اولیاء اللہ کے 30 درجے ہوتے ہیں — اندھیرے سے لے کر مقامِ خودی تک
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب روحانی طالب علم روحانی مشق شروع کرتا ہے تو اس کے سامنے اندھیرا ہوتا ہے — پھر یہی اندھیرا روشنی میں بدلنا شروع ہوتا ہے۔ یہی اولیاء کے درجات کی پہلی سیڑھی ہے، اور آخری سیڑھی مقامِ خودی ہے — اصل حقیقت۔
اولیاء کے 30 درجات ہیں:
1۔ اندھیرے سے روشنی کو ظاہر ہونا
2۔ کیفیت روشنی کا ظاہر ہونا
3۔ مشاہدات صغیرہ
4۔ مشاہدات کبیر
5۔ کشف القبور
6۔ القاء
7۔ القاء مکمل
8۔ مشاہدہ العام صغیرہ
9۔ مشاہدہ العام کامل
10۔ ملاحظہ کشف تقدیر مقدم
11۔ شہود تمثال معائنہ خطوات
12۔ اہل مراقبہ
13۔ اہل کشف
14۔ اخیار
15۔ نجبا
16۔ ابرار
17۔ اوتاد
18۔ عقبا
19۔ فرد ثانی
20۔ فرد اول
21۔ غوث
22۔ کوچک ابدال
23۔ ممثل ابدال / قطب
24۔ قطب مکمل المکمل
25۔ قطب الاقطاب تشریعی / قطب الاقطاب تکوینی
26۔ قطب الاقطاب / قلندر / خواجہ خواجگان
27۔ اس کا جواب عرفان خودی کے چوتھے ایڈیشن میں
28۔ اس کا جواب عرفان خودی کے چوتھے ایڈیشن میں
29۔ اس کا جواب عرفان خودی کے چوتھے ایڈیشن میں
30۔ مقام خودی / اصل حقیقت
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
سوچیے — آپ اس وقت کس سیڑھی پر کھڑے ہیں؟
روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ
قائم مقام سربراہ کل حقیقی سلاسل عالیہ
(کتاب "عرفانِ خودی عرفانِ خدا”، صفحہ 238-239)
مصنف: سید ظہیر حسین شاہ
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
حقیقی مرشد کی تلاش ہے؟ حقیقی علم و معرفت سیکھنے کا شوق ہے؟
تو اپنا واٹس ایپ نمبر کمنٹ میں لکھیں — مرشد کامل حضرت پیر سید ظہیر حسین شاہ صاحب کی طرف سے آپ کو مکمل ہدایات اور تفصیلات بھیجی جائیں گی۔
ان ہدایات کے ساتھ آپ کو کتاب "عرفانِ خودی عرفانِ خدا” (مصنف: سید ظہیر حسین شاہ) بھی ملے گی، اور کچھ اہم پیغامات بھی۔ یاد رہے — عملی کلاس میں شمولیت کے لیے کتاب کا پورا مطالعہ لازمی ہے۔
کتاب کیوں ضروری ہے؟ کیونکہ اس میں مرشد حضور نے روحانیت کی بنیادی سے لے کر اعلیٰ ترین باتیں تحریر فرمائی ہیں، اور ان سوالوں کے جوابات بھی دے دیے ہیں جو عام طور پر ہر متلاشی کے ذہن میں ہوتے ہیں۔
کتاب پڑھنے کے بعد جب سیکھنے کا پکا ارادہ ہو جائے تو دوبارہ رابطہ کریں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
کلاس کا شیڈول
ہر ہفتے جمعہ اور اتوار، رات 8 بجے آنلائن زوم پر۔ مہینے میں کم از کم ایک بار آستانے پر حاضری کی کلاس۔ اور گھر بیٹھے روزانہ صبح و شام کی بنیادی مشقیں۔
━━━━━━━━━━━━━━━━━━
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ حقیقی علم و معرفت کی یہ باتیں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچیں۔ شکریہ