خوارج کی شروعات اسلام کی پہلی صدی میں ہوئی جب مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا آزمائش آیا تھا میں اسکو آزمائش کہونگا کیونکہ پھر شیعہ سنی فضول بحث سے بچنا چاہتا ہوں
جنگ صفین میں ایک طرف حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے دونوں صحابہ تھے دونوں جنتی تھے لیکن اجتہادی اختلاف ہوا جب جنگ ختم ہونے لگی تو دونوں طرف سے یہ فیصلہ ہوا کہ قرآن کو ثالث بنا کر فیصلہ کر لیتے ہیں اس کو تحکیم کہتے ہیں یعنی ثالثی
تو حضرت علی کی فوج میں سے ایک گروہ نکلا اور انہوں نے نعرہ لگایا ان الحکم الا للہ یعنی حکم صرف اللہ کا ہے اللہ کے حکم میں انسان کو ثالث کیوں بنا رہے ہو یہ نعرہ بظاہر بہت اچھا لگتا ہے لیکن اس کے پیچھے نیت غلط تھی
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھایا کہ بھائی قرآن تو کتاب ہے کتاب خود نہیں بولتی اس کو انسان ہی سمجھائے گا تم خود ہی تو کہتے تھے کہ قرآن سے فیصلہ کرو اب جب ہم قرآن سے فیصلہ کر رہے ہیں تو تم انکار کر رہے ہو
لیکن وہ نہ مانے وہ حضرت علی کی فوج سے نکل گئے اور نہروان کے مقام پر جمع ہو گئے اسی لیے ان کو خوارج کہا گیا یعنی نکل جانے والے خارج ہونے والے
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے مناظرہ کیا ان میں سے بہت سے لوگ واپس آ گئے لیکن جو ضد پر رہے انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے پھر حضرت علی نے ان کے خلاف جنگ کی جس کو جنگ نہروان کہتے ہیں اور ان کی بڑی تعداد وہاں ماری گئی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں پہلے ہی فرمایا تھا کہ یہ لوگ دین سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا یعنی سمجھ نہیں آئے گا
خوارج کا پہلا عقیدہ یہ تھا کہ گناہ کبیرہ کرنے والا مسلمان نہیں رہتا وہ کافر ہو جاتا ہے مثلا اگر کوئی شراب پی لے جھوٹ بول دے نماز قضا کر دے تو ان کے نزدیک وہ کافر ہو گیا اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی عقیدے کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو عہدے دیے ہیں اس لیے وہ کافر ہو گئے نعوذ باللہ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اسی عقیدے کی وجہ سے عبدالرحمن ابن ملجم نامی ایک لعنتی کتے اور خارجی نے شہید کیا
دوسرا عقیدہ امامت کے بارے میں تھا ہم اہل سنت کہتے ہیں کہ خلیفہ قریش سے ہونا افضل ہے لازمی نہیں اور اگر کوئی خلیفہ بن جائے تو اس کی اطاعت کرنی چاہیے جب تک وہ کھلا کفر نہ کرے لیکن خوارج کہتے تھے کہ خلیفہ قریش سے ہونا ضروری نہیں کوئی بھی نیک متقی اور طاقتور مسلمان امام بن سکتا ہے اور اگر امام سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے فورا ہٹانا یا قتل کرنا جائز ہے
یہی وجہ ہے کہ وہ ہر حکومت کے خلاف نکل آتے تھے ان کے نزدیک ہر حکومت کافر ہے اسی وجہ سے میں ان لوگوں کو جہنم کی کتے کہتا ہو
خوارج میں بھی بہت فرقے ہیں ازارقہ نجدات صفریہ اباضیہ یہ ایک الگ لمبی بحث ہے اس پر اگلی پوسٹ میں تفصیل سے بات کریں گے لیکن یاد رکھو آج جو اباضیہ عمان میں ہیں وہ پرانے خوارج سے نرم ہو گئے ہیں وہ آج کے دہشت گرد خوارج سے الگ ہیں میں نے پہلے اس پر ایک مضمون لکھی تھی اس سید جان ائڈی میں سرچ کرو دیکھو
آج کے دور میں خوارج ایک نام سے نہیں ہیں کوئی جماعت اپنے آپ کو خارجی نہیں کہتی کیونکہ خارجی نام سے سب نفرت کرتے ہیں مگر سوچ اور طریقہ وہی پرانا ہے جیسے قادیانی کتے ہے
آج داع ش ٹی ٹی پی اور ان جیسے کئی گروہوں کی فکر خوارج والی ہے دلیل کیا ہے جہاں تک میرے علم میں ہے تو میرا
پہلی دلیل یہ بھی مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں کہتے ہیں جو پولیس میں ہے وہ مرتد ہے جو فوج میں ہے وہ طاغوت ہے جو ووٹ دیتا ہے وہ کافر ہے جو عدالت جاتا ہے وہ کافر ہے یہی تو خوارج کا پرانا طریقہ تھا
دوسری دلیل یہ بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں اسلام کہتا ہے جہاد کا اعلان ریاست کرے گی یہ خود ہی اعلان کر دیتے ہیں
تیسری دلیل یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم شریعت نافذ کر رہے ہیں مگر عمل میں یہ بازاروں میں دھماکے کرتے ہیں مسجدوں میں نمازیوں کو مارتے ہیں اسکول کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں جیسے کل ہی کوہاٹ میں دھماکہ ہوا اگر اپکی آنکھیں اور کان کام کررہے ہے تو دیکھو البتہ کچھ باتیں ایسے ہیں جس پر میں سیکیورٹی معاملات کی وجہ سے بات نہیں کرتا اب
اسی لیے پاکستان کے بڑے بڑے علماء دارالعلوم دیوبند جامعہ اشرفیہ لاہور دارالعلوم کراچی اور سعودی عرب کے کبار علماء نے ان کو موجودہ دور کے خوارج قرار دیا ہے
آج کے خوارج کی سب سے بڑی پناہ گاہیں ہمارے پیارے افغانستان کے پہاڑی علاقے ہمارے قبائلی پٹی اور شام عراق کے صحرا ہیں وہاں پہاڑ ہیں غاریں ہیں حکومت کی رٹ کمزور ہے اس لیے چھپنا آسان ہے
جب امریکہ افغانستان سے نکلا تو بہت سا اسلحہ چھوڑ گیا نائٹ ویژن گلاسز M4 رائفلز بلٹ پروف گاڑیاں وہ اسلحہ اب ان کے پاس ہے
پاکستان کے اندر ہمارے خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع بلوچستان کے کچھ علاقے اور بڑے شہروں کی کچی آبادیاں ان کی چھپنے کی جگہیں ہیں وہاں یہ عام لوگوں میں گھل مل کر رہتے ہیں داڑھی بڑھا لیتے ہیں شلوار قمیص پہن لیتے ہیں تاکہ کوئی شک نہ کرے تبلیغ یہ کیسے کرتے ہیں یہ سب سے اہم بات ہے یہ ضرور زہن میں رکھو
ان کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا ہے ٹک ٹاک ٹیلی گرام واٹس ایپ چینل فیس بک پیج پر یہ ویڈیوز ڈالتے ہیں جذباتی نعتیں جنگ کے مناظر اور آدھی ادھوری آیات لگا کر نوجوانوں کا ذہن بناتے ہیں یہ سید جان کی نصیحت نہیں وصیت سمجھو کبھی بھی جلدی کسی چیز سے متاثر مت ہو جس چیز پر شک ہو ان سے دور رہو ہمیشہ اپنی تحقیق کرو اپنی عقل استعمال کرو کسی غیر انسان بلکہ اپنوں تک جلدی کسی پر یقین مت کرو وجہ یہ ہے
بھائی ایک بات یاد رکھو یہ چیز بہت عام ہے ایک آیت پڑھ کر ایک دم متاثر ہو جاتے ہو بھائی پورا قرآن پڑھو پوری تفسیر پڑھو اچھی طرح تحقیق کرو علماء سے بیٹھو
یہ مسجد کے کسی کونے میں یا کسی ڈیرے پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ ریاست کافر ہے فوج طاغوت ہے پولیس مرتد ہے یہ نوجوان کو اکیلے میں بلاتے ہیں اس کو کہتے ہیں تمہارے محلے میں فحاشی ہے حکومت سودی نظام چلا رہی ہے تم جہاد کرو گے تو سیدھا جنت جاؤ گے اس طرح کم عمر لڑکوں کا برین واش کرتے ہیں ان کو خودکش جیکٹ پہنا کر کہتے ہیں تم ابھی شہید ہو گے اور حوریں تمہارا انتظار کر رہی ہیں نعوذ باللہ
یہ جنت کا ٹکٹ نہیں ہے یہ جہنم کا ٹکٹ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو خودکشی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا
ان کو استعمال کون کر رہا ہے یہ سب سے کڑوا سچ ہے
اور ایک بات میں ان لوگوں کے لیے جو دیر باجوڑ وزیرستان خیبر ایجنسی پشاور کوہاٹ مہمند بہت نام ہیں بس سارا پختونخوا یاد کرو اس سارے علاقے میں یہ لوگ مختلف شکلوں میں دعوت چلاتے ہیں جاسوسی بھی کر رہے ہیں تو اگر کسی پر شک ہو یا مشکوک نظر آئے تو فورا دور رہو یا ریاستی سیکیورٹی اداروں کو اطلاع دو لیکن خاموشی سے اگر بدمعاشی کی یا دوستی کی تو اس کا میں اگلی تحریر میں بتاؤں گا یہ تحریر بہت لمبی ہوگئ معذرت اور یہ لوگ آپ کیسے پہچانیں گے اس موضوع پر اگلی بار پوسٹ کروں گا وہ ضرور پڑھنا
Disclaimer
This post is for educational and informational purposes only. It is a historical and analytical discussion about extremist ideology. I do not support, promote, or glorify terrorism, violence, or any banned organization. I condemn all forms of terrorism. The purpose is to create awareness among youth so they can stay away from extremist propaganda.
![]()

