اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

ازواجِ مطہرات

 اُمّ المؤمنین حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )برده بنت رافعؓ بیان کرتی ہیں:خلیفۂ راشد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بارہ ہزار درہم کی رقم حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجی۔ اسے دیکھ کر انہوں نے فرمایا:

’’اللہ عمر کی مغفرت فرمائے! میری دوسری بہنیں اس مال کی تقسیم کا کام مجھ سے بہتر کر سکتی تھیں۔‘‘

انہیں بتایا گیا:

’’یہ تمام رقم صرف آپ کے لیے ہے۔‘‘

یہ سن کر انہوں نے مجھ سے فرمایا:

’’اس پر کپڑا ڈال دو اور اسے تقسیم کرنا شروع کر دو۔‘‘

میں ان کی ہدایت کے مطابق مٹھی بھر بھر کر درہم مختلف گھروں میں پہنچاتی رہی۔ ان میں ان کے عزیز و اقارب اور یتیموں کے گھر بھی شامل تھے۔

تقسیم کے بعد بھی کپڑے کے نیچے کچھ رقم باقی رہ گئی۔ میں نے عرض کیا:

’’اُمّ المؤمنین! اس میں میرا بھی تو کچھ حق ہے۔‘‘

انہوں نے فرمایا:

’’جو کچھ باقی ہے، وہ تم لے لو۔‘‘

میں نے کپڑے کے نیچے موجود درہم سمیٹے۔ گنے تو وہ پچاسی درہم تھے۔

رقم تقسیم کرنے کے بعد حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی:

’’اے اللہ! اس سال کے بعد عمر کا عطیہ مجھے نہ پہنچے۔‘‘

روایات میں آتا ہے کہ اگلا سالانہ عطیہ آنے سے پہلے ہی ان کی وفات ہو گئی۔

یہ بلند حوصلہ، سیرچشم، پیکرِ جود و سخا اور استغنا کی حامل خاتون حضرت سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔

انہیں اُمّ المؤمنین بننے کا شرف اس انداز میں حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے نکاح کا ذکر فرمایا۔ ان کی زندگی بعض جاہلی معاشرتی تصورات کی اصلاح اور اہم دینی احکام کی وضاحت کا وسیلہ بنی۔

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے والد کا نام جحش تھا۔ ان کا سلسلۂ نسب اس طرح بیان کیا گیا ہے:

**زینب بنت جحش بن رئاب بن یعمر بن صبرہ بن مرہ بن کبیر بن غنم بن دودان بن اسد بن خزیمہ۔**

والد کی طرف سے ان کا تعلق بنو اسد سے تھا، جبکہ والدہ کی طرف سے وہ بنو ہاشم سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی والدہ حضرت اُمیمہ بنت عبدالمطلب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں۔ اس طرح حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی زاد بہن تھیں۔

انہیں اسلام کے ابتدائی دور ہی میں ایمان کی نعمت نصیب ہو گئی تھی۔ ہجرت کے زمانے میں وہ بھی اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچیں۔ قرابت داری کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خبرگیری اور سرپرستی فرماتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام اور اس وقت کے منہ بولے بیٹے، حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، کے ساتھ کرنے کی تجویز پیش فرمائی۔

ابتدا میں حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اور ان کے خاندان نے اس تجویز پر تردد ظاہر کیا۔ اس دور کے معاشرتی تصورات کے مطابق کسی بلند نسب خاندان کی خاتون کا نکاح ایک آزاد کردہ غلام سے ہونا غیر معمولی بات سمجھی جاتی تھی۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ایک تفسیری روایت کے مطابق، حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے ابتدا میں اپنے نسبی مقام کی بنا پر اس رشتے کو پسند نہیں کیا تھا۔

اس واقعے کا پس منظر سمجھنے کے لیے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی زندگی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ والد کی طرف سے بنو کلب اور والدہ کی طرف سے بنو طَے سے تعلق رکھتے تھے۔ دونوں عرب کے معروف اور معزز قبائل تھے۔

بچپن میں وہ اغوا کر لیے گئے اور غلام کی حیثیت سے فروخت کر دیے گئے۔ سیرت کی روایات کے مطابق حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے انہیں خریدا اور اپنی پھوپھی حضرت سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں پیش کیا۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آ گئے۔ آپ کی شفقت، محبت اور حسنِ سلوک نے ان کے دل میں ایسی وابستگی پیدا کر دی کہ وہ آپ سے جدا ہونے پر آمادہ نہ تھے۔

کئی برس کی تلاش کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ کے والد اور چچا کو ان کا پتا ملا۔ وہ مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ فدیہ لے کر زید کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیں۔

آپ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو اپنے والد اور چچا کے ساتھ چلے جائیں۔

لیکن حضرت زید رضی اللہ عنہ نے آپ کی رفاقت کو ترجیح دی۔ ان کے جواب کا مفہوم یہ تھا:

’’میں آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ میں نے آپ کا جو حسنِ سلوک دیکھا ہے، اس کے بعد آپ سے جدا ہونا نہیں چاہتا۔‘‘

ان کی اس محبت اور وفاداری پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کیا اور اس وقت کے رواج کے مطابق اپنا منہ بولا بیٹا قرار دیا۔

اس اعلان کے بعد لوگ انہیں ’’زید بن محمد‘‘ کہنے لگے۔ بعد میں قرآنِ مجید نے منہ بولے بیٹوں کو ان کے حقیقی والد کے نام سے پکارنے کا حکم دیا تو وہ دوبارہ زید بن حارثہ کہلائے۔

ان کے والد اور چچا انہیں محبت اور عزت کے ماحول میں خوش دیکھ کر واپس چلے گئے۔ یہ واقعہ اعلانِ نبوت سے پہلے کا تھا۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ کا تعلق ایک معزز خاندان سے تھا۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور قربت کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ اس کے باوجود معاشرے کے بعض لوگ ان کے سابقہ غلام ہونے کو کم تر حیثیت کی علامت سمجھتے تھے۔

حالانکہ ان کے اغوا ہونے اور غلام بنا دیے جانے میں ان کی اپنی مرضی یا اختیار کا کوئی دخل نہیں تھا۔

یہ معاشرتی رویہ انسان کی قدر کو اس کے کردار اور تقویٰ کے بجائے اس کی سابقہ سماجی حیثیت سے وابستہ کر دیتا تھا۔ اس کی وجہ سے بہت سے بے قصور افراد کو وہ احترام حاصل نہیں ہوتا تھا جس کے وہ بحیثیت انسان مستحق تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں شرافت اور بزرگی کا اصل معیار تقویٰ تھا۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ کے لیے اپنے ہی خاندان کی ایک معزز خاتون کا رشتہ تجویز کرنا اس معاشرتی تفریق کی اصلاح کی ایک عملی مثال تھی۔

بعض تفسیری روایات میں حضرت زید رضی اللہ عنہ اور حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے نکاح کی تجویز کے ساتھ سورۂ احزاب کی اس آیت کا تعلق بیان کیا گیا ہے:

’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں تو پھر انہیں اپنے اس معاملے میں اختیار باقی رہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے، وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔‘‘

**سورۂ احزاب، آیت ۳۶**

ان روایات کے مطابق، حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز قبول کر لی اور نکاح پر رضامندی ظاہر کر دی۔

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی رضامندی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کرایا۔

سیرت کے بعض بیانات کے مطابق آپ نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کی طرف سے دس دینار اور ساٹھ درہم مہر ادا کیا۔ لباس اور کھانے پینے کے سامان کا بھی انتظام فرمایا۔

حضرت زید رضی اللہ عنہ پہلے آپ کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت سے رہتے تھے۔ شادی کے بعد اس نئے جوڑے کے لیے الگ رہائش کا انتظام کیا گیا۔

یہ نکاح اس بات کی عملی مثال بنا کہ ایک آزاد کردہ غلام بھی کسی معزز خاندان کی خاتون کا شوہر بن سکتا ہے۔ سابقہ غلامی کسی انسان کی عزت، صلاحیت اور دینی مقام کو ختم نہیں کرتی۔

اس موقع سے متعلق بیان کی جانے والی قرآنی ہدایت میں امت کے لیے ایک بنیادی اصول موجود ہے: جب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم واضح طور پر ثابت ہو جائے تو مسلمان اسے اپنی خواہش یا معاشرتی تعصب کی وجہ سے رد نہیں کر سکتا۔

البتہ کسی حکم کو سمجھنے، اس کی صحت معلوم کرنے اور اس کے درست اطلاق کے لیے علم، تحقیق اور اہلِ علم کی رہنمائی ضروری ہے۔

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنی ابتدائی رائے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجویز قبول کر کے اطاعت کا مظاہرہ کیا۔

اصل مصنف نے یہاں حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی عمر اور سابقہ ازدواجی زندگی کے متعلق ایک سوال اٹھایا ہے۔

ان کے بیان کے مطابق، بعض سیرت نگار حضرت زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکاح کو ان کی پہلی شادی قرار دیتے ہیں، جبکہ اس موقع پر ان کی عمر تقریباً چونتیس برس بیان کرتے ہیں۔

مصنف سوال کرتے ہیں کہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والی، حسن و جمال اور سلیقہ شعاری کی حامل خاتون کا اس عمر تک غیر شادی شدہ رہنا اس دور کے عام معاشرتی رواج کے تناظر میں کیسے سمجھا جائے؟

تاہم صرف عمر یا اس زمانے میں کم عمری کی شادیوں کے رواج سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کا اس سے پہلے بھی نکاح ہوا تھا۔ اس سوال کا فیصلہ واضح تاریخی شہادت کی بنیاد ہی پر کیا جا سکتا ہے۔

اس الجھن   کا جزوی حل تو سیدہ کے بھتیجے عثمان کی اس روایت سے سامنے آ جاتا ہے جسے علامہ ابن سعد

نے اپنی طبقات  میں نقل کیا   ہے

**جاری ہے**