Daily Roshni News

اصحابُ الشمال

اصحابُ الشمال

وہ لوگ جن کا انجام بائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال سے ظاہر ہوگا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)قرآن مجید انسان کو صرف جنت اور جہنم کا تصور نہیں دیتا، بلکہ قیامت کے دن انسانوں کی ایک ایسی تقسیم بھی بیان کرتا ہے جس میں ہر شخص اپنے اعمال کے نتیجے کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ کچھ لوگ *اصحابُ الیمین* ہوں گے، کچھ *السابقون*، اور ایک گروہ وہ ہوگا جسے قرآن نے *اصحابُ الشمال* کہا ہے۔ یہ صرف ایک نام نہیں۔ یہ ایک ایسے انجام کی علامت ہے جس کے پیچھے انسان کی پوری زندگی، اس کے فیصلے، اس کی غفلت، اس کی خواہشات اور اس کے اعمال موجود ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ۝ فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ۝ وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ۝ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ترجمہ: اور بائیں ہاتھ والے، کیا ہیں بائیں ہاتھ والے! وہ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے، اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ (سورۃ الواقعہ: 41–44)

غور کیجیے۔ قرآن نے پہلے ہی سوال اٹھایا: وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ یعنی: “اور بائیں ہاتھ والے، کیا ہیں بائیں ہاتھ والے!” یہ انداز انسان کو چونکا دیتا ہے۔ گویا قرآن کہہ رہا ہے کہ ان کا انجام اتنا ہولناک ہے کہ انسان کو پہلے ہی سوچ لینا چاہیے کہ آخر یہ لوگ کون ہیں؟

اصحابُ الشمال کون ہیں؟

*اصحابُ الشمال* سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا انجام قیامت کے دن تباہی اور عذاب کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ قرآن مجید نے انہیں ایک اور جگہ *اصحابُ المشأمۃ* بھی کہا ہے: *وَأَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ مَا أَصْحَابُ الْمَشْأَمَةِ* *ترجمہ:* اور بائیں جانب والے، کیا ہیں بائیں جانب والے! (سورۃ البلد: 18–19) یہاں قرآن نے ان کے مقابلے میں *اصحابُ المیمنۃ* کا ذکر کیا ہے۔ یعنی قیامت کے دن انسان کا معاملہ محض دنیاوی مقام، دولت، خاندان یا ظاہری حیثیت سے طے نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہوگا: *وہ انسان اپنی زندگی میں کس راستے پر چلا؟*

بائیں ہاتھ کا ذکر کیوں؟

قرآن کریم نے قیامت کے دن نامۂ اعمال کے بارے میں بھی مختلف کیفیتیں بیان کی ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: *فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ۝ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ* ترجمہ: پس جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: لو، میرا اعمال نامہ پڑھو۔ (سورۃ الحاقہ: 19) لیکن دوسرے شخص کا حال بالکل مختلف ہوگا: *وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ فَيَقُولُ يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ* ترجمہ: اور جس شخص کو اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، وہ کہے گا: کاش مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا۔ (سورۃ الحاقہ: 25) یہاں انسان کے سامنے اس کی پوری زندگی کھول دی جائے گی۔ وہ اعمال جنہیں وہ دنیا میں بھول چکا تھا، وہاں موجود ہوں گے۔ وہ گناہ جنہیں وہ معمولی سمجھتا تھا، وہاں محفوظ ہوں گے۔ وہ مواقع جن پر اسے توبہ کرنی چاہیے تھی، وہ بھی اس کے سامنے ہوں گے۔ اور پھر اسے اپنے ہی اعمال سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ملے گا۔

اصل مسئلہ صرف گناہ نہیں، گناہ پر اصرار ہے

انسان سے گناہ ہو سکتا ہے۔ اسلام انسان کو فرشتہ نہیں سمجھتا۔ انسان کمزور ہے، بھولتا ہے، پھسلتا ہے، خواہشات سے مغلوب ہوتا ہے۔ لیکن خطرہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں انسان گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایک شخص گناہ کے بعد شرمندہ ہوتا ہے، اللہ سے معافی مانگتا ہے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ دوسرا شخص گناہ کرتا ہے، پھر اسے درست ثابت کرنے کے لیے دلیلیں تلاش کرتا ہے۔ پہلا گر کر اٹھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسرا گرنے کو ہی راستہ بنا لیتا ہے۔ قرآن ہمیں بار بار توبہ، رجوع اور اصلاح کی طرف بلاتا ہے۔ اس لیے *اصحابُ الشمال* کے موضوع کو صرف دوسرے لوگوں کے بارے میں پڑھنا خطرناک غلط فہمی ہوسکتی ہے۔ اصل سوال یہ ہے: *ہم خود کس سمت جا رہے ہیں؟*

قرآن نے ان کی زندگی کیسی بیان کی؟

سورۃ الواقعہ میں اللہ تعالیٰ اصحابُ الشمال کے بارے میں فرماتے ہیں: إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ۝ وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنثِ الْعَظِيمِ ۝ وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ترجمہ: بے شک وہ اس سے پہلے عیش و آسائش میں پڑے ہوئے تھے، اور بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے، اور کہتے تھے: کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟ (سورۃ الواقعہ: 45–47) ان آیات میں تین اہم باتیں سامنے آتی ہیں۔

پہلی: عیش میں غرق ہونا

یہاں صرف مالدار ہونا مراد نہیں۔ نعمت بذاتِ خود جرم نہیں۔ اللہ کی نعمتیں حلال طریقے سے استعمال کرنا جائز ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آسائش انسان کو اپنے رب سے غافل کر دے، اور نعمت شکر کے بجائے سرکشی پیدا کرنے لگے۔

دوسری: بڑے گناہ پر اصرار

قرآن نے صرف گناہ کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: *يُصِرُّونَ* یعنی وہ *اصرار کرتے تھے*۔ یہ لفظ انتہائی اہم ہے۔ غلطی کے بعد واپس آنا ایک کیفیت ہے، لیکن غلطی کو زندگی کا مستقل راستہ بنا لینا دوسری کیفیت ہے۔

تیسری: آخرت کا انکار

وہ دوبارہ زندہ کیے جانے کو ناممکن سمجھتے تھے۔ یہ عقیدہ انسان کے اخلاق اور اعمال پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر انسان یہ سمجھنے لگے کہ زندگی صرف دنیا تک محدود ہے، کوئی حساب نہیں، کوئی دوبارہ اٹھایا جانا نہیں، تو اس کے لیے دنیاوی فائدہ ہی آخری معیار بن سکتا ہے۔ قرآن اسی سوچ کو چیلنج کرتا ہے۔

اصحابُ الشمال کی سب سے خطرناک سوچ

ان کے الفاظ قرآن نے محفوظ کیے: *أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ* یعنی: “کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے؟” یہ سوال محض ایک علمی سوال نہیں تھا۔ اس کے پیچھے آخرت کو بعید سمجھنے کی ذہنیت تھی۔ آج انسان شاید یہی الفاظ نہ کہے، مگر رویہ وہی ہوسکتا ہے۔ مثلاً: “ابھی عمر ہی کیا ہے، بعد میں توبہ کر لیں گے۔” “سب لوگ یہی کرتے ہیں۔” “اللہ تو معاف کرنے والا ہے۔” “مرنے کے بعد کس نے دیکھا ہے؟” یہ جملے بظاہر مختلف ہیں، مگر اگر یہی سوچ انسان کو گناہ پر قائم رکھے تو مسئلہ بہت گہرا ہے۔

دنیا کی آسائش کب خطرناک بن جاتی ہے؟

اسلام دنیا کو ترک کرنے کا حکم نہیں دیتا۔ انسان اچھا گھر بنا سکتا ہے، اچھا لباس پہن سکتا ہے، حلال رزق کما سکتا ہے، اپنے خاندان کو آسائش دے سکتا ہے۔ مسئلہ *نعمت* نہیں، *نعمت کا اثر* ہے۔ اگر مال ملنے کے بعد انسان شکر گزار ہو جائے تو یہی مال اس کے لیے خیر بن سکتا ہے۔ اگر مال ملنے کے بعد وہ تکبر، ظلم، غفلت اور نافرمانی میں بڑھ جائے تو یہی نعمت اس کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے اصحابُ الشمال کے بارے میں فرمایا: *كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ* وہ اس سے پہلے عیش میں پڑے ہوئے تھے۔ یعنی دنیا ان کے ہاتھ میں نہیں تھی بلکہ ان کے دل پر غالب آچکی تھی۔

ان کا انجام کیا ہوگا؟

قرآن نے ان کے انجام کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا: *فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ* وہ جھلسا دینے والی گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔ پھر فرمایا: *وَظِلٍّ مِّن يَحْمُومٍ ۝ لَّا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ* اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں، جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ دنیا میں سایہ راحت کی علامت ہوتا ہے۔ انسان دھوپ سے بچنے کے لیے سایہ تلاش کرتا ہے۔ لیکن وہاں ایسا سایہ ہوگا جو راحت دینے کے بجائے عذاب کا حصہ ہوگا۔ یہ منظر انسان کو ایک بنیادی حقیقت سمجھاتا ہے: *قیامت میں ظاہری چیزیں اپنی دنیاوی معنویت کھو دیں گی۔* دنیا کا مال وہاں کام نہیں آئے گا۔ دنیا کی شہرت وہاں کام نہیں آئے گی۔ دنیا کے تعلقات وہاں وہ سہارا نہیں دیں گے جس پر انسان نے بھروسا کیا تھا۔ وہاں انسان اپنے اعمال کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

کیا ہر گناہ گار اصحابُ الشمال ہے؟

یہاں ایک نہایت اہم احتیاط ضروری ہے۔ کسی مخصوص شخص کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا کہ وہ لازماً اصحابُ الشمال میں سے ہے، ہمارے اختیار میں نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کس شخص کی زندگی کا آخری انجام کیا ہوگا۔ ایک انسان پوری زندگی گناہوں میں مبتلا رہ کر آخر میں سچی توبہ کرسکتا ہے۔ اور ایک انسان ظاہری طور پر نیک زندگی گزارنے کے باوجود اپنے باطن میں ایسی خرابی رکھ سکتا ہے جسے لوگ نہیں جانتے۔ اس لیے قرآن کے ان بیانات کو سب سے پہلے *اپنی اصلاح* کے لیے پڑھنا چاہیے، دوسروں پر فیصلہ لگانے کے لیے نہیں۔

ایک عجیب حقیقت: انسان اپنے انجام کو خود بناتا ہے

قیامت اچانک آئے گی، لیکن انسان کا نامۂ اعمال اچانک نہیں بنے گا۔ وہ ہر دن لکھا جا رہا ہے۔ ایک جھوٹ۔ ایک سچ۔ ایک ظلم۔ ایک معافی۔ ایک نظر جو حرام سے ہٹا لی گئی۔ ایک حق جو ادا کیا گیا۔ ایک دل جو توڑا گیا۔ ایک دل جسے سہارا دیا گیا۔ ایک نماز جسے سنبھال کر ادا کیا گیا۔ ایک نماز جسے جان بوجھ کر چھوڑ دیا گیا۔ ہماری زندگی کے یہ چھوٹے چھوٹے فیصلے مل کر ہمارے انجام کی سمت بناتے ہیں۔ اس لیے اصحابُ الشمال کی حقیقت صرف قیامت کا ایک منظر نہیں۔ یہ دنیا میں ہمارے روزانہ انتخاب کا آئینہ بھی ہے۔

اصحابُ الشمال ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟

۱۔ گناہ کو معمولی نہ سمجھیں

چھوٹا گناہ بار بار کیا جائے تو دل پر اس کا اثر بڑھتا جاتا ہے۔ اس لیے گناہ کے حجم سے زیادہ اپنے دل کی کیفیت کو دیکھنا چاہیے۔

۲۔ توبہ کو مؤخر نہ کریں

شیطان کا ایک بڑا دھوکا یہ ہے کہ انسان کو گناہ سے زیادہ *توبہ کے لیے بعد کا وقت* دکھایا جائے۔ “کل سے چھوڑ دوں گا۔” “رمضان میں توبہ کروں گا۔” “بڑھاپے میں نماز شروع کر لوں گا۔” لیکن کسی کے پاس کل کی ضمانت نہیں۔

۳۔ نعمت کو غفلت نہ بننے دیں

رزق، صحت، گھر، اولاد، وقت اور علم سب اللہ کی نعمتیں ہیں۔ ان کا شکر انہیں اللہ سے دور ہونے کا ذریعہ نہیں بننے دیتا۔

۴۔ آخرت کو زندگی کے فیصلوں میں شامل رکھیں

جس انسان کو معلوم ہو کہ ایک دن حساب دینا ہے، وہ تنہائی میں بھی اپنے آپ کو روک سکتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے چھپ جانا ممکن ہے، اللہ سے نہیں۔

۵۔ اپنے دل کا رخ دیکھتے رہیں

انسان کبھی ایک ہی دن میں تبدیل نہیں ہوتا۔ دل آہستہ آہستہ غافل ہوتا ہے۔ پھر گناہ معمول بن جاتا ہے۔ پھر ضمیر خاموش ہوجاتا ہے۔ پھر توبہ مشکل محسوس ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے دل کی نگرانی ضروری ہے۔

اصحابُ الشمال کا ذکر ہمارے لیے کیوں ہے؟

اگر ہم صرف یہ پڑھ کر آگے بڑھ جائیں کہ فلاں لوگ جہنم میں جائیں گے تو ہم نے مضمون کا اصل مقصد کھو دیا۔ قرآن کا مقصد انسان کو خوفزدہ کرکے چھوڑ دینا نہیں بلکہ *خبردار کرکے واپس بلانا* ہے۔ اصحابُ الشمال کا ذکر گویا ہمارے سامنے ایک سوال رکھتا ہے: *اگر آج میرا نامۂ اعمال میرے سامنے کھول دیا جائے تو کیا میں اسے دیکھنا پسند کروں گا؟* اور اگر جواب اطمینان بخش نہیں تو ابھی وقت ہے۔ ابھی سانس باقی ہے۔ ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ ابھی ایک غلط راستہ چھوڑا جاسکتا ہے۔ ابھی کسی کا حق واپس کیا جاسکتا ہے۔ ابھی کسی سے معافی مانگی جاسکتی ہے۔ ابھی نماز سنبھالی جاسکتی ہے۔ ابھی قرآن سے تعلق دوبارہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ ابھی دل کو اللہ کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔

آخری سوال

اصحابُ الشمال کا سب سے بڑا سبق شاید یہ نہیں کہ *وہ کون لوگ تھے*۔ بلکہ یہ ہے کہ: *انسان کو وقت رہتے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں وہ اسی راستے پر تو نہیں چل رہا۔* قیامت کے دن نامۂ اعمال ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اس وقت انسان اپنی زندگی بدل نہیں سکے گا۔ آج وہ بدل سکتا ہے۔ آج گناہ کے بعد توبہ ہوسکتی ہے۔ آج غفلت کے بعد بیداری آسکتی ہے۔ آج دل کی سمت تبدیل ہوسکتی ہے۔ اور شاید یہی اس مضمون کا سب سے اہم پیغام ہے: *قیامت میں اپنے ہاتھ کو دیکھنے سے پہلے، آج اپنے راستے کو دیکھ لیجیے۔* کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا میں جس چیز کو ہم کامیابی سمجھ رہے ہوں، آخرت میں وہی ہماری سب سے بڑی ناکامی بن جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، گناہوں سے بچنے، سچی توبہ کرنے، آخرت پر یقین رکھنے اور ان لوگوں میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے جنہیں قیامت کے دن عزت اور کامیابی نصیب ہوگی۔

آمین یا رب العالمین۔

Loading