داستان ایمان فروشوں کی

داستان ایمان فروشوں کی

قسط نمبر 58

اسلام کی پاسبانی کب تک کرو گے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )رات کی تاریکی دمشق کے نواحی علاقے پر چھائی ہوئی تھی۔ ہر طرف خاموشی تھی، مگر اس خاموشی کے پردے میں ایک خطرناک کھیل جاری تھا۔ صلیبی جاسوس اپنے منصوبے کی ناکامی سے بے خبر نہیں رہے تھے۔ انہیں اندازہ ہوچکا تھا کہ ان کا راز افشا ہوگیا ہے اور اب ان کے لیے یہاں رکنا موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔

اسی دوران قدرت نے ایک ایسا موقع پیدا کردیا جس کا علی بن سفیان تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

وہ توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں اسے ایک اجنبی ملا۔ اس نے علی بن سفیان سے ایک سرائے کا راستہ پوچھا۔ رات کا اندھیرا گہرا تھا اور علی نے اپنے سر پر چادر ڈال رکھی تھی۔ ورنہ روشنی میں وہ فوراً پہچان لیا جاتا۔

اجنبی کی چند باتوں نے علی کو چونکا دیا۔

اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ یہ کوئی عام مسافر نہیں بلکہ صلیبی جاسوس ہے۔ دشمن کو ان کے منصوبے کی بھنک پڑ چکی تھی اور اب وہ فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

علی بن سفیان نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخص کو اپنے اعتماد میں لے لیا۔ خوش اخلاقی سے باتیں کرتا ہوا اس کے ساتھ چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ صلیبیوں کے خیموں کے قریب پہنچ گئے۔

علی نے موقع دیکھ کر اپنے دو تین قابل اعتماد ساتھیوں کو جگایا اور انہیں ایک خفیہ منصوبے پر عمل کرنے کی ہدایت کردی۔

پھر وہ خود دشمن کے خیموں کی طرف بڑھا۔

ایک خیمے میں صلیبی جاسوس اور ان کے ساتھ موجود لڑکیاں جمع تھیں۔ علی دبے پاؤں قریب پہنچا اور ان کی گفتگو سننے لگا۔ اسے اتنا ضرور معلوم ہوگیا کہ دشمن اس کی کارروائی سے واقف ہوچکا ہے، لیکن یہ راز کس طرح فاش ہوا تھا، اس کا سراغ ابھی نہیں ملا تھا۔

دوسری طرف علی کے آدمی اپنی اپنی جگہ سنبھال چکے تھے۔ وہ برچھوں سے مسلح ہوکر اونٹوں کے پیچھے چھپ گئے تھے۔

اب صرف دشمن کے باہر نکلنے کا انتظار تھا۔

کچھ ہی دیر گزری تھی کہ صلیبی خیموں سے نکل کر اسی طرف بڑھے جہاں علی کے آدمی ان کے منتظر تھے۔

اچانک علی بن سفیان بھی سامنے آگیا۔

دشمن نے ادھر ادھر دیکھا تو ہر طرف مسلح سپاہی موجود تھے۔ فرار کے تمام راستے بند ہوچکے تھے۔

علی نے فاتحانہ انداز میں کہا:

’’دوستو! تمہاری جاسوسی کا معیار تو بہت ہی کمزور نکلا۔ کیا جاسوس اس طرح اندھیرے میں اجنبیوں سے راستے پوچھتے پھرتے ہیں؟ کیا تمہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ کسی شخص سے بات کرنے سے پہلے اس کی شناخت ضروری ہوتی ہے؟ تمہیں ابھی بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘‘

ایک صلیبی نے شکست تسلیم کرتے ہوئے جواب دیا:

’’آپ ہماری جاسوسی کی مہارت کو بھی تسلیم کریں گے۔ ہم نے آپ کے ایک آدمی سے آپ کی حقیقت معلوم کرلی تھی۔ یہ تو قسمت کا کھیل ہے۔ آج آپ جیت گئے اور ہم ہار گئے۔ اگر ہمارا قائد مارا نہ گیا ہوتا تو شاید ہم اس مصیبت میں نہ پھنستے۔‘‘

علی نے فوراً پوچھا:

’’وہ آدمی کون تھا جس نے ہماری حقیقت تمہیں بتائی؟‘‘

اس سے پہلے کہ کوئی مرد جواب دیتا، وہاں موجود ایک لڑکی نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کیا۔

’’وہ اس خیمے میں سویا ہوا ہے۔ وہ میرے دھوکے میں آگیا تھا۔‘‘

علی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا:

’’اس کا فیصلہ بھی قاہرہ میں ہوگا۔ تم سب ہمارے ساتھ چلو گے۔‘‘

صبح ہوئی تو ایک تجارتی قافلہ دمشق سے روانہ ہوا۔ بظاہر یہ عام تاجروں کا قافلہ تھا۔ اونٹوں پر تجارتی سامان اور خیمے لدے ہوئے تھے، مگر ان خیموں میں ایک ایسا راز چھپا ہوا تھا جس کا علم صرف علی بن سفیان اور اس کے منتخب سپاہیوں کو تھا۔

چار صلیبی مرد اور چار لڑکیاں خیموں میں لپیٹ کر اونٹوں پر باندھ دیے گئے تھے۔

قافلہ شہر سے بہت دور نکل آیا تو علی نے انہیں باہر نکلوایا۔ سب زندہ تھے۔ مردوں کو گھوڑوں پر اور لڑکیوں کو اونٹوں پر سوار کرادیا گیا۔

صلیبیوں نے اپنی رہائی کے لیے وہ سونا، جواہرات اور قیمتی تحائف پیش کیے جو وہ خلیفہ اور دوسرے امراء کے لیے لائے تھے۔

علی بن سفیان نے ان کی طرف دیکھ کر کہا:

’’تم یہ دولت کس کے لیے لائے تھے؟ اب یہ سب میرے ساتھ قاہرہ جارہی ہے۔‘‘

اس طرح علی بن سفیان دشمن کے جاسوسوں کو گرفتار کرکے ایک نہایت اہم کامیابی حاصل کرچکا تھا۔

مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی یہ کامیابی آنے والے طوفان سے پہلے کی ایک معمولی سی خبر ہے۔

٭ ٭ ٭

نورالدین زنگی کی وفات نے عالم اسلام کی سیاسی فضا کو یکسر بدل دیا تھا۔ وہ حکمران جس نے مسلمانوں کو ایک قوت بنانے کی کوشش کی تھی، اب دنیا میں موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد مختلف اسلامی ریاستوں کے حکمران اپنی اپنی سلطنت اور اقتدار بچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔

صلیبی حکمرانوں نے اس صورت حال کو اپنے لیے سنہری موقع سمجھا۔

تریپولی کا حکمران ریمانڈ اور یروشلم کے صلیبی سردار پہلے ہی ایک دوسرے سے مشاورت کرچکے تھے۔ انہوں نے اپنے منصوبوں میں تبدیلی کی اور مسلمانوں کی باہمی نااتفاقی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

ان کا ایک کمانڈر سیرز فوج لے کر حلب کی طرف بڑھا۔ وہاں کا امیر شمس الدین تھا۔ صلیبی کمانڈر نے اسے پیغام بھیجا کہ یا تو حلب اس کے حوالے کردے یا صلح کرکے بھاری تاوان ادا کرے۔

شمس الدین کو خوف تھا کہ اگر اس نے صلیبیوں سے جنگ چھیڑی تو دمشق اور موصل کے حکمران اس کی مدد کرنے کے بجائے اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھائیں گے۔

چنانچہ اس نے مقابلے کے بجائے ہتھیار ڈال دیے۔

یہ کامیابی صلیبیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے کافی تھی۔ اب انہیں یقین ہونے لگا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے ہر مرتبہ میدان جنگ میں اترنا ضروری نہیں۔ ان کے حکمرانوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے بھی اسلامی ریاستوں کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔

ان کی نظر میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف ایک شخص تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی!

وہ جانتے تھے کہ اگر سلطان کو حالات سنبھالنے کا موقع مل گیا تو وہ بکھری ہوئی مسلم قوتوں کو دوبارہ متحد کرسکتا ہے۔

اسی لیے ریمانڈ نے خلیفہ المالک الصالح کو تحائف کے ساتھ اپنا ایلچی بھیجا اور ضرورت پڑنے پر فوجی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کردی۔

یہ دوستی نہیں تھی، بلکہ ایک خطرناک جال تھا۔

اسلامی سلطنت کی بنیادیں اندر سے کمزور کی جارہی تھیں اور دشمن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی قاہرہ میں علی بن سفیان کا انتظار کررہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اب فیصلہ کن قدم اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ مگر مصر کے اندرونی حالات اور فوج کی محدود تعداد اس کے لیے بڑی مشکلات پیدا کررہی تھی۔

وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے شام اور دیگر علاقوں کی طرف قدم بڑھایا تو مصر کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک بڑا حصہ پیچھے چھوڑنا پڑے گا۔

اس کے باوجود اس نے فیصلہ کرلیا تھا۔

یا تو مسلمانوں کو ایک قوت بنایا جائے گا یا اس کوشش میں اپنی جان قربان کردی جائے گی۔

وہ روزانہ اپنے مکان کی چھت پر جاتا اور اس راستے کی طرف دیکھتا جہاں سے علی بن سفیان کے واپس آنے کی توقع تھی۔

ایک دن افق پر گرد کے بادل نمودار ہوئے۔

سلطان کی نظریں اسی طرف جم گئیں۔ گرد کے بادل قریب آتے گئے۔ پہلے گھوڑوں کے دھندلے ہیولے دکھائی دیے اور پھر اونٹوں کا قافلہ بھی نظر آنے لگا۔

یہ علی بن سفیان تھا!

وہ سفر میں زیادہ ٹھہرنے کے بجائے مسلسل آگے بڑھتا رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سلطان ایک ایک لمحے کا حساب لے رہا ہوگا۔

بالآخر علی بن سفیان سلطان کے سامنے حاضر ہوگیا۔

اس کا لباس گرد آلود تھا اور چہرے پر سفر کی تھکن نمایاں تھی، لیکن سلطان نے اسے آرام کرنے کی مہلت نہ دی۔

’’کھانا یہیں پہنچا دو، پہلے مجھے خبریں سناؤ۔‘‘

علی نے تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ نورالدین زنگی کی بیوہ کا پیغام سنایا، توفیق جواد سے ہونے والی گفتگو بیان کی اور دمشق کے حالات سے آگاہ کیا۔

آخر میں اس نے بتایا کہ وہ اپنے ساتھ چار صلیبی جاسوس مرد اور چار لڑکیاں بھی لایا ہے، جن سے اہم معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

سلطان نے غور سے ساری باتیں سنیں۔

اب اس کے سامنے تصویر بالکل واضح تھی۔

اسلامی ریاستوں کے حکمران اقتدار کی کشمکش میں ایک دوسرے سے الجھے ہوئے تھے، خلیفہ صلیبیوں سے مدد طلب کررہا تھا اور دشمن مسلمانوں کی سرزمین پر اپنے قدم مضبوط کررہا تھا۔

سلطان نے اپنے دو قابل اعتماد فوجی مشیروں کو بلایا۔

جب وہ دونوں پہنچے تو سلطان نے انہیں مخاطب کیا:

’’آج میں تمہیں ایسی بات بتانے والا ہوں جسے اپنے سینوں میں دفن رکھنا ہوگا۔ تم دونوں اور علی بن سفیان کے سوا اس راز سے کوئی واقف نہیں ہوگا۔‘‘

اس نے انہیں شام، دمشق، حلب اور دیگر اسلامی ریاستوں کے حالات بتائے۔ پھر چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا:

’’اللہ کی فوج کا کام اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ امیر اور خلیفہ کی اطاعت ہم پر فرض ہے، لیکن اگر یہی حکمران اسلام اور مسلمانوں کی عزت کے دشمنوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں تو پھر اللہ کے سپاہیوں کی ذمہ داری کیا ہوگی؟‘‘

اس کی آواز میں غیر معمولی عزم تھا۔

’’آج ہمارا خلیفہ صلیبیوں سے مدد مانگ رہا ہے۔ ان کے جاسوسوں کو پناہ دی جارہی ہے۔ امراء اپنی عیش پرستی اور ذاتی اقتدار کے لیے سلطنت کو ٹکڑوں میں بانٹ رہے ہیں۔ حلب کا امیر دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال چکا ہے۔ کیا ہم خاموش تماشائی بنے رہیں؟ کیا اسلام کی آبرو بچانے کے لیے ہمیں کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے؟‘‘

پھر سلطان نے وہ فیصلہ سنایا جس نے آنے والے حالات کا رخ بدل دینا تھا۔

’’ہمیں خلیفہ کو اس کے اقتدار سے الگ کرکے سلطنت کو دشمن کے ہاتھوں میں جانے سے بچانا ہوگا۔ اگر میرے اس اقدام میں بھی کوئی غلطی ہو اور میرا وجود ملک وملت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو تو تمہارا فرض ہوگا کہ مجھے بھی اقتدار سے ہٹا دو۔‘‘

دونوں مشیروں نے بیک زبان جواب دیا:

’’ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘

اس کے بعد چاروں نے مل کر ایک خفیہ منصوبہ تیار کرنا شروع کردیا۔

ادھر علی بن سفیان اپنے گرفتار صلیبی جاسوسوں سے تفتیش کررہا تھا۔ اس نے انہیں سمجھا دیا کہ ان کے پاس سچ بولنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

ایک صلیبی نے درخواست کی:

’’ہم تنخواہ پر کام کرنے والے ملازم ہیں۔ ہمارے پیچھے اصل منصوبہ ساز کوئی اور ہیں۔ ہم مرد سختیاں برداشت کرسکتے ہیں، لیکن ان لڑکیوں کو کسی تکلیف میں نہ ڈالا جائے۔‘‘

علی نے جواب دیا:

’’انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ تم سچائی سے کام آسان کردو تو تم سب کو باعزت نظربندی میں رکھا جائے گا۔‘‘

ان کے انکشافات نے ان تمام خطرات کی تصدیق کردی جن کا سلطان کو خدشہ تھا۔

اب دمشق جانے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔

مگر سلطان صلاح الدین ایوبی اس مرتبہ کسی بڑے لشکر کے ساتھ نہیں بلکہ صرف سات سو منتخب سواروں کے ساتھ روانہ ہونے والا تھا۔

٭ ٭ ٭

مصر کی سرحد سے بہت دور ایک ویران اور دشوار گزار علاقے میں سات سو گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ چاروں طرف مٹی کے بلند ٹیلے اور تنگ گھاٹیاں تھیں۔ کچھ سپاہی گھوڑوں کے قریب آرام کررہے تھے جبکہ پہرے دار دور دور تک نگرانی پر مامور تھے۔

ان سب سے الگ ایک چھوٹے سے خیمے میں سلطان صلاح الدین ایوبی آرام کررہا تھا۔

یہ کوئی عام فوجی مہم نہیں تھی۔

سلطان نے سات سو ایسے سوار منتخب کیے تھے جو کئی جنگیں لڑ چکے تھے۔ انہیں دشوار گزار راستوں، اچانک حملوں اور دشمن کے عقب میں کارروائی کرنے کا تجربہ تھا۔

اس نے کسی خوش فہمی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا۔

اسے معلوم تھا کہ دمشق میں ہر شخص اس کا استقبال نہیں کرے گا۔ خلیفہ کے محافظ، بعض امراء اور ان کے وفادار کمانڈر مزاحمت کرسکتے تھے۔

توفیق جواد نے اسے یقین دلایا تھا کہ ضرورت پڑنے پر اس کی فوج سلطان کا ساتھ دے گی۔ نورالدین زنگی کی بیوہ نے بھی شہر کے لوگوں کی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

لیکن سلطان صرف وعدوں پر بھروسا کرنے والا آدمی نہیں تھا۔

اس نے اپنے سات سو سواروں کو واضح کردیا تھا کہ انہیں ایک ایسے شہر میں داخل ہونا ہے جہاں ہر شخص ان کا مخالف بھی ہوسکتا ہے۔

اس نے مصر کی حفاظت کے لیے اپنے دو مشیروں کو اختیارات دے دیے۔ سوڈان کی سرحد پر دفاعی انتظامات مضبوط کیے گئے۔ بحریہ کو حکم دیا گیا کہ سمندر میں دن رات نگرانی جاری رکھی جائے۔

قاہرہ میں اس کے محافظ بدستور اس کے مکان اور فوجی مرکز میں موجود رہے تاکہ کسی کو معلوم نہ ہوسکے کہ سلطان شہر چھوڑ چکا ہے۔

اس طرح سلطان نے اپنے سات سو سواروں کے ساتھ ایک خفیہ سفر کا آغاز کیا۔

وہ رات کے وقت سفر کرتا اور دن کو کسی محفوظ مقام پر قیام کرتا۔ راستہ ایسا منتخب کیا گیا تھا جہاں سے عام قافلے بھی نہیں گزرتے تھے۔

وہ اپنے سپاہیوں کے درمیان ایک عام سوار کی طرح رہتا۔ ان سے باتیں کرتا، حالات سمجھاتا اور آنے والے خطرات سے آگاہ کرتا۔

وہ انہیں کوئی جھوٹی امید نہیں دلاتا تھا۔

اس کے الفاظ میں حقیقت بھی تھی اور عزم بھی۔

جوں جوں دمشق قریب آتا گیا، سپاہیوں کے دلوں میں جوش بڑھتا گیا۔

آخرکار وہ دن آگیا جب دمشق کے قلعے کے سنتریوں کو دور افق پر گرد کے بادل دکھائی دیے۔

ابتدا میں انہوں نے اسے کسی تجارتی قافلے کا غبار سمجھا، مگر جب گرد قریب پہنچی تو گھوڑوں اور برچھیوں پر لہراتے جھنڈے صاف دکھائی دینے لگے۔

یہ ایک فوج تھی!

قلعے میں نقارے بج اٹھے۔ تیر انداز دیواروں پر پہنچ گئے اور سپاہی دفاعی مورچوں میں کھڑے ہوگئے۔

فوج شہر کے قریب آکر رک گئی۔

قلعے کے کمانڈر نے سامنے دیکھا تو اسے ایک ایسا جھنڈا نظر آیا جسے پہچاننے میں اسے دیر نہ لگی۔

یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا!

مگر اسے پہلے ہی سرکاری حکم مل چکا تھا کہ سلطان کو شہر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

اس نے بلند آواز سے پوچھا:

’’آپ کس ارادے سے آئے ہیں؟ اگر خلیفہ سے ملاقات کرنی ہے تو اپنے سواروں کو پیچھے چھوڑ کر اکیلے آگے آئیں۔‘‘

سلطان نے جواب دیا:

’’خلیفہ سے کہہ دو کہ صلاح الدین ایوبی اسے باہر بلا رہا ہے۔ میرے سوار واپس نہیں جائیں گے۔ وہ دمشق میں داخل ہوں گے۔ خلیفہ باہر نہ آیا تو اس کے نتیجے میں جو خون بہے گا، اس کی ذمہ داری اسی پر ہوگی۔‘‘

قلعے کے کمانڈر نے سخت لہجے میں کہا:

’’صلاح الدین بن نجم الدین ایوب! تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہارا ایک بھی سوار زندہ واپس نہیں جائے گا۔ شہر کا کوئی دروازہ تمہارے لیے نہیں کھولا جائے گا۔‘‘

سلطان نے اپنے سواروں کو اشارہ کیا۔

چند لمحوں میں سات سو گھوڑے مختلف سمتوں میں پھیل گئے۔ کمانوں میں تیر چڑھ گئے اور ہر سوار جنگ کے لیے تیار ہوگیا۔

ادھر شہر کے دروازے بند کردیے گئے۔

قلعے کی دیواروں پر تیر انداز اپنی جگہ سنبھال چکے تھے۔

ایک طرف سات سو سوار تھے اور دوسری طرف ایک مضبوط قلعہ۔

اب کسی بھی لمحے جنگ شروع ہوسکتی تھی۔

٭ ٭ ٭

دمشق میں خبر پھیل چکی تھی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی شہر کے باہر پہنچ گیا ہے۔

یہ خبر نورالدین زنگی کی بیوہ تک پہنچی تو وہ فوراً حرکت میں آگئی۔ اس نے عورتوں کی اس جماعت کو بھی متحرک کردیا جو پہلے ہی شہر میں قومی جذبے کے تحت منظم ہوچکی تھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے گلیوں اور بازاروں میں لوگوں کا ہجوم جمع ہونے لگا۔

عورتیں گھروں سے نکل آئیں۔ مرد شہر کے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ ہر طرف ایک ہی آواز گونج رہی تھی:

’’خوش آمدید صلاح الدین ایوبی!‘‘

لوگوں کے چہروں پر امید تھی۔ انہیں محسوس ہورہا تھا کہ شاید اب وہ دور واپس آجائے گا جب حکمران عوام سے دور نہیں ہوتے تھے اور دشمن کے مقابلے میں پوری قوم ایک صف میں کھڑی ہوتی تھی۔

خلیفہ المالک الصالح تک جب یہ خبر پہنچی تو وہ گھبرا گیا۔

اس نے اپنے مشیروں کے مشورے سے فوج کو حکم دیا کہ باہر نکل کر سلطان ایوبی کو گرفتار کرلیا جائے۔

مگر اسے ایک ایسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کی اسے توقع نہیں تھی۔

فوج کے کئی کمانڈروں نے سلطان کے خلاف لڑنے سے انکار کردیا۔

بعض کمانڈر خلیفہ کے وفادار تھے اور سلطان کے مقابلے پر جانے کے لیے تیار ہورہے تھے، لیکن دوسرے انہیں روک رہے تھے۔

بات یہاں تک پہنچ گئی کہ چند کمانڈروں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال لیں۔

شہر میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

اسی وقت نورالدین زنگی کی بیوہ وہاں پہنچ گئی۔

اس کا گھوڑا تیز دوڑنے سے ہانپ رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ چند کمانڈر ایک دوسرے کو للکار رہے ہیں۔

وہ فوراً گھوڑے سے اتری اور ان کے درمیان جا کھڑی ہوئی۔

اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:

’’تم کس کے خلاف تلواریں نکال رہے ہو؟ کیا تمہیں ان بیٹیوں کی یاد نہیں جنہیں دشمن اغوا کرکے لے گئے؟ کیا تم ان مظلوم بچیوں کو بھول گئے ہو جن کی عزتیں پامال ہوئیں؟ تم کس کی حمایت میں اپنے ہی بھائیوں کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہو؟‘‘

پھر اس نے اپنا سر آگے کردیا اور کہا:

’’اگر تمہیں صلیبیوں کی حمایت میں لڑنا ہی ہے تو پہلے میری گردن اڑاؤ۔ اپنی ماں کا سر اس سرزمین پر گرا دو، پھر دشمن کے حق میں تلوار اٹھانا!‘‘

اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

اس کے الفاظ نے کمانڈروں کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ انہوں نے اپنی تلواریں نیام میں ڈال لیں اور خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے۔

لیکن ابھی بحران ختم نہیں ہوا تھا۔

خلیفہ کے مشیروں نے محافظ دستوں کو باہر نکالنے کا حکم دیا۔ مگر شہر کے لوگوں کا ہجوم اتنا بڑھ چکا تھا کہ ان دستوں کے لیے آگے بڑھنا بھی مشکل ہوگیا۔

عورتیں پکار رہی تھیں:

’’دروازے کھول دو! ہماری عزتوں کا محافظ آگیا ہے!‘‘

اسی دوران خلافت کا قاضی، کمال الدین، خلیفہ کے دربار میں داخل ہوا۔

اس نے حالات کا جائزہ لے کر خلیفہ سے کہا:

’’اگر آپ نے سلطان کے مقابلے میں فوج بھیجی تو شہر میں خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔ آپ کے اپنے شہری آپ کی فوج کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ صلیبیوں کو ہوگا۔ وہ بغیر کسی مزاحمت کے ہماری سرزمین میں داخل ہوجائیں گے۔ کیا آپ اپنی ہی رعایا کو اپنے ہاتھوں قتل کروانا چاہتے ہیں؟‘‘

پھر اس نے فیصلہ کن بات کہی:

’’شہر کی چابیاں میرے حوالے کردیں۔‘‘

خلیفہ کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

چابیاں قاضی کمال الدین کے حوالے کردی گئیں۔

قاضی خود شہر کے دروازے تک آیا اور اپنے ہاتھوں اسے کھول دیا۔

جیسے ہی دروازے کھلے، شہریوں کا ہجوم سیلاب کی طرح باہر نکل آیا۔

قاضی کمال الدین نے شہر کی چابیاں سلطان کے حوالے کیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے سے اترا، دوزانو ہوا اور قاضی کے ہاتھ چوم لیے۔

پھر وہ اس کے ساتھ دمشق میں داخل ہوا۔

عورتیں پھول لے کر کھڑی تھیں۔ لوگ نعرے لگا رہے تھے اور ہر طرف خوشی کی آوازیں گونج رہی تھیں۔

جب سلطان کی نظر نورالدین زنگی کی بیوہ پر پڑی تو اس کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔

دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

زنگی کی بیوہ کی ہچکیاں بندھ گئیں اور سلطان کی آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہوگئے۔

یہ محض ایک شہر میں داخلے کا منظر نہیں تھا۔ یہ ایک ایسے دور کی واپسی کی امید تھی جس میں دمشق کے لوگ اپنے آپ کو ایک باوقار اسلامی سلطنت کا حصہ سمجھتے تھے۔

سلطان سب سے پہلے اپنے پرانے مکان میں گیا جہاں اس نے بچپن گزارا تھا۔

کچھ دیر آرام کے بعد اس نے فوج کے کمانڈروں کو طلب کیا۔ ان سے حالات معلوم کیے، ان کی وفاداری کا جائزہ لیا اور نئے احکامات جاری کردیے۔

اسی دوران اسے اطلاع ملی کہ خلیفہ اپنے چند مشیروں، وزیروں اور امیروں کے ساتھ شہر سے فرار ہوچکا ہے۔ ان کے ساتھ فوج کے بعض اعلیٰ افسر بھی تھے۔

سلطان نے ان کے محلات کی تلاشی کا حکم دیا۔

وہاں دولت کے انبار، عیش و عشرت کا سامان اور حرموں میں رکھی گئی بے شمار لڑکیاں موجود تھیں۔ ان میں سے بہت سی کو زبردستی ان گھروں میں رکھا گیا تھا۔

سلطان نے انہیں آزاد کرادیا اور ان کی حالت بہتر بنانے کے لیے انتظامات کیے۔ محلات سے حاصل ہونے والی دولت کا ایک حصہ بیت المال میں جمع کرایا اور باقی بڑی مقدار میں غریبوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردیا۔

اس کے بعد اس نے مصر اور شام کی وحدت کا اعلان کیا اور اپنے بھائی تقی الدین کو دمشق کا گورنر مقرر کردیا۔

بظاہر ایک بڑی کامیابی حاصل ہوچکی تھی، مگر سلطان جانتا تھا کہ اصل مشکلات ابھی باقی ہیں۔

٭ ٭ ٭

دمشق میں سلطان کی آمد کے بعد عوام کے دلوں میں امید کی نئی شمع روشن ہوچکی تھی۔ مگر شہر کے حالات دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد یہاں کس قدر بگاڑ پیدا ہوچکا تھا۔

قانون کی گرفت کمزور پڑچکی تھی۔ امراء اور وزراء ذاتی مفادات میں مصروف تھے۔ بازاروں میں مہنگائی بڑھ رہی تھی اور عام آدمی بنیادی ضروریات کے لیے پریشان تھا۔

اناج کی قلت نے لوگوں کی مشکلات مزید بڑھا دی تھیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ بعض بااثر لوگوں نے اناج کی خرید و فروخت اپنے قبضے میں لے رکھی تھی اور عوام کو مشکلات میں ڈال کر منافع حاصل کررہے تھے۔

سرکاری اہلکاروں کا رویہ بھی بدل چکا تھا۔ جن لوگوں کو کبھی نورالدین زنگی کے دور میں حکومتی معاملات پر بات کرنے کا حق حاصل تھا، اب انہیں حکمرانوں کے قریب جانے سے بھی روکا جاتا تھا۔

مساجد میں وعظ کرنے والے بعض اماموں کو صرف اس لیے ہٹا دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو غیرت، آزادی اور دشمن کے مقابلے میں اتحاد کا درس دیتے تھے۔

دمشق کے لوگوں نے یہ تبدیلی اپنے دل پر محسوس کی تھی۔

وہ غربت برداشت کرسکتے تھے، مگر اپنی قومی عزت اور آزادی کو دشمن کے ہاتھوں فروخت ہوتے نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اسی لیے جب سلطان آیا تو وہ اس کے استقبال کے لیے نکل پڑے تھے۔

لیکن سلطان کے لیے سب سے بڑی آزمائش ابھی باقی تھی۔

اسے معلوم تھا کہ اس کے مخالف امراء خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ صلیبی حکمران بھی ایک بڑا لشکر تیار کررہے تھے۔ وہ عالم اسلام پر فیصلہ کن حملے کے لیے موقع تلاش کررہے تھے۔

سلطان نے فوراً دمشق کی فوج کی تربیت شروع کرادی۔ اسے معلوم تھا کہ آنے والی جنگیں پہاڑی علاقوں میں لڑی جاسکتی ہیں، جہاں سردیوں میں برفباری اور شدید موسم سپاہیوں کے لیے ایک الگ آزمائش بن جاتے ہیں۔

اس نے فوج کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔

٭ ٭ ٭

دمشق کی عورتوں میں بھی قومی جذبہ پہلے سے موجود تھا۔ اب سلطان کی آمد کے بعد یہ جذبہ ایک نئی قوت بن گیا۔

جواں سال لڑکیوں کا ایک وفد سلطان کے پاس حاضر ہوا۔

انہوں نے درخواست کی:

’’ہمیں بھی عسکری تربیت دی جائے۔ ہم محاذ پر جانا چاہتی ہیں۔ زخمیوں کی خدمت بھی کریں گی اور ضرورت پڑنے پر لڑائی میں بھی حصہ لیں گی۔‘‘

سلطان نے ان کے جذبے کی قدر کی اور کہا:

’’مجھے جس دن تمہاری ضرورت ہوگی، تمہیں ضرور بلاؤں گا۔ مگر ابھی تمہارا محاذ تمہارے گھر ہیں۔ اگر تم مائیں ہو تو اپنے بچوں کو مجاہد بناؤ اور اگر بہنیں ہو تو اپنے بھائیوں میں غیرت اور وفاداری پیدا کرو۔ تمہاری تربیت کا انتظام بھی کیا جائے گا، مگر اپنے گھروں اور خاندانوں کی ذمہ داری کو مت بھولنا۔‘‘

پھر اسے ایک اور اہم کام یاد آیا۔

اس نے لڑکیوں کو بتایا کہ خلیفہ اور امراء کے محلات سے سینکڑوں لڑکیاں آزاد کرائی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی ایسی تھیں جنہیں اغوا کرکے یا خرید کر حرموں میں رکھا گیا تھا۔

اب ان کے سامنے زندگی کا ایک مشکل مرحلہ تھا۔

سلطان نے کہا:

’’ان لڑکیوں کو تلاش کرو۔ انہیں اپنے گھروں میں جگہ دو، ان کی عزت اور اعتماد بحال کرو اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد کرو۔ انہیں تنہا مت چھوڑنا۔‘‘

لڑکیوں نے اس ذمہ داری کو قبول کرلیا۔

انہوں نے گھر گھر رابطہ شروع کیا۔ چند ہی دنوں میں کئی مظلوم لڑکیاں تلاش کرلی گئیں اور انہیں محفوظ گھروں میں پناہ دی جانے لگی۔

انہی میں سحر نام کی ایک لڑکی بھی تھی۔

اسے زبردستی رقاصہ بنایا گیا تھا اور ایک امیر کے گھر سے آزاد کرایا گیا تھا۔ کچھ عرصہ اس نے ایک غریب خاندان کے ہاں پناہ لی ہوئی تھی۔

جب دمشق کی لڑکیوں نے اسے اپنے ساتھ شامل کیا اور اسے شہر میں ہونے والی سرگرمیوں کا بتایا تو اس کے اندر بھی ایک نیا جذبہ پیدا ہوا۔

ایک دن اس نے اپنی ساتھیوں کو ایک ایسے راز سے آگاہ کیا جس نے سب کو چونکا دیا۔

اس نے بتایا کہ ایک سرائے کا مالک دراصل صلیبیوں کا جاسوس ہے۔ اس نے ایک خفیہ تہہ خانہ بنا رکھا ہے جہاں رات کے وقت صلیبی جاسوس اور فدائی حشیشین جمع ہوتے ہیں۔ وہاں شراب و رقص کی محفلیں سجتی ہیں اور دشمن کے منصوبے تیار کیے جاتے ہیں۔

سحر نے مزید بتایا:

’’مجھے بھی ایک رات وہاں لے جایا گیا تھا۔ میں اس سرائے کے مالک کو اچھی طرح جانتی ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے خفیہ ٹھکانے تک کیسے پہنچا جاسکتا ہے۔‘‘

اس کی آنکھوں میں غصہ اور انتقام کا جذبہ نمایاں تھا۔

اس نے اپنی ساتھیوں سے کہا:

’’میں ان جاسوسوں کو گرفتار کروانا نہیں چاہتی۔ میں چاہتی ہوں کہ سرائے کا مالک اور اس کے ساتھی اپنے انجام کو پہنچیں۔ مگر یہ کام میں اکیلی نہیں کرسکتی۔ کیا تم میرا ساتھ دو گی؟‘‘

لڑکیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

سب نے اس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

اسی وقت ایک نیا منصوبہ تیار ہونا شروع ہوگیا۔

طے پایا کہ سحر پردے میں سرائے کے مالک کے پاس جائے گی اور اسے یقین دلائے گی کہ وہ دوبارہ اس کے پاس آگئی ہے۔

منصوبے کے مطابق ایک شام سحر سرائے کے مالک کے سامنے جا پہنچی۔

اسے دیکھتے ہی مالک کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ سحر دوبارہ اس کے پاس آگئی ہے۔

سحر نے نہایت اطمینان سے کہا:

’’میں بہت پہلے تمہارے پاس آجاتی، لیکن شہر میں پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں تم بھی گرفتار نہ ہوجاؤ۔ اس لیے میں ایک غریب گھرانے میں یتیم لڑکی بن کر چھپی رہی۔ اب حالات معمول پر آگئے ہیں اور کسی کو مجھ پر شک نہیں، اس لیے واپس آگئی ہوں۔‘‘

سرائے کے مالک نے اس کی باتوں پر یقین کرلیا۔

اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ جس لڑکی کو وہ اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے، وہ دراصل اس کے لیے ایک نیا جال بچھانے آئی ہے۔

اور اس جال کے پیچھے صرف سحر نہیں، بلکہ دمشق کی وہ لڑکیاں بھی موجود تھیں جنہوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے سامنے ایک نیا محاذ سنبھالنے کا عہد کیا تھا۔

سرائے کے مالک کو ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی اپنی سرائے میں ایک ایسا کھیل شروع ہونے والا ہے جس کا انجام اس کے تمام خفیہ رازوں کو بے نقاب کرسکتا ہے۔

قسط اچھی لگی ہو تو اسے لائیک کریں دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور کمنٹ کرنا نہ بھولیں۔

جاری ہے۔۔۔

#داستان

#Dastaan #Salahuddin #ayyubi #salahuddinayyubi