ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )آج – 20؍نومبر 1984سب سے پسندیدہ اور مقبول پاکستانی شاعروں میں سے ایک ، اپنے انقلابی خیالات کے سبب کئی برس قید میں رہنے والے مشہور شاعر فیض_احمد_فیضؔ صاحب“ کا یومِ وفات…نام فیض_احمد اور تخلص فیضؔ ہے۔
13؍فروری 1911ء کو کالا قادر، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سیالکوٹ میں پاس کیا۔ بعد ازاں لاہور میں ایم اے (انگریزی) اور ایم اے (عربی) کے امتحانات پاس کیے۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد درس وتدریس سے وابستہ ہوگئے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران فوج کے محکمۂ نشرواشاعت سے منسلک رہے۔ جب لاہور سے ’’پاکستان ٹائمز‘‘ اور ’’امروز‘‘ جاری ہوئے تو آپ ان کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ عبدﷲ ہارون کالج، کراچی کے پرنسپل اور نیشنل کونسل آف آرٹس کے صدر بھی رہے۔ فیض راول پنڈی سازش کیس میں 1951ء میں پاکستان سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے۔ وہ چار سال تک سرگودھا، منٹگمری، کراچی اور لاہور کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ 1955ء میں قید سے رہا ہوئے۔ دسمبر 1958ء میں دوسری بار گرفتار ہوئے اور اپریل 1959ء میں قید سے رہائی ملی۔ فیض کو شعر وشاعری سے لگاؤ اوائل عمر سے تھا۔ کسی سے اصلاح نہیں لی۔ادب کے لینن پرائز سے آپ کو نوازا گیا۔ فیض نے اردو غزل کو ایک نیا لہجہ دے کر اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا شمار پاکستان کے بہترین غزل گو شعرا میں ہوتاہے۔ 20؍نومبر 1984ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔
ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
’’نقشِ فریادی‘‘، ’’دستِ صبا‘‘، ’’زنداں نامہ‘‘، ’’دستِ تہہ سنگ‘‘، ’’شام شہرِ یاراں‘‘، ’’متاعِ لوح وقلم‘‘، ’’سروادئ سینا‘‘، ’’مرے دل ، مرے مسافر‘‘۔ ان کی کلیات ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ کے نام سے چھپ گئی ہے۔ مضامین کا مجموعہ ’’میزان‘‘ کے نام سے بھی شائع ہوا ہے۔ ’’مہ و سال آشنائی‘‘ (یادوں کا مجموعہ) بھی ان کی تصنیف ہے۔
بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:21
پیشکش : سید۔ محمد۔ سہیل۔ انور
محترم۔ جناب۔ فیض۔ احمد۔ فیض صاحب
برصغیر کے مقبول شاعر فیض احمد فیضؔ کے یوم وفات پر منتخب اشعار بطور خراجِ عقیدت…