امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی برتری

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست کا سامنا، سینیٹ کے بعد ایوان نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس کی برتری

انٹرنیشنل (ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )امریکا میں انتخابات کے لیے مختلف ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ مختلف ریاستوں سے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیموکریٹس نے ری پبلیکنز سے سینیٹ کا کنٹرول چھین لیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 54 نشستوں میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ری پبلیکین نے 44 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ 435 نشستوں والے ایوان نمائندگان میں 231 نشستوں پر ڈیموکریٹس اور 139 پر ری پبلیکنز نے کامیابی حاصل کی ہے۔

گورنرز کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو 16 ریاستوں میں کامیابی ملی۔ سی این این کے مطابق 10 ریاستوں میں ری پبلیکن امیدوارجیت گئے۔ 27 میں ڈیموکریٹس اور 18 میں ری پبلیکنز گورنربن گئے۔

امریکی عوام نے انتہا پسندی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد ایوانِ نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر حکیم جیفریز نے پُرجوش خطاب میں کہا کہ آج سے امریکا کی شاندار واپسی کا آغاز ہو رہا ہے۔ امریکی عوام نے انتہاپسندی اور بدعنوانی کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات بڑی تبدیلی کا پیغام ہیں۔ ہم ملک بھر کی تمام برادریوں کے حقوق کیلئے لڑیں گے۔ حکیم جیفریز نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم صدر۔ نائب صدر یا سپریم کورٹ کیلئے نہیں بلکہ امریکا کے عوام کیلئے کام کرتے ہیں۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی پر باراک اوباما کا ردعمل

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں باراک اوباما نے کہا کہ امریکی عوام نے واضح پیغام دے دیا ہے۔ وہ تقسیم کے بجائے متحد کرنے والی سیاست اور اپنے مسائل کا ٹھوس حل چاہتے ہیں۔ ڈیموکریٹس کو ان علاقوں میں بھی کامیابی ملی جہاں جیتنے کے امکانات انتہائی کم تھے۔ مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے امیدوار عوامی خدمت اور مشترکہ اقدار پر متحد رہے۔

 سابق صدر نے انتخابی عملے اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے اقتدار میں ابھی دو سال باقی ہیں۔ اب جہاں ممکن ہو تبدیلی لانا۔ مزید نقصان روکنا اور مستقبل کیلئے مضبوط بنیاد رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابات کے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان

فاکس نیوز کو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابی نتائج تسلیم کروں گا، ڈیموکریٹس کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد دیتا ہوں، ڈیموکریٹس نے انتخابات میں اچھی کارکردگی دکھائی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ڈیموکریٹس 11 سال سے ایسی کامیابی کے منتظر تھے، بالآخر انہیں کامیابی مل گئی، انتخابی نتائج کو اپنی قیادت کے خلاف عوامی فیصلہ نہیں سمجھتا، ڈیموکریٹس کی کامیابی کو اپنی ذاتی شکست نہیں سمجھتا، ہم نے گزشتہ دو سال میں تاریخی کارکردگی دکھائی ہے۔ میرے دورِ صدارت کے گزشتہ دو سال امریکی صدارتی تاریخ کے بہترین دو سال رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کئی لحاظ سے تاریخ ساز

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کئی لحاظ سے تاریخ ساز رہی۔ ری پبلکنز کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی دو ریاستوں میں ڈیموکریٹس نے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔

ریاست کنساس سے 94 سال بعد ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن سینیٹ کی نشست جیت گئے۔ اس نشست پر ابتدا میں ری پبلکنز کی کامیابی یقینی سمجھی جا رہی تھی۔

دوسری جانب ٹیکساس میں بھی 38 سال بعد ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو نے سینیٹ کی نشست چھین لی۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور ریاستی اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کو شکست دی۔

مسلمان امیدواروں کی نمایاں کامیابیاں

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں اب تک 6 مسلمان امیدواروں کی کامیابی ہوئی ہے۔ نیوجرسی سے ڈیموکریٹک امیدوار آدم حماوی پہلی بار کانگریس کے رکن منتخب ہوگئے۔

مینیسوٹا سے الہان عمر، مشی گن سے رشیدہ طلیب اور انڈیانا سے آندرے کارسن نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں۔ کیلیفورنیا میں عائشہ وہاب نے 57 فیصد جبکہ لطیفہ سائمن نے 80 فیصد ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

عبدل السید پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب

امریکی انتخابات میں ایک اور تاریخ رقم ہوگئی، عبدل السید پہلی بار مسلمان سینیٹر منتخب ہوگئے۔ عبدل السید نے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے دی۔

جیت کے بعد کارکنوں سے خطاب میں عبدل السید نے کہا کہ مجھے اپنی خدمت کیلئے واشنگٹن بھیجنے پر آپ سب کا شکریہ، ریپبلکنز نے سب سے پہلے میرے نام کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی، میرے نام اور مذہب کو ایشو بنانا ریپبلکنز کے کوئی کام نہ آیا۔

پاکستانی نژاد امیدوار بھی کامیاب

امریکی انتخابات میں متعدد پاکستانی نژاد امیدوار بھی ریاستی اور لوکل الیکشن میں کامیاب ہوگئے۔

سلیمان لالانی 66 فیصد ووٹ لے کر ٹیکساس کی ریاستی اسمبلی کے رکن بن گئے جبکہ محمد اقبال الینوائے کی کین کاؤنٹی کے بورڈ کا رکن منتخب ہوگئے۔ کولوراڈو سے پی کے قیصر اراپا ہو کاؤنٹی کے اسیسر منتخب ہوگئے۔

تاریخ میں پہلی بار سیاہ فام خاتون گورنر منتخب

امریکی ریاست جارجیا میں ڈیموکریٹک امیدوار کیشا لانس باٹمز  نے گورنر کا انتخاب جیت کر تاریخ رقم کردی۔ وہ امریکی تاریخ میں کسی بھی ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئی ہیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اٹلانٹا کی سابق میئر کیشا لانس باٹمز نے ری پبلکن امیدوار اور کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں خواتین، خصوصاً سیاہ فام خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مڈٹرم الیکشن کے نتائج پر ایرانی اسپیکر کا رد عمل

اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ باقر قالیباف نے امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضمیر کی آواز ہو یا مہنگائی کا بوجھ، امریکی عوام نے جنگ کے خلاف اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور ہم امریکی عوام کے فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔

باقر قالیباف نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکی حکومت عالمی آقاؤں اور بلیک میل کرنے والوں کے مفادات کی خاطر عوامی خواہشات سے انحراف کرتی ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا انکار ایک بھیانک خواب بن کر سامنے آئے گا۔