معرکہ قادسیہ کا وہ نابینا علمدار جس نے تاریخ رقم کر دی

”پرچم مجھے تھما دو، میری آنکھیں نہیں کہ میں میدان سے بھاگ سکوں!“

 معرکہ قادسیہ کا وہ نابینا علمدار جس نے تاریخ رقم کر دی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تاریخ نے بے شمار نامور سپہ سالار اور بہادر جنگجو دیکھے ہیں، مگر کیا آپ نے تاریخِ عالم میں کسی ایسے علمدار کے بارے میں سنا ہے جس کی آنکھوں میں دنیا کا نور تو نہ تھا، لیکن اس کا دل ایمانی بصیرت کے اس روشن ترین مقام پر تھا کہ اس نے ایک عظیم لشکر کے پرچم کو کبھی جھکنے نہ دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک یہ بے مثال اور منفرد اعزاز تاریخ میں صرف ایک ہی ہستی کے حصے میں آیا ہے۔

🌟 ‘سابقینِ اولون’ کا درخشاں ستارہ اور سورہ عبس کا نزول

یہ عظیم المرتبہ ہستی کوئی اور نہیں، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کا شمار اسلام کے ان اولین درخشاں ستاروں یعنی ‘سابقینِ اولون’ میں ہوتا ہے، جنہوں نے اس وقت حق کی آواز پر لبیک کہا جب ہر طرف مخالفتوں کا طوفان تھا۔

اللہ کی بارگاہ میں ان کا مقام کتنا بلند تھا، اس کا اندازہ اس واقعے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شان میں قرآنِ مجید کی سورہ ‘عبس’ کی آیات نازل ہوئیں۔ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ قریش کے بڑے سرداروں کو دین کی دعوت دینے میں مصروف تھے کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ آ گئے۔ ان کی بے ساختہ آمد پر اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو محبت بھری تنبیہ فرمائی کہ اس سچے اور مخلص طالبِ حق کو بھرپور توجہ دی جائے۔

🕌 مؤذنِ رسول ﷺ اور مدینہ کی نیابت

ان کے دل میں اللہ کی پکار (اذان) بلند کرنے کا ایک مچلتا ہوا شوق تھا۔ انہوں نے خود آقائے دو جہاں ﷺ سے مؤذن مقرر کیے جانے کی التجا کی، جسے آپ ﷺ نے شرفِ قبولیت بخشا اور وہ اسلام کے اولین مؤذنین کے کارواں میں شامل ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ کا ان پر اعتماد اس قدر پختہ تھا کہ جب بھی آپ ﷺ بعض غزوات کے سلسلے میں مدینہ منورہ سے باہر تشریف لے جاتے، تو کئی بار مدینہ کی امامت اور خلافت کا نظام حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کے ہی سپرد فرماتے۔

🛡️ شوقِ شہادت اور ایک طویل انتظار

اگرچہ وہ نابینا تھے، لیکن ان کے سینے میں شہادت کا جذبہ ہمالیہ سے بھی زیادہ بلند تھا۔ عہدِ نبوی ﷺ اور پھر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے دورِ خلافت میں انہوں نے بارہا میدانِ جنگ میں جانے کی تڑپ کا اظہار کیا، مگر شرعی عذر اور جسمانی معذوری کے باعث انہیں ہر بار جنگ میں جانے سے روک دیا گیا۔

⚔️ قادسیہ کا تپتا ہوا میدان اور تاریخ ساز جملہ

بالآخر، جب مرادِ رسول ﷺ، حضرت عمر فاروق ؓ کا دورِ خلافت آیا، تو حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کا شوقِ شہادت اپنے عروج پر پہنچ گیا۔ ان کے بے پناہ اصرار کے سامنے خلیفہ وقت کو اجازت دینی پڑی، اور یوں وہ جنگِ قادسیہ کے تاریخی معرکے کے لیے اسلامی لشکر کا حصہ بن گئے۔

یہ قادسیہ کا وہ میدان تھا جہاں ایک جانب وقت کی سب سے بڑی اور مادی طاقت سے لیس سلطنتِ فارس کا لشکرِ جرار کھڑا تھا، اور دوسری جانب مٹھی بھر مسلمان۔ جب تلواروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمین لرز رہی تھی، تب ساٹھ برس کا یہ ضعیف اور نابینا صحابی ایک چٹان کی مانند کھڑا تھا۔ جنگ کی صف بندی کے دوران انہوں نے وہ رلا دینے والا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو آج بھی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے:

> "اسلام کا یہ پرچم میرے حوالے کر دو! میں نابینا ہوں، اس لیے چاہ کر بھی میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ نہیں سکوں گا۔ تم بس مجھے دونوں لشکروں کی صفوں کے بالکل درمیان لا کر کھڑا کر دو۔”

>

🌸 پرچم کا تحفظ اور ابدی نیند

پھر تاریخ نے گواہی دی کہ جو انہوں نے کہا، اسے سچ کر دکھایا۔ اس خونریز معرکے میں وہ اسلام کے پرچم کو اپنے سینے سے لگائے، ثابت قدمی سے زمین پر گڑے رہے، یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کر لیا۔ ان کے جسم کی آنکھیں بے نور سہی، مگر ان کے دل کی آنکھیں جنت کا راستہ صاف دیکھ رہی تھیں، اور وہ اسی پرچم کے سائے میں ہمیشہ کے لیے ابدی نیند سو گئے۔

حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی یہ لازوال داستان قیامت تک آنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ معذوری جسم کی نہیں، بلکہ عزم اور ارادے کی ہوتی ہے۔ جس کا ارادہ سچا ہو وہ معجزے تخلیق کرتا ہے، اور جو تاریکیوں میں بھی خدا کے دین کا علم بلند رکھے، اللہ آخرت میں اسے لازوال نور عطا فرماتا ہے۔

📚 مستند تاریخی حوالہ جات:

 * سير أعلام النبلاء – الإمام الذهبي

 * سيرة ابن هشام

 * الطبقات الكبرى – ابن سعد