محمود غزنوی لگ بھگ 10 لاکھ مقامی ہندوستانی بشمول عورتوں بچوں کو قیدی بنا کر غزنی لے کر گیا

محمود غزنوی لگ بھگ 10 لاکھ مقامی ہندوستانی بشمول عورتوں بچوں کو قیدی بنا کر غزنی لے کر گیا جہاں انکو بیچا گیا۔ تاریخی حوالوں خاص طور پر "العتبی کی تاریخ یمینی” کے مطابق یہ تعداد اتنی زیادہ تھی کہ غزنی خراسان اور وسطی ایشیا کے بازاروں میں غلاموں کی قیمتیں زمین پر ا گئیں۔
خصوصاً 1014 اور 1018 کے حملوں کے بعد غزنی کے بازاروں میں ایک تندرست ہندوستانی غلام یا کنیز صرف 2 سے 10 درہم میں دستیاب تھی۔ کہا جاتا ہے کہ غزنی کا کوئی ایسا گھر نہیں تھا جہاں ہندوستانی غلام موجود نہیں تھا بلکہ محمود غزنوی کے کرائے کے فوجی جو ترک، عرب اور وسطی ایشیا ممالک کے تھے ان کے حصوں میں بھی درجنوں غلام ائے، اس دور میں بہت سے تاجر عراق، مصر اور خراسان سے قافلے لے کر آتے اور غزنی میں ان غلاموں کو خرید کر لے جاتے کیونکہ یہاں غلام نہایت ہی سستے داموں دستیاب تھے۔اس کی مثال اپ یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اج کل عید الاضحی پر وسطی پنجاب سے لوگ جنوبی پنجاب سفر کرتے ہیں تاکہ وہاں سے سستے داموں بھیڑ بکریوں کی خریداری کر سکیں۔
غزنوی کے 17 حملوں میں تب کی رائج کرنسی سونے کے سکے ( دینار ) کی صورت میں تقریبا 93 میٹرک ٹن خالص سونا لوٹا گیا۔
سونے کے برتن، بت اور زنجیروں کے سونے کو پگھلا کر لگ بھگ 20 میٹرک ٹن سونا حاصل کیا گیا۔
چاندی کے سکے ( درہم ) تقریبا 30 میٹرک ٹن خالص چاندی حاصل کی گئی۔
اس کے علاوہ خام چاندی اور چاندی کے بتوں سے لگ بھگ 45 میٹرک ٹن چاندی حاصل کی گئی۔
اس کے علاوہ قیمتی ہیرے جواہرات ،یاقوت اور موتیوں کی قیمت کا اندازہ اگر اج لگایا جائے تو وہ اربوں ڈالر بنتا ہے۔
سونے کی مالیت اج کے دور کے حساب سے تقریبا 10 ارب ڈالر سے زائد بنتی ہے اور اگر ان میں نایاب ہیرو جواہرات کو شامل کر لیا جائے تو یہ رقم 15 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
محمود غزنوی کے ان 17 حملوں میں لگ بھگ پانچ لاکھ افراد جان سے گئے اور ان میں وہ لوگ شمار نہیں کیے گئے جنہیں غزنوی بطور غلام بنا کر کوہ ہندو کش کے راستے واپس لے کر جاتا تو راستے میں بھوک پیاس شدید سردی سے جان کی بازی ہار جاتے اور اسی وجہ سے اس درہ کو ہندو کش کا نام دیا گیا جس کا ذکر بعد میں ابن بطوطہ نے بھی کیا۔

عام طور پر دعوی کیا جاتا ہے کہ محمود غزنوی نے ہندوستان پہ 17 حملے اسلام کی تبلیغ کے لیے کہ لیکن اس کے حملوں کا پیٹرن اور ہر بار ایک نئے علاقے میں جانے کو فوقیت دینا بتاتا ہے کہ وہ دولت اکٹھا کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتا تھا کیونکہ اسے اس وقت اس کی کافی ضرورت تھی اور اس کی وجوہات درجہ ذیل ہیں۔۔۔۔

محمود غزنوی کی فوج میں کثیر القومی کرائے کے فوجی تھے جو ترک عرب, کرد ,افغان یہاں تک کہ ہندو دستے بھی اس میں تنخواہوں پر لڑتے تھے تو ان کے اخراجات کیلئے محمود غزنوی کو ایک بڑا خزانہ درکار تھا جو اسے ہندوستان نے مہیا کیا اور اسی کے بل بوتے پر اگے وہ خوارزم، سمرقند اور ایران کی مہمات پر خرچ کرنے کے قابل ہوا۔
اس سے پہلے غزنی ایک پسماندہ علاقہ تھا لیکن ہندوستان سے لوٹے گی پیش بہا قیمتی دولت نے غزنی کو اس دور کا دنیا کے سب سے شاندار شہر میں بدل دیا۔ وہاں سنگ مرمر سے عظیم الشان عروس الفلق ( آسمان کی دلہن ) نامی جامع مسجد بنائی گئی مدارس بنے، پل، نہریں اور کئی شاہی محلات کی تعمیر ہوئی۔
محمود غزنوی نے اپنے دربار میں تقریبا 400 شعرا اور علماء رکھے ہوئے تھے جن میں البیرونی، عنصری، فرخی سیستانی اور فردوسی شامل تھے۔ اور جب بھی یہ غزنوی کی تعریف کرتے یا تائید کرتے یا اس کے لیے کچھ اشعار عنایت فرماتے تو بدلے میں مجموعی طور پر ان پر لاکھوں دینار نچھاور کیے گئے۔

1030 میں جب غزنوی تپ دق یا ملیریا کی وجہ سے بستر مرگ پر تھا تو اس نے اپنی موت سے دو دن قبل شاہی خزانے کا سارا سونا چاندی جواہرات یاقوت محل کے صحن میں بچھائے اور اس نے حسرت بھری نگاہوں سے اس بے حساب دولت کو دیکھا اور پھر زور قطار روتے ہوئے اسے واپس خزانے میں رکھوا دیا۔

محمود غزنوی کی موت کی تقریبا 120 سال بعد 1151 میں غور کے حکمران علاؤالدین حسین ” جہاں سوز” نے غزنی شہر پر ایک بڑا حملہ کیا اور شہر کو 7 دن تک اگ لگائے رکھی غزنوی سلطانوں کی قبریں اکھاڑ دی گئی اور محمود کی جمع کردہ اور تعمیر کردہ تمام شان و شوکت کو خاک میں ملا دیا گیا۔آسان الفاظ میں محمود غزنوی کہ 17 ہندوستان پر کیے گئے حملوں سے بنائے گئے عظیم الشان عظمت لگ بھگ 140 سال قائم رہی اور غزنی پھر سے غریب پسماندہ علاقہ بن گیا۔

کیا اپ چاہتے ہیں کہ میں محمود غزنوی کے ہندوستان پر کیے گئے 17 حملوں پر انفرادی طور پر لکھوں اور بتاؤ کہ کس حملے میں کتنی لوٹ مار اور کیا کیا مہمات کی گئی ؟

نوٹ : اس تحریر کو لکھنے میں محمود غزنوی کے درباری مورخین ابو نصر العتبی کی کتاب ” تاریخ یمینی ” البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند” ابو سعید گردیزی کی کتاب "زین الاخبار” اور بعد کے مورخ قاسم فرشتہ کی کتاب "تاریخ فرشتہ” کی مدد لی گئی ہے۔
جبکہ کچھ مندرجات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کہ پروفیسر محمد حبیب، کیمبرج یونیورسٹی پریس کے ڈاکٹر محمد ناظم کی کتابوں کی مدد لی گئی ہے۔

قاسم سلیم
#history #MehmoodGhaznavi #foryou