دماغ کے کینسر میں دگنی زندگی

دماغ کے کینسر میں دگنی زندگی

پن پوائنٹ شعاعوں نے

17 ماہ کا وقت دے دیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹر نیشنل)پھیپھڑوں کا کینسر جب دماغ تک پھیل جائے تو ڈاکٹر اسے سب سے مشکل صورتحال کہتے ہیں۔ مریض کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور آپشنز اور بھی کم۔ اب تک ایسے مریضوں کے پورے دماغ کو شعاعیں دی جاتی تھیں، جس سے یادداشت اور سوچنے کی طاقت بھی متاثر ہوتی تھی۔ لیکن اب ایک نئی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ نشانے پر لگی شعاعیں نہ صرف دماغ بچاتی ہیں بلکہ زندگی بھی دگنی کر دیتی ہیں۔

امریکن سوسائٹی فار ریڈی ایشن آنکولوجی کے سالانہ اجلاس ایسٹرو 2026 میں پیش کیے گئے ایک فیز 3 ٹرائل میں 151 ایسے مریض شامل تھے جن کے پھیپھڑوں کا کینسر دماغ تک پھیل چکا تھا۔ آدھے مریضوں کے پورے دماغ کو شعاعیں دی گئیں جو پرانا طریقہ ہے، اور آدھے کو اسٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری دی گئی جس میں شعاعوں کی باریک بیم صرف رسولی پر مرکوز کی جاتی ہے۔

نتائج حیران کن تھے۔ پن پوائنٹ شعاعیں لینے والے مریض اوسطا 17.4 ماہ زندہ رہے، جبکہ پورے دماغ کی شعاعیں لینے والے صرف 8.6 ماہ۔ یعنی زندگی دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی۔ یہ وہ مریض تھے جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کے پاس چند ماہ بچے ہیں۔ نئی تکنیک سے انہیں اپنے پیاروں کے ساتھ ایک سال سے زیادہ اضافی وقت مل گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج دماغ کے کینسر کے علاج کا معیار بدل دیں گے۔ پن پوائنٹ شعاعیں نہ صرف زیادہ مؤثر ہیں بلکہ ان سے صحت مند دماغی خلیے بھی بچتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مریض کی یادداشت اور ذہنی صلاحیت بھی محفوظ رہتی ہے۔ یہ دوہرا فائدہ ہے، زیادہ زندگی اور بہتر زندگی۔

یہ خبر ان ہزاروں خاندانوں کے لیے امید ہے جو پھیپھڑوں کے کینسر سے لڑ رہے ہیں۔ سائنس ہر دن موت کے منہ سے وقت چھین رہی ہے۔ یاد رکھیں کہ کینسر کا علاج ہمیشہ ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

اس تحقیق کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پن پوائنٹ شعاعوں کی تکنیک اب دوسرے کینسروں میں بھی آزمائی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ آنے والے سالوں میں یہ طریقہ دماغ کے کینسر کا معیاری علاج بن جائے گا۔ پرانے طریقے میں پورے دماغ کو شعاعیں دینے سے مریض کی یادداشت کمزور ہو جاتی تھی اور وہ اپنے پیاروں کو پہچاننے سے بھی قاصر ہو جاتا تھا۔ نئی تکنیک میں یہ خطرہ بہت کم ہے۔ یہی سائنس کی اصل جیت ہے، نہ صرف زندگی بڑھانا بلکہ زندگی کا معیار بھی بچانا۔ ہر نیا دن کینسر کے خلاف جنگ میں ایک نئی امید لے کر آتا ہے۔