تاریک دنیا میں نور کی پہلی کرن: فاران کی چوٹیوں سے آخری نبی ﷺ کا طلوع اور تاریخ کا اختتام! – بلال شوکت آزاد

تاریک دنیا میں نور کی پہلی کرن: فاران کی چوٹیوں سے آخری نبی ﷺ کا طلوع اور تاریخ کا اختتام! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔تحریر۔۔۔ بلال شوکت آزاد )کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ تاریخ کا وہ کیسا ہولناک ترین دور ہوگا جب روم اور فارس جیسی عالمی سپر پاورز انسانیت کا خون پی رہی ہوں، خانہ کعبہ تین سو ساٹھ بتوں کا گودام بن چکا ہو، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا فخر سمجھا جاتا ہو… اور پھر اچانک عرب کے ایک گمنام صحرا میں ایک ایسا یتیم بچہ آنکھ کھولے جس کی پہلی سانس کے ساتھ ہی کائنات کے ارتقاء کی حتمی منزل کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جائے؟

ذرا تاریخ کے اس سب سے بڑے ‘جیو پولیٹیکل’ (Geopolitical) اور روحانی ‘شفٹ’ کو محسوس کریں!

ربیع الاول کے مہینے میں، مکہ کی ایک خاموش وادی میں وہ ہستی جلوہ گر ہوئی جس کے انتظار میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے دعائیں مانگی تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جس کی بشارت دی تھی۔

ان کی والدہ سیدہ آمنہ فرماتی ہیں کہ ولادت کے وقت ان کے جسم سے ایک ایسا نور نکلا جس سے شام (Syria) اور بصریٰ کے محلات روشن ہو گئے۔

مسند احمد (حدیث: 17150) میں حضرت عرباض بن ساریہؓ سے یہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:

"میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت ہوں، اور میری والدہ نے وہ نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہو گئے۔”

یہ وہ کائناتی نور تھا جس نے تاریکی میں ڈوبی ہوئی دنیا کو بتا دیا کہ اب شرک کے اندھیروں کے مٹنے کا وقت آ گیا ہے۔

یہاں اسماء الرجال اور علمِ حدیث کی سخت چھلنی سے ولادت کے مشہور قصوں کا جائزہ لینا انتہائی لازمی ہے۔

ہمارے ہاں میلاد کی محافل اور سیرت کی غیر مستند کتابوں میں بڑے شد و مد سے کچھ واقعات سنائے جاتے ہیں، مثلاً یہ کہ ولادت کی رات ایران کے بادشاہ (کسریٰ) کے محل کے 14 کنگرے گر گئے، فارس کی وہ آگ بجھ گئی جو ہزار سال سے جل رہی تھی، اور دریائے ساوہ سوکھ گیا!

علامہ ذہبیؒ، حافظ ابن حجر عسقلانیؒ اور محققینِ حدیث کے نزدیک کنگرے گرنے اور آگ بجھنے والی اس مخصوص روایت کی سند (بوجہ مخزومی و دیگر راویان) انتہائی ضعیف اور من گھڑت ہے۔

اسلام کی سچائی کو کسی ضعیف اور ڈرامائی واقعے کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں۔

آپ ﷺ کی ولادت کا سب سے مستند اور عظیم معجزہ وہ "نور” تھا جس کا ذکر صحیح احادیث میں ہے، اور جس نور نے آگے چل کر قیصر و کسریٰ کے غرور کو حقیقتاً اور عسکری طور پر ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا دیا۔

بائبل کی قدیم کتابوں (استثنا 33:2) میں جس "کوہِ فاران” (مکہ کے پہاڑ) سے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ نور کے طلوع ہونے کی بشارت دی گئی تھی، وہ پوری ہو گئی۔

آپ ﷺ کی آمد کے ساتھ ہی آسمان سے وحی کا وہ فائنل اور اپ گریڈڈ (Upgraded) ورژن زمین پر اترا جس نے پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ کر دیا۔

اب نہ رب کو پانے کے لیے پہاڑوں پر جانا ضروری تھا، نہ توبہ کے لیے خود کو قتل کرنا شرط تھا، بلکہ پوری روئے زمین کو ہی انسان کے لیے سجدہ گاہ (مسجد) اور پاک بنا دیا گیا۔

آج ہم انبیاء کی تاریخ کے اس طویل، سنسنی خیز اور ایمان افروز سفر کے آخری پڑاؤ پر کھڑے ہیں۔

ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیے!

ہم نے تخلیق آدم اور حضرت نوحؑ کے اس طوفان سے سفر شروع کیا تھا جس نے کفر کو غرق کر دیا۔ ہم نے ابراہیمؑ کی اس آگ کی تپش محسوس کی جو توحید کے نام پر گلزار بن گئی۔ ہم نے یوسفؑ کو تاریک کنویں سے نکل کر تختِ مصر پر بیٹھتے دیکھا، اور ایوبؑ کے اٹھارہ سالہ صبر کے آنسوؤں کو شفا کے چشموں میں بدلتے دیکھا۔

ہم نے موسیٰؑ کے عصا سے بحرِ احمر کی بپھری موجوں کو دو حصوں میں پھٹتے اور فرعون کے غرور کو غرق ہوتے پایا۔ ہم نے داؤدؑ کے ہاتھ میں لوہے کو موم ہوتے، سلیمانؑ کے دربار میں ہواؤں اور جنات کو سجدہ ریز ہوتے، اور عیسیٰؑ کی مصلوبیت کی ہولناک سازش کو آسمانی ‘ایکسٹریکشن’ (Extraction) کے ذریعے ناکام ہوتے دیکھا۔

یہ تمام قصے، یہ معجزات، یہ سلطنتیں اور یہ کڑی آزمائشیں محض تاریخ کی کتابوں میں لکھی ‘سونے سے پہلے کی کہانیاں’ (Bedtime Stories) نہیں تھیں۔

یہ دراصل انسانیت کی وہ عظیم الشان ٹریننگ تھی جو رب العزت ایک لاکھ چوبیس ہزار اساتذہ کے ذریعے کروا رہا تھا۔

ہر نبی نے انسانیت کی ذہنی اور روحانی سطح کے مطابق اسے اگلی کلاس کے لیے تیار کیا، توہمات کے بت توڑے اور عقل و خرد کو بیدار کیا۔

اور پھر اس ٹریننگ کا کمال اس وقت ہوا جب انسانیت کا ذہن شعوری طور پر بالغ ہو گیا، اور کائنات کے خالق نے اپنا ‘ماسٹر پیس’، اپنا آخری نبی ﷺ دنیا میں بھیج دیا۔

 آپ ﷺ کے آنے سے نبوت کے محل کی وہ آخری اینٹ رکھ دی گئی جس کے بعد اس عمارت میں کوئی اور اضافہ قیامت تک نہیں ہو سکتا۔

نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا!

اب کسی نئے نبی کا دعویٰ یا کسی نئی شریعت کا انتظار، دجالیت اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

مختصر قصص الانبیاء کا یہ طویل سلسلہ آج اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

انبیاء کی یہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات میں حق کی جنگ ہمیشہ اکیلے ہی شروع ہوتی ہے، طعنے ملتے ہیں، آگ میں پھینکا جاتا ہے اور مچھلی کے پیٹ میں قید ہونا پڑتا ہے… لیکن اگر انسان کا ایمان اپنے رب پر اٹل ہو، تو کائنات کی بائیولوجی اور فزکس بھی اس کے قدموں میں سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔

اب آسمان سے وحی اترنے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے، مگر باطل سے ٹکرانے کا میدان آج بھی سجا ہوا ہے۔

اب کوئی نبی نہیں آئے گا، اس آخری شریعت کا بوجھ اور حق کا پرچم اب قیامت تک آپ کے اور میرے کاندھوں پر ہے!

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد