ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )معمول کے مطابق ٹک ٹاک دیکھ رہا تھا۔ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ڈاکٹر یہ بات کر رہے تھےکہ انسان کے جسم کے اندر سب سے زیادہ جینیاتی مشابہت رکھنے والا جانور دراصل خنزیر ہے۔میں نے ویڈیو کو نظرانداز کر دیا
کہہ دیجئے کیا میں تمہیں اُن لوگوں سے بھی بدتر انجام کے بارے میں بتاؤں جن پر اللہ نے لعنت کی اور جن پر وہ ناراض ہوا اور اُن میں سے بعض کو بندر اور خنزیر بنا دیا اور جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی یہ لوگ بدترین مقام والے اور راہِ راست سے سب سے زیادہ بھٹکنے والے ہیں
میں صرف عذاب کے تصور پر نہیں رکا
بلکہ سوچ میں پڑ گیا کہ اللہ تعالیٰ نے بندر اور خنزیر کا ذکر ہی کیوں چُنا
سائنس ہمیں بتاتی ہے
کہ انسانی جسم جن جانوروں کو سب سے بہتر قبول کرتا ہے
ان میں سب سے نمایاں خنزیر ہے
اس کے دل کا صمام ہو
گردہ ہو
یا جلد
انسانی جسم اسے آسانی سے قبول کر لیتا ہے اور رد نہیں کرتا
تحقیق یہاں تک کہتی ہے
کہ خنزیر کے گوشت کے بافتی ریشے انسان کے گوشت کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں
اور بعض سنگدل مجرموں نے جنہوں نے آدم خوری جیسے گناہ کیے
یہ گواہی دی کہ انسانی گوشت کا ذائقہ خنزیر کے گوشت سے بہت ملتا جلتا ہے
اللہ نے تم پر صرف مردار خون خنزیر کا گوشت اور وہ چیزیں حرام کی ہیں جن پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو پھر جو شخص مجبور ہو جائے اور نہ بغاوت کرنے والا ہو نہ حد سے بڑھنے والا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے
یہاں غور سے دیکھنے پر سمجھ آتا ہے
کہ اللہ نے صرف خنزیر کے گوشت کو حرام کہا ہے
اس کی چربی اس کی کھال اس کے اعضاء کا ذکر نہیں
تو حرمت کھانے میں ہے
استعمال یا طب میں نہیں
یہ سوچ میرے دل میں ٹھہر گئی
کیا وہ قومیں جنہیں اللہ نے مسخ کیا
ان کی خِلقت اس حد تک تبدیل ہو گئی
کہ آج ہم انہی کے جینیاتی نظام کو اپنی بیماریوں کے علاج میں استعمال کر رہے ہیں
سبحان اللہ
ایسا لگتا ہے جیسے جیسے سائنس آگے بڑھ رہی ہے
ویسے ویسے قرآن کے الفاظ اور زیادہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں
ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے دنیا کے کناروں میں بھی اور ان کے اپنے نفسوں میں بھی یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہ قرآن ہی حق ہے اور کیا تیرے رب کا یہ جاننا کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر گواہ ہے
ہم سچائی سے منہ موڑ سکتے ہیں
مگر اللہ کی نشانیاں ہم سے منہ نہیں موڑتیں
اور شاید آنے والا وقت ان آیات کو اور زیادہ عیاں کر دے گا