انسانی فطرت

انسانی فطرت

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی فطرت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ انسان محض جسمانی ضروریات رکھنے والی مخلوق نہیں، بلکہ اس کے وجود میں شعور، ارادہ، احساس، تعلق، اخلاقی امتیاز اور معنی کی تلاش جیسی متعدد صلاحیتیں جمع ہیں۔ وہ صرف زندہ رہنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ یہ بھی جاننا چاہتا ہے کہ اسے کیسے جینا چاہیے، کس پر اعتماد کرنا چاہیے، کس عمل کو درست سمجھنا چاہیے اور اپنی زندگی کو کس مقصد سے وابستہ کرنا چاہیے۔ یہی خصوصیات انسانی فطرت کو ایک وسیع مطالعے کا موضوع بناتی ہیں۔

انسانی فطرت کی ایک نمایاں خصوصیت اس کی استعدادِ معرفت ہے۔ انسان اپنے گردوپیش کو دیکھتا، سوال اٹھاتا، اسباب تلاش کرتا اور اپنے وجود و کائنات کے بارے میں غور کرتا ہے۔ اس کے اندر سیکھنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے، اگرچہ اس صلاحیت کا درست استعمال خود بخود یقینی نہیں ہوتا۔ اسے تعلیم، تجربے، رہنمائی اور فکری تربیت کی ضرورت رہتی ہے۔ اسی طرح انسان کے اندر اختیار اور ارادے کی صلاحیت بھی ہے؛ وہ مختلف راستوں میں انتخاب کر سکتا ہے اور اپنے فیصلوں کے نتائج کا ذمہ دار بنتا ہے۔ اس کا یہی اختیار اسے اخلاقی ذمہ داری کا اہل بناتا ہے۔

انسانی فطرت کا ایک اہم پہلو تعلق اور انسیت ہے۔ انسان تنہا زندگی گزارنے کے لیے نہیں بنایا گیا؛ اسے خاندان، محبت، تعاون، اعتماد اور اجتماعی زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کے دکھ سے متاثر ہوتا، ان کے ساتھ خوشی بانٹتا اور تعلقات کے ذریعے اپنی شخصیت کی تشکیل کرتا ہے۔ لیکن یہی تعلق کبھی محبت کے ساتھ تعصب، وابستگی کے ساتھ جانب داری اور اجتماعی ضرورت کے ساتھ گروہی مفاد بھی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے انسانی فطرت کی کسی صلاحیت کو صرف اس کے مثبت پہلو سے سمجھنا کافی نہیں؛ اس کے درست اور غلط استعمال کے امکانات کو بھی پہچاننا ضروری ہے۔

انسان کے اندر خیر کی طرف میلان اور اخلاقی قدر و قیمت کا احساس بھی پایا جاتا ہے۔ وہ عدل، سچائی، وفاداری اور احسان کو قابلِ قدر سمجھنے کی استعداد رکھتا ہے، اگرچہ خواہش، مفاد اور ماحول بعض اوقات اس کے فیصلوں کو متاثر کر دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید انسان کے نفس میں خیر و شر کے ادراک کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے:

وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۝ فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا

’’اور نفس کی قسم اور اس ذات کی جس نے اسے درست بنایا، پھر اسے اس کی بدکاری اور پرہیزگاری کا شعور عطا کیا۔‘‘ (الشمس: ۷–۸)

یہ آیات انسانی نفس میں اخلاقی امتیاز کی استعداد کی اہمیت واضح کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر نیکی اور بدی کی تمام تفصیلات پیدائش ہی سے جانتا ہے، بلکہ یہ کہ اس کے اندر اخلاقی ادراک کی بنیاد موجود ہے، جسے تعلیم، ہدایت اور تربیت سے واضح اور مضبوط کیا جاتا ہے۔

انسانی فطرت میں کمزوری اور قوت دونوں کے امکانات ہیں۔ انسان جلد متاثر ہو سکتا ہے، بھول سکتا ہے، غلطی کر سکتا ہے اور اپنی خواہشات کے ہاتھوں اپنے ہی علم کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے۔ دوسری طرف وہ اپنی غلطی پہچاننے، رجوع کرنے، صبر کرنے اور اپنے رویے کی اصلاح کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء: ۲۸) — ’’اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ یہ کمزوری اس کی انسانی حقیقت کا حصہ ہے، مگر اسے اصلاح اور ترقی سے محروم نہیں کرتی؛ بلکہ اپنی حدود کو پہچاننا ہی ذمہ دارانہ زندگی کی ابتدا ہے۔

انسانی فطرت کا ایک اور اہم پہلو مقصد کی طلب ہے۔ انسان صرف واقعات کا مشاہدہ نہیں کرتا، بلکہ ان کے معنی جاننے اور اپنے وجود کی غایت سمجھنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ وہ زندگی، موت، کائنات اور اپنی ذمہ داری کے بارے میں سوال اٹھاتا ہے۔ یہ جستجو اسے اپنے خالق اور زندگی کے حقیقی مقصد پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ تاہم محض مقصد کی تلاش کسی خاص عقیدے کی مکمل معرفت نہیں بن جاتی؛ اس طلب کو صحیح سمت دینے کے لیے وحی کی رہنمائی ضروری ہے۔

انسانی فطرت کو سمجھنے کا حاصل یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس میں معرفت، ارادہ، تعلق، اخلاقی شعور اور مقصد کی تلاش کی استعداد جمع ہے۔ یہی استعداد اسے ذمہ داری قبول کرنے اور اپنی زندگی کو ایک اعلیٰ مقصد کے تابع کرنے کے قابل بناتی ہے۔ لیکن انسانی فطرت کی ان تمام خصوصیات میں ایک بنیادی سوال سب سے زیادہ اہم ہے: کیا انسان کے اندر اپنے خالق کو پہچاننے اور اسی کی بندگی کی طرف متوجہ ہونے کی کوئی اصل استعداد بھی رکھی گئی ہے؟

یہ سوال انسانی فطرت کے مطالعے کو اس کے بنیادی توحیدی پہلو تک لے جاتا ہے۔ چنانچہ اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ فطرت اور توحید کا باہمی تعلق کیا ہے، اور انسان کی اصل ساخت اسے اپنے خالق کی معرفت کی طرف کس طرح متوجہ کرتی ہے۔

سلسلہ: جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے نور کا سفر