ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ بیعت کا قانون۔۔۔ مصنف۔۔۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ)بیعت دراصل ایک اصطلاح ہے۔ ’’خود کو بیچ دینا، فروخت کر دینا۔‘‘ بیع معنی ہے خرید و فروخت کے۔ قرآن کے لفظ بیعہ سے یہ بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کہ جب آدمی کسی کا مرید ہو جاتا ہے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیتا ہے تو آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ بھئی یہ تو میرا زرخرید ہو گیا ہے۔ اس نے خود اپنی مرضی سے اپنے آپ کو میرے ہاتھ میں بیچ دیا ہے جو بیعت کی اصطلاح کے تحت آتی ہے۔ پتہ نہیں کہاں سے یہ لفظ نکلا بہرحال اس لفظ کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ جیسا کہ اس کو کہا جاتا ہے۔ ہمارے حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ اللہ علیہ نے اس اصطلاح کو یعنی بیعہ کی اصطلاح کو ایک آدمی دوسرے کسی آدمی کے ہاتھ بیچ دے اس کو ختم کر دیا ہے۔ ہمارے سلسلہ کے جو قواعد و ضوابط ہیں ان قواعد و ضوابط میں ایک بات یہ بھی ہے کہ کوئی ایسا آدمی جو سلسلہ عظیمیہ میں کسی لائق ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کو فیض پہنچائیں گے اس کے اوپر لازم ہے کہ وہ کسی آدمی کو اپنا مرید نہ کہے بلکہ دوست کہے۔ ایک آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے آزاد پیدا کیا وہ کیوں کسی دوسرے آدمی کے ہاتھوں خود کو فروخت کرے۔ اس کے جولفظی معنی ہیں وہ صحیح نہیں ہیں۔ بیعت دراصل ایک روحانی شاگردی ہے، کسی علم کو سیکھنے کے لئے جب کسی روحانی استاد کا آپ انتخاب کرتے ہیں پھر استاد کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کرنے کا عہد کیا جاتا ہے تو یہ بیعت کہلاتی ہے کیونکہ کسی بھی علم کو حاصل کرنے کے لئے آپ کو استاد کی ہدایات کے مطابق عمل کرنا ہو گا ورنہ آپ علم نہیں سیکھ سکتے اور اگر آپ روحانی علوم سیکھنا نہیں چاہتے تو بیعت ہونا کوئی ضروری نہیں۔ حضور قلندر بابا اولیاءؒ کے پاس جب لوگ آیا کرتے تھے تو وہ فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو بھئی کوئی کام ہو تو بتا دو۔ ہمارے سے استاد شاگردی کا رشتہ نہ استوار کرو ورنہ پریشانی ہو گی دوست بناؤ ہمیں، جو تمہارا کام ہے کہو ہم دعا کریں گے اللہ تعالیٰ پوری کریں گے۔ بیعت تو ہمارے یہاں سلسلہ عظیمیہ میں سرے سے ہے ہی نہیں۔
کتاب: توجیہات
صفحہ: 154-155
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی رحمۃ اللہ علیہ
![]()

