بلیک ہول کے قریب، کشش ثقل اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ وہ زمان و مکان کو ڈرامائی طور پر موڑ دیتی ہے، جس کی وجہ سے دور دراز کے خطوں (جیسے زمین) کے مقابلے میں وقت بہت زیادہ آہستہ گزرتا ہے- اس اثر کو، جسے ثقلی وقت کا پھیلاؤ (gravitational time dilation) کہا جاتا ہے، کا مطلب ہے کہ بلیک ہول کے قریب منڈلانے والا کوئی شخص محض ایک گھنٹہ گزارتا ہے جبکہ کہیں اور موجود ناظرین کے لیے ہزاروں سال گزر سکتے ہیں- کوئی چیز بلیک ہول کے افقِ واقعہ (event horizon) کے جتنی قریب ہوگی، وقت کو سست کرنے والا یہ اثر اتنا ہی مضبوط ہوگا- اگرچہ یہ منظر نامہ کافی حد تک نظریاتی ہے اور حقیقت میں انتہائی خطرناک ہے لیکن یہ آئن سٹائن کے نظریہ عمومی اضافیت (theory of general relativity) کا براہ راست نتیجہ ہے-