا ہے۔ کبھی عمر انسان کے جسم سے وہ قوت چھین لیتی ہے جس پر کبھی اسے فخر تھا۔ تب محبت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں *مودت، رحمت بن جاتی ہے۔* جو کل حسن سے متاثر تھا، آج کمزور جسم کو سہارا دیتا ہے۔ جو کل کسی کی مسکراہٹ کا دیوانہ تھا، آج اس کی خاموشی کو سمجھتا ہے۔ جو کل ہاتھ تھامنے کے لیے آگے بڑھتا تھا، آج وہی ہاتھ دوا پکڑاتا ہے۔ یہ محبت کی انتہا ہے۔
کبھی جس چہرے کو دیکھ کر دل خوش ہوتا تھا…
وقت گزرتا ہے۔ بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے۔ آنکھوں کے گرد لکیریں نمودار ہوتی ہیں۔ چال میں وہ تیزی نہیں رہتی۔ گھر میں وہ شور نہیں رہتا جو جوانی میں ہوا کرتا تھا۔ بچے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مصروفیات بڑھ جاتی ہیں۔ دن چھوٹے اور ذمہ داریاں بڑی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ اور ایک وقت آتا ہے جب انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ جس شخص کو وہ کبھی صرف اپنا شریکِ حیات سمجھتا تھا، وہ تو اس کی زندگی کے کتنے موسموں کا گواہ بن چکا ہے۔ اس نے اس کے قہقہے بھی دیکھے۔ اس کے آنسو بھی۔ اس کی کامیابیاں بھی۔ اس کی شکستیں بھی۔ اس کی کمزوریاں بھی۔ اس کے وہ راز بھی جنہیں دنیا نہیں جانتی۔ پھر دل میں ایک سوال اٹھتا ہے: *یہ شخص میرے لیے اتنا اپنا کب ہوگیا؟* شاید وہیں قرآن کا جواب موجود ہے: *وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً* اللہ نے تم دونوں کے درمیان کچھ رکھ دیا تھا۔
گھر اینٹوں سے نہیں بنتا
ایک مکان میں خوبصورت فرش ہو سکتا ہے۔ قیمتی پردے ہو سکتے ہیں۔ مہنگا فرنیچر ہو سکتا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر ہو سکتی ہے۔ مگر پھر بھی وہ گھر نہیں ہوتا۔ گھر وہاں بنتا ہے جہاں انسان کو یہ یقین ہو کہ: *یہاں میری تھکن سمجھی جائے گی۔* *یہاں میری غلطی پر مجھے انسان سمجھا جائے گا۔* *یہاں میری کمزوری میرے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔* *یہاں میرے آنسو میری تذلیل نہیں بنیں گے۔* *یہاں میرے راز محفوظ رہیں گے۔* یہی سکون ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا: *لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا* تاکہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو۔ کتنی عجیب بات ہے! انسان پوری دنیا میں سکون تلاش کرتا ہے، مگر اللہ نے بعض اوقات اس کے سکون کو ایک انسان کے دل سے وابستہ کر دیا ہوتا ہے۔
اور پھر ہم اسی نعمت کو زخمی کرنے لگتے ہیں
سب سے زیادہ دردناک بات یہ نہیں کہ گھر میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے۔ اختلاف تو دو مختلف انسانوں کے درمیان ہوسکتا ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ کبھی وہی دو انسان جو ایک دوسرے کے لیے لباس بنائے گئے تھے، ایک دوسرے کے زخموں کو دنیا کے سامنے کھولنے لگتے ہیں۔ قرآن نے فرمایا: *﴿هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ﴾* وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ لباس جسم کو ڈھانپتا ہے۔ سردی سے بچاتا ہے۔ کمزوری چھپاتا ہے۔ زینت دیتا ہے۔ اور انسان کے سب سے قریب رہتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے: جس رشتے کو اللہ نے لباس کہا، ہم اسے ایک دوسرے کی عیب شماری کا ذریعہ کیوں بنا دیتے ہیں؟ شوہر کی کمزوری بیوی کی محفل کا موضوع کیوں بنے؟ بیوی کی لغزش شوہر کے دوستوں کے درمیان مذاق کیوں بنے؟ ایک دوسرے کی نجی باتیں غصے کے وقت ہتھیار کیوں بن جائیں؟ اگر اللہ نے ایک دوسرے کو *لباس* بنایا ہے تو پھر ایک دوسرے کو بے لباس کرنے کی کوشش کہاں کی وفا ہے؟
مودت مانگتی نہیں، بنائی جاتی ہے
بعض لوگ چاہتے ہیں کہ شریکِ حیات انہیں محبت دے، مگر خود محبت دینے کی مشقت سے بچتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرا انہیں سمجھے، مگر خود سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرا ان کی عزت کرے، مگر اختلاف کے وقت زبان پر قابو نہیں رکھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرا ان کے لیے وقت نکالے، مگر خود ہر وقت اپنی دنیا میں مصروف رہتے ہیں۔ مودت صرف دل میں پیدا ہونے والا احساس نہیں۔ اس کے پیچھے چھوٹے چھوٹے اعمال ہوتے ہیں۔ ایک نرم جملہ۔ ایک خاموش معافی۔ ایک بے طلب خدمت۔ ایک تھکے ہوئے انسان کے لیے پانی کا گلاس۔ گھر میں داخل ہوتے وقت چہرے پر نرمی۔ غلطی کے بعد تذلیل کے بجائے اصلاح۔ اور کبھی صرف اتنا کہنا: *میں تمہارے ساتھ ہوں۔* ایسے ہی معمولی دکھائی دینے والے لمحے ایک بڑے رشتے کو زندہ رکھتے ہیں۔
رحمت وہاں ظاہر ہوتی ہے جہاں حق مانگنے کے بجائے دل سمجھا جاتا ہے
جوانی میں محبت آسان ہوتی ہے۔ کمزوری میں محبت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ جب دوسرا وہ نہ کر سکے جو پہلے آسانی سے کیا کرتا تھا، تب آپ کا رویہ کیا ہوگا؟ جب بیماری مزاج بدل دے؟ جب بڑھاپا جسم کو محتاج بنا دے؟ جب یادداشت کمزور ہوجائے؟ جب ایک دوسرے کی بات بار بار سمجھانی پڑے؟ جب آمدنی کم ہوجائے؟ جب زندگی کا کوئی خواب پورا نہ ہو؟ تب اگر دل کہے: *اب یہ پہلے جیسا نہیں رہا۔* تو شاید قرآن ہمیں یاد دلائے: *مودت کے ساتھ رحمت بھی رکھی گئی تھی۔* رحمت کا مطلب ہے: میں تمہیں صرف اس وقت نہیں چاہتا جب تم میرے لیے آسان ہو۔ میں تمہیں اس وقت بھی تھاموں گا جب زندگی تمہیں مشکل بنا دے گی۔
ایک دن یہ گھر خاموش ہوجائے گا
ہم اکثر یہ سوچتے ہی نہیں۔ گھر میں آوازیں ہیں۔ بچے ہیں۔ کام ہیں۔ شکایتیں ہیں۔ بحثیں ہیں۔ روزمرہ کی الجھنیں ہیں۔ اور ہمیں لگتا ہے یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ لیکن وقت خاموشی سے سب کچھ بدل دیتا ہے۔ بچے اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ والدین رخصت ہوجاتے ہیں۔ دوست بچھڑ جاتے ہیں۔ جسم کمزور ہوجاتا ہے۔ اور ایک دن اسی گھر میں دو بوڑھے انسان بیٹھے ہوتے ہیں۔ دنیا کی بہت سی چیزیں پیچھے رہ چکی ہوتی ہیں۔ نہ بڑی خواہشیں باقی رہتی ہیں، نہ مقابلہ۔ صرف ایک دوسرے کی موجودگی رہ جاتی ہے۔ تب شاید انسان سمجھتا ہے کہ جس شخص کی معمولی سی بات پر وہ کبھی ناراض ہوجاتا تھا، وہی تو اس کی زندگی کا سب سے بڑا ساتھ تھا۔ کاش انسان یہ بات *اس وقت سمجھ لے جب دوسرا اس کے پاس موجود ہو۔* کاش معافی جنازے کے بعد نہ دینی پڑے۔ کاش محبت قبر کے کتبے پر نہ لکھی جائے۔ کاش قدر اس وقت ہو جب ہاتھ پکڑنے والا ہاتھ ابھی گرم ہو۔
شاید تمہیں معلوم ہی نہیں کہ تم کسی کی دعا کا جواب ہو
کبھی اپنے شریکِ حیات کو غور سے دیکھیے۔ وہ انسان جس کی بعض عادتیں آپ کو پسند نہیں۔ جس سے کبھی اختلاف ہوجاتا ہے۔ جس سے کبھی دل دکھتا ہے۔ وہی انسان شاید آپ کی زندگی کے سب سے مشکل دنوں میں آپ کے ساتھ کھڑا رہا ہو۔ ممکن ہے آپ کو یاد بھی نہ ہو کہ آپ کتنی بار ٹوٹے تھے اور اس نے آپ کو سنبھالا تھا۔ ممکن ہے اسے بھی یاد نہ ہو کہ آپ نے کتنی بار اس کے لیے اپنی خواہش قربان کی۔ یہی تو مودت ہے۔ وہ ہمیشہ بڑے واقعات میں نظر نہیں آتی۔ کبھی وہ رات کے آخری پہر خاموشی سے ڈھانپ دی جانے والی چادر ہوتی ہے۔ کبھی بیماری میں پکڑا جانے والا ہاتھ۔ کبھی غصے کے جواب میں خاموشی۔ کبھی لوگوں کے سامنے عزت بچا لینا۔ کبھی اکیلے میں سمجھا دینا۔ اور کبھی انسان کے گزرے ہوئے کل کو معاف کرکے اس کے آج کو قبول کر لینا۔
اگر مودت کم ہوگئی ہے تو آیت کو دوبارہ پڑھیں
کبھی رشتے کو بچانے کے لیے بڑے فیصلوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی صرف قرآن کے ایک جملے کے سامنے بیٹھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ *وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً* اللہ نے *تمہارے درمیان* مودت رکھی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یہ رشتہ صرف تم دونوں کی ملکیت نہیں۔ اس میں اللہ کی ایک نشانی بھی ہے۔ تو جب دل میں سختی آئے، ایک لمحے کے لیے سوچیں: *کیا میں اس نشانی کی حفاظت کر رہا ہوں؟* جب زبان تلخ ہونے لگے، خود سے پوچھیں: *کیا میرے الفاظ اس سکون کو توڑ رہے ہیں جسے اللہ نے میرے گھر میں رکھا تھا؟* جب پرانی غلطی دوبارہ یاد آئے، سوچیں: *کیا میں اپنے گھر میں رحمت بڑھا رہا ہوں یا حساب کتاب؟* اور جب دوسرا کمزور پڑ جائے تو یاد کریں: *آج شاید اسے میری محبت نہیں، میری رحمت کی ضرورت ہے۔*
محبت کا سب سے خوبصورت انجام
ایک کامیاب ازدواجی زندگی وہ نہیں جس میں کبھی اختلاف نہ ہو۔ وہ زندگی زیادہ خوبصورت ہے جس میں اختلاف کے باوجود دل ایک دوسرے کے خلاف مستقل جنگ نہ بن جائیں۔ جہاں معافی کے لیے دروازہ کھلا رہے۔ جہاں گفتگو کا راستہ بند نہ ہو۔ جہاں عزت غصے کے ہاتھوں قتل نہ ہو۔ جہاں ایک دوسرے کی خامیاں دوسروں کی تفریح نہ بنیں۔ جہاں بڑھاپا بوجھ نہیں بلکہ مشترکہ سفر کا آخری باب سمجھا جائے۔ اور جہاں دونوں انسان کبھی کبھی اپنے رشتے کو دیکھ کر یہ سوچیں: *اللہ نے ہمیں ایک دوسرے کے لیے کیوں چنا ہوگا؟* شاید اس لیے کہ ایک دوسرے کے ذریعے انہیں سکون ملنا تھا۔ شاید اس لیے کہ ایک دوسرے کے ذریعے انہیں صبر سیکھنا تھا۔ شاید اس لیے کہ ایک دوسرے کی کمزوریوں میں انہیں اپنی محتاجی دکھائی دینی تھی۔ اور شاید اس لیے کہ دونوں مل کر اللہ کی اس نشانی کو دیکھ سکیں جسے قرآن نے کہا: *وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً*
آخر میں صرف ایک بات
اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آج اپنے شریکِ حیات کو صرف اس نظر سے نہ دیکھیے کہ وہ آپ کے لیے کیا کرتا ہے۔ ایک لمحے کے لیے یہ دیکھیے کہ *اللہ نے اس کے دل میں آپ کے لیے کیا رکھا ہے، اور آپ کے دل میں اس کے لیے کیا باقی رکھا ہے۔* اگر محبت ہے تو اس پر شکر کیجیے۔ اگر فاصلے آگئے ہیں تو انا سے پہلے رحمت کو جگہ دیجیے۔ اگر کوئی پرانا زخم ہے تو اسے ہر جھگڑے میں دوبارہ زندہ نہ کیجیے۔ اگر دوسرا کمزور ہے تو اسے دھکا نہ دیجیے۔ اور اگر کبھی آپ کو لگے کہ یہ شخص اب پہلے جیسا نہیں رہا تو اپنے آپ سے پوچھ لیجیے: *کیا میں بھی پہلے جیسا رہا ہوں؟* آخر ہم دونوں انسان ہیں۔ وقت ہمیں بدلتا ہے۔ عمر ہمیں بدلتی ہے۔ آزمائشیں ہمیں بدلتی ہیں۔ اور شاید اسی لیے اللہ نے صرف *مودت* نہیں فرمائی۔ ساتھ *رحمت* بھی فرمائی۔ کیونکہ محبت خوبصورت دنوں میں ساتھ دیتی ہے۔ *رحمت مشکل دنوں میں ہاتھ نہیں چھوڑتی۔* اور جب دنیا کی ہر آواز خاموش ہوجائے گی، جب زندگی کے سارے شور پیچھے رہ جائیں گے، جب دو انسان اپنے سفر کے آخری کنارے پر کھڑے ہوں گے، تب شاید ان کے پاس صرف یہی سوال بچے گا: *ہم نے ایک دوسرے کو اللہ کی دی ہوئی اس نشانی کی طرح سنبھالا تھا، یا ایک دوسرے کو توڑتے رہے تھے؟*
اللہ ہمارے گھروں کو صرف رہنے کی جگہ نہیں، *سکون کی جگہ* بنائے۔ ہماری محبت کو خواہش سے عبادت تک لے جائے۔ ہماری ناراضی میں انصاف، ہماری گفتگو میں نرمی، ہماری خاموشی میں حکمت، اور ہمارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے وہ رحمت پیدا فرمائے جو وقت کے ساتھ کم نہ ہو بلکہ بڑھتی چلی جائے۔ *یا اللہ! جن دلوں کو تو نے نکاح کے ذریعے جوڑا ہے، انہیں دنیا کی تلخیوں سے ایک دوسرے کے خلاف نہ ہونے دینا۔* *ان کے درمیان مودت کو اپنی رحمت کا راستہ بنا دینا، اور جب محبت کم پڑ جائے تو رحمت کو باقی رکھنا۔* *آمین یا رب العالمین۔*