تمہارے ہجر کا موسم بڑا سہانا رہا
ترے کوچے کے فقیروں سے دوستانہ رہا
یہی گلی سے گزرنے کا اِک بہانہ رہا
مجھے سنسار میں اِک ہی طرح کے لوگ ملے
کوئی اپنا نہ بنا، اور کوئی بیگانہ رہا
میں مطمئن ہوں کہ، اِس شہر سے دمِ رخصت
کوئی راضی نہ ہوا، اور کوئی خفا نہ رہا
ہائے افسوس! کہ دُنیا کہ حقیقت "دُکھ” ہے
یہاں "محصولِ محبت”، فقط…”گنوانا” رہا
خمارِ جامِ محبت ؟؟؟ کمال مدہوشی!!!
"غمِ جاناں” مری خوشیوں کا شاخسانہ رہا
ہمیں وصال کی لذت نصیب ہو نہ سکی
تمہارے "ہجر کا موسم” بڑا سہانا رہا
کبھی دِل ہو، تو ذرا پوچھنا، مرے دِل سے
تری تلاش میں پاگل، کہاں… کہاں نہ رہا
ردائے خاک میں خود کو، چھپا لیا آخر!
جب ہم پہ تیری محبت کا آسماں نہ رہا
تُو خوش نصیب ہے! ہم خود ترے دیوانے بنے!
وگرنہ! اپنا دیوانہ، تو اِک زمانہ رہا
ملوں گا تم سے، کبھی فرصتوں کے موسم میں
طبعءِ ناز پہ ملنا… اگر… گراں نہ رہا
مرے ماتھے پہ ضرورت کی لکیروں کی وجہ؟
مہرباں مجھ پہ، مقدر کا… تازیانہ رہا
بعد از مرگ… مری خواہشوں کی "قبر” بنی!
حسرتیں…” کفن” ہوئیں اور "غم” سرہانہ رہا!
تمہاری ذات سے اُلفت تو نہیں تھی مجھ کو
تمہارے شہر میں ایسے ہی آنا جانا رہا
بعد اَز …ترکِ تعلق… علیؔ… مرا لہجہ!
تُرش… تُند… تیز… کسیلا، و جارحانہ رہا
اَب ترے بعد سبھی یار یہ کہیں گے علیؔ
نہ وہ ساقی رہا باقی، نہ وہ مئے خانہ رہا
…
علیؔ
![]()






