ذلت کا طوق اور غرور کا انجام: سجدہ کیوں نصیب نہیں ہوتا؟
از: ایاز فہیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ذلت کا طوق اور غرور کا انجام: سجدہ کیوں نصیب نہیں ہوتا؟۔۔۔ از: ایاز فہیم)کائنات کا نظام ایک ایسی حسین اور حکیمانہ حقیقت پر قائم ہے جہاں انسان کو امتحان کے لیے آزاد چھوڑا گیا ہے۔ اسے عقل، شعور اور اختیار کی دولت سے نواز کر زمین پر بھیجا گیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے، کسی جبری دباؤ کے بغیر اپنے خالق کے حضور سر بسجود ہو۔ لیکن انسان کی المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی عارضی طاقت، جوانی اور تندرستی کے گھمنڈ میں اس قدر مست ہو جاتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کا سر کس کے آگے جھکنے کے لیے بنا ہے۔ سورۃ القلم کی آیت نمبر 42 اور 43 میں اسی انجامِ بد کو انتہائی ہولناک اور عبرت ناک انداز میں بیان کیا گیا ہے:
"جس دن پنڈلی کھول دی جائے گی اور انہیں سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو وہ طاقت نہ رکھیں گے، ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی، حالانکہ جب وہ تندرست و سلامت تھے تو انہیں سجدہ کی طرف بلایا جاتا تھا (مگر وہ انکار کرتے تھے)۔”
اختیاری بندگی بمقابلہ جبری تسخیر
صوفیائے کرام اور عارفینِ حق نے اس آیت کے باطنی اسرار پر گہرے نقاب الٹے ہیں۔ حضرت محی الدین ابن العربیؒ فرماتے ہیں کہ دنیا میں اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سجدہ کرے—اور یہی اختیاری سجدہ اللّٰہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے کیونکہ اس میں بندے کی محبت اور ارادہ شامل ہوتا ہے۔
مگر قیامت کے روز جب جبروتی تجلی ظاہر ہوگی—ایک ایسی الٰہی تجلی جو تمام پردوں کو ہٹا دیتی ہے اور جس کی تاب نہ لا کر ہر ذرہ دم بخود رہ جاتا ہے—تو وہ ایک تکوینی مقام ہوگا۔ اس یومِ جلال میں ہر کوئی مسخر ہوگا، ہر گردن جھکے گی، لیکن چونکہ وہ سجدہ اختیاری نہیں ہوگا، اس لیے وہ کسی نفع کا باعث نہیں بنے گا۔
ابلیسی روش اور نفس کی خدائی
دنیا میں سجدہ کرنے سے انکار کرنے والا دراصل اسی پرانی ابلیسی روش پر چل رہا ہوتا ہے جو ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ نہ کرنے میں اختیار کی تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ابلیس نے ایک خاص حکم سے انکار کیا تھا، اور مادی غرور میں مبتلا انسان اپنے پورے وجود کو ہی معبود بنا لیتا ہے۔
جو شخص دنیا میں اللّٰہ کے آگے نہیں جھکتا، وہ حقیقت میں اپنے نفس کو خدا سمجھ رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات، اپنے مال یا اپنے عہدے کو ہی سب کچھ مان لیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ تکبر کی اس فضا میں وہ خود کو خدا کا تو مطیع کہلاتا ہے، مگر اللّٰہ کے مقرب بندوں کی نفی کرتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ زمینی بندوں کے سامنے جھکے بغیر یا ان کی قدر کیے بغیر براہِ راست اللّٰہ کا مطیع ہو جائے گا—حالانکہ بندے کو اللہ کا تعارف کرانے والے اور اس کی بندگی سکھانے والے یہی برگزیدہ بندے ہوتے ہیں۔
جب انسان ان بندوں کی اہلیت، ان کے مقام اور حقانیت کا پردہ قیامت کے دن فاش ہوتا دیکھتا ہے، تو اس کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اب ہم ان کے حکم کے سامنے سر تسلیمِ خم کر لیتے ہیں، لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے!
عاجزی کا ذائقہ اور سجدے کی محرومی
جب قیامت کے روز حقیقی جلال ظاہر ہوگا، تو انسان کا سارا غرور ریزہ ریزہ ہو جائے گا۔ اس کی نگاہیں شرمندگی سے زمین میں گڑ جائیں گی اور اس پر خواری چڑھ رہی ہوگی۔ وہ سجدہ کرنا چاہے گا تاکہ عذاب سے بچ سکے، لیکن چونکہ اس نے زندگی بھر تندرستی اور صحت کے دنوں میں کبھی عاجزی کا ذائقہ نہیں چکھا تھا، اس لیے اس کے اعضاء اور اس کی روح اس فرمانبرداری کا ساتھ نہیں دیں گے۔ سجدہ اس کے لیے ناممکن بنا دیا جائے گا اور وہ ابدی ذلت و خواری کی تصویر بن کر رہ جائے گا۔
یہ آیت اور عارفین کی یہ تشریحات ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں کہ مہلت کا یہ دور—یہ تندرستی، یہ جوانی اور یہ زندگی—محض چند روزہ ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی انا کے بت کو پاش پاش کر کے اپنے مالک کے حضور جھکنے کی عادت نہ ڈالی، تو کل وہ وقت بھی آ سکتا ہے جب پنڈلی کھل جائے گی، پکارے بھی جائیں گے، لیکن سجدہ نصیب نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تندرستی کے اس دور میں اپنے رب کے آگے جھک جائیں، تاکہ آخرت کی اس خواری اور ندامت سے بچ سکیں۔