Daily Roshni News

اللہ کو ڈر سے نہیں، محبت اور پیار سے یاد کریں!

اللہ کو ڈر سے نہیں، محبت اور پیار سے یاد کریں!

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )دیکھیے تو سہی ہم نے کیا وتیرہ پکڑا ہوا ہے۔ خطا ہو گئی، وہ مسئلہ خراب ہو گیا، اردگرد کے سارے محلے کے لوگ بلوائے، گٹھلیاں جمع کیں، سوا لاکھ مرتبہ آیت کریمہ پڑھا دیا اور اگلے دن غائب۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ سے سوال کیا گیا کہ اللہ کے رسول کو سب سے اچھا کام کون سا لگتا تھا؟ فرمایا تھوڑا مگر متواتر۔ یہ کیا ہوا ایک دن کا سوا لاکھ اور دوسرے دن ایک بھی گٹھلی نہیں ڈالی جا رہی۔ خواتین و حضرات یہ بڑا ناقص سا رویہ ہے۔ جب آپ خدا کو یاد کرو تو استقلال سے یاد کرو، کم یاد کرو مگر تسلسل سے یاد کرو۔ اور جیسے اللہ کے رسول نے فرمایا کہ بہترین قرآن وہ ہے جو مرتحل کی طرح پڑھا جائے، مسافر کی طرح پڑھا جائے، منزل بمنزل پڑھا جائے۔ جب ختم ہو تو پھر شروع کر دو، قرآن کے سفر کو ختم نہ کرو۔ اسی طرح ارشاد فرمایا کہ جب تم کوئی ایسا کام کرو جو اللہ کو پسند ہو تو اسے کراہت میں مت ڈالو۔ اچھے کام کو منسوخ کرنا اللہ کے نزدیک مکروہ ہے، تو اسے منسوخ مت کرو، اسے مکروہ مت کرو۔ چلتے چلو، تھوڑا سہی، زیادہ نہیں سہی تھوڑا سہی۔

بھئی آخر کیا ہے تسبیح میں؟ تسبیح کے بھی بڑے بڑے مخالفین ہیں کوئی کہتا ہے بے حساب پڑھنی چاہیے، کوئی کہتا ہے بغیر تعداد کے پڑھنی چاہیے۔ بھئی اگر آپ پڑھ لو تو کیا حرج ہے، کیا کوئی تسبیح والا بھی آپ پر اعتراض کرتا ہے اگر آپ بے حساب پڑھتے ہو تو؟ مگر تسبیح جو ہے، وظائف کی طرح نہیں پڑھنی چاہیے۔ یادِ خدا کو یادِ خدا رہنا چاہیے۔ “فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ…” تسبیح اس طرح پڑھو جیسے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو۔ خوف شوف چھوڑ دو، تم میرا خوف سہہ ہی نہیں سکتے۔ میں تو چاہتا ہوں کہ مجھے ایسے یاد کرو جیسے آباؤ اجداد کو یاد کرتے ہو محبت سے، اشتیاق سے، جیسے ان کے ذکر سے تمہارے دلوں کو فرحت ملتی ہے ایسے ہی مجھے یاد کرو۔ پیار سے یاد کرو۔ وہ کہاں کا خدا ہے مجھے بتائیے کہ جو آپ سے جبر سے اپنی یاد کروا رہا ہے، وہ تو بڑے پیار اور انس سے کہہ رہا ہے آپ کو، “فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا” ترجیح ترجیح رہے گی۔ یہ نہیں اللہ پسند کرتا کہ آپ اسے ترجیح ثانی پر لے جاؤ، یہ نہیں اللہ پسند کرتا کہ اس کی مخلوقات سے اسے کم رتبہ دو۔ بھئی اس نے تمہیں پہلا سانس دینا، اس نے تمہیں آخری سانس دینا، اس نے تمہیں بیوی دینی، بچے دینے، کہاں عزتیں ڈھونڈنے جاتے ہو، “فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا”۔ عزت اللہ نے تمہیں دینی ہے، اخلاق اللہ نے دینے ہیں، آپ کو بچے اللہ نے دینے ہیں، چھیننے نہیں ہیں اس نے۔ جب تمام تر اختیاراتِ کلی اللہ کے ہاتھ میں ہوں گے تو پھر کیا آپ کو نہیں خیال آتا کہ آباؤ اجداد سے وہ زیادہ مہنگا ہے؟ زیادہ قیمتی ہے؟ زیادہ بڑا ہے؟

آپ کو خیال نہیں آتا کہ سفارشات دنیا سے بڑا تعلق اس کا ہے؟ آپ کو خیال نہیں آتا کہ عزت و توہین کے مراتب میں آخری فیصلہ اللہ کے پاس ہے؟ تو آپ، آپ ڈپٹی کمشنر کی بجائے پیادے کا کیوں آسرا لیتے ہو؟ آپ کا باس سیدھا آپ کو کہہ رہا ہے کہ مانگ لو مجھ سے جو مانگنا ہے، مجھ سے استدعا کر لو جو کرنی ہے، تو خداوند کریم آپ سے ایک ڈائریکٹ ریلیشن شپ مانگتا ہے۔ اور آپ کے نبی پتہ ہے نبیِ ذاکر تھے۔ اللہ کے رسول کتنے بڑے ذاکر تھے کہ جب ایک حدیث میں عبداللہ بن مسعود… ساتھ حضور سوئے ہوئے تھے تو دو لوگ آکے کھڑے ہو گئے سرہانے، اور یہ ملائکہ میں سے تھے۔ تو ایک نے کہا دوسرے کے بارے میں کہ اس مرد کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو دوسرے نے کہا عجیب ہے کہ ان کی آنکھیں بند ہیں، یہ سوئے ہوئے ہیں مگر ان کا دل خدا کی یاد میں ہے۔ پھر ام المومنین عائشہ صدیقہ سے باب جنابت میں پوچھا گیا، کیا اللہ کے رسول اس حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے؟ فرمایا وہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ بڑے طریقے ہیں، کوئی بین (پابندی) جو نہیں ہے، کوئی بندش نہیں۔ بھئی نماز قید ہے کسی نہ کسی طریقے میں قید ہے، انداز میں قید ہے، وضو میں قید ہے، مقام میں قید ہے، مگر ذکر نہیں ہے۔ قرآن پڑھنے کے آداب ہیں، وہ اپنے آداب میں قید ہے۔ ذکر پر کوئی قید نہیں ہے، کھڑے، بیٹھے، کروٹوں کے بل، اونچ نیچ جس عالم میں ہو۔

اب آپ کو فرق بتاؤں کس کس عالم میں۔ جب آپ آیت کریمہ پڑھتے ہو تو کتنا اہتمام، خوشبوئیں لگ رہی ہیں، اگربتیاں سلگ رہی ہیں، چاندنیاں بچھی ہوئی ہیں، فرش لگے ہوئے ہیں، ہر طرف خوشبو پھیلی ہوئی ہے، نئے کپڑے پہنے جا رہے ہیں، نق صق درست کیا جا رہا ہے، کسی فضول مداخلت کو آپ پسند نہیں کرتے، ایسے لگتا ہے پتہ نہیں کیا واقعہ اور حادثہ پیش آ رہا ہے۔ یہ تو ہیں آپ جو تسبیح پڑھ رہے ہیں، اور جس پیغمبر نے پڑھی ہے اس کا کیا ماحول تھا؟ مچھلی کا پیٹ، عفونت، گندگی، غلاظت، اور یہ بھی کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ذوالنون پہ اثر نہیں ہوا، جب مچھلی کے پیٹ سے نکلے تو بدن گلا ہوا تھا۔ اور بڑی دیر تک کدو کی بیل کے سائے میں اس لیے رہے کہ تاکہ وہ زخم بھر جائیں جو مچھلی کے پیٹ میں ان کے جسم پر پڑے تھے۔ آپ کا کیا انداز ہے یاد کرنے کا، اور ان کا کیا انداز ہے جو تسبیحات کے بانی مبانی تھے جنہوں نے آپ کو تسبیحات عطا کی ہیں؟ ان کا کیا اندازِ فکر تھا، آپ کا کیا اندازِ فکر ہے؟ خواتین و حضرات ان معاملات کے لیے اللہ نے کچھ شرعی قوانین کو مرتب فرمایا تاکہ یہ نسلِ انسان جو اپنے مقام سے بچھڑ گئی ہے ان کو سہولت مل جائے میرے پاس آنے کے لیے۔ شرع جو ہے آپ کی ہیلپنگ سائیڈ ہے۔ آپ کو پتہ لگ جائے کہ یہ خصائل جب کسی بڑے معاشرے میں پیدا ہوں گے، جب یہ ایٹیٹیوڈز پیدا ہوں گے تو پھر آپ آسانی سے اللہ تک پہنچ جاؤ گے۔ اور یہ تمام آسانیاں اللہ نے اپنے رسول کے معاملات میں پیش کر دیں آپ کو۔ اللہ نے بتایا کہ متابعتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں آپ کو اندازِ فکر مل جائے گا، اندازِ حیات مل جائے گا، قربِ خدا تک پہنچنے کے لیے آپ کو ساری صلاحیتیں مہیا ہو جائیں گی۔

پروفیسر احمد رفیق اختر

#Zikr #ProfAhmadRafiqueAkhtar #IslamicLecture #Spirituality #RememberingAllah

Loading