بیکٹیریا کا حیران کن ہتھیار کرسپر نہیں، ڈی این اے لکھنے والا دفاعی نظام بڑھاپے اور کینسر کا علاج بدلنے کی امید
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کولمبیا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے بیکٹیریا میں ایک ایسا نیا دفاعی نظام دریافت کیا ہے جو وائرسوں کے حملے سے بیکٹیریا کو بچاتا ہے، اور یہ دریافت آنے والے برسوں میں انسانی خلیوں کی عمر بڑھنے کی رفتار کو سست کرنے اور کینسر کے علاج کو بہتر بنانے کے لیے ایک بالکل نئے جین ایڈیٹنگ آلے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اس نظام کا نام ڈی آر ٹی 10 رکھا گیا ہے، یعنی ڈیفنس ایسوسی ایٹڈ ریورس ٹرانسکرپٹیز 10۔ مشہور کرسپر نظام کی طرح یہ بھی بیکٹیریا کو وائرسوں سے بچاتا ہے، لیکن کرسپر سے بالکل الٹا کام کرتا ہے۔ کرسپر حملہ آور ڈی این اے کو کاٹ ڈالتا ہے، جبکہ ڈی آر ٹی 10 ایک ایسا انزائم استعمال کرتا ہے جسے ریورس ٹرانسکرپٹیز کہتے ہیں، جو خلیے کے اندر آر این اے کے نمونے سے نیا ڈی این اے لکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹری اور مالیکیولر بائیو فزکس کے پروفیسر اور اس مطالعے کے سربراہ سائنسدان سیمیوئل اسٹرنبرگ کا کہنا ہے کہ یہ نظام جینوم انجینئرنگ کے بارے میں سوچ کے روایتی انداز سے بالکل ہٹ کر ہے۔ کرسپر کی طرح ڈی این اے کاٹنے یا بیس ایڈیٹرز کی طرح جینیاتی کوڈ کا ایک حرف بدلنے کی بجائے، یہ نظام آر این اے کو نمونہ بنا کر ڈی این اے کی نئی قطاریں لکھتا ہے، جو خلیوں کی انجینئرنگ کے لیے ایک بالکل نیا راستہ کھولتا ہے۔ اس مطالعے میں کوپن ہیگن یونیورسٹی، سائمنز الیکٹران مائیکروسکوپی سینٹر اور سپین کے سائنسی اداروں کے محققین بھی شریک تھے، اور یہ دریافت 12 اکتوبر 2026 کو مشہور سائنسی رسالے نیچر جرنل میں شائع ہوئی۔ تحقیق کے مطابق ڈی آر ٹی 10 تین حصوں پر مشتمل ہے: ریورس ٹرانسکرپٹیز انزائم، ایک منظم ڈھانچے والی نان کوڈنگ آر این اے جو نمونہ فراہم کرتی ہے، اور ایک ایس ایل اے ٹی ٹی نامی پروٹین جو دفاع کے لیے ضروری ہے۔ جب سائنسدانوں نے ایسکیریشیا کولائی نامی بیکٹیریا میں یہ نظام آزمایا تو بیس 18 نامی وائرس سے مکمل تحفظ ملا، اور جب انہوں نے آر این اے کو ہٹا دیا تو دفاع مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ سب سے حیران کن انکشاف یہ ہے کہ ڈی آر ٹی 10 کے کام کرنے کا انداز ٹیلومریز سے بہت ملتا جلتا ہے۔ ٹیلومریز وہ مشہور انزائم ہے جو ہمارے کروموسومز کے سروں پر موجود حفاظتی ڈی این اے حصوں یعنی ٹیلومیئرز کو بھر دیتا ہے۔ جدید کرائیو الیکٹران مائیکروسکوپی تصاویر اور ارتقائی درخت کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ٹیلومریز اور ڈی آر ٹی خاندان ایک ہی جد سے تعلق رکھتے ہیں، یعنی ٹیلومریز کی جڑیں بیکٹیریا میں ہیں، اور اربوں سال پہلے پیچیدہ خلیوں کے ظہور کی بنیاد اسی قدیم نظام نے رکھی۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں ڈی آر ٹی 10 کو ایسے آلے میں ڈھالا جا سکے گا جو ٹیلومیئرز کو دوبارہ بنا سکے، جس سے خلیوں کی عمر بڑھنے کی رفتار سست ہو اور کینسر کی دواؤں کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم ابھی یہ خالص سائنسی تحقیق ہے، اور انسانوں میں اس کا استعمال سالوں کی آزمائش کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ یہ دریافت یاد دلاتی ہے کہ بیکٹیریا کی چھوٹی سی دنیا میں بھی ایسے راز چھپے ہیں جو انسان کی صحت کا مستقبل بدل سکتے ہیں۔