ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔  عزیز نے سن…قسط نمبر3

ترکی ادب سے انتخاب

۔۔۔۔۔  عزیز نے سن  ۔۔۔۔۔

(قسط نمبر3)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ترکی ادب سے انتخاب۔۔۔  عزیز نے سن  ) زندگی گزارنے کی عادت ڈالیں۔

شاہی حکم فور ار عایا کو سنا یا گیا۔ عوام کے چہروں پر ایک بار پھر رونق کے آثار نمودار ہو گئے۔ اسی روز سے ملک بھر میں انسان اور انسانوں کے سائے کے درمیان ایک لامتناہی جنگ شروع ہو گئی ۔ لوگ اپنے سائے سے نجات پانے کے لیے نہایت تیز بھاگتے ۔ آخر کار تھک ہار کر زمین پر گر پڑتے۔ اٹھتے تو سایہ اسی طرح پاؤں سے چمٹا نظر آتا۔ لاکھ کوشش کے باوجود کوئی شخص اپنے سائے سے تیز تر نہ بھاگ سکا۔ لوگوں نے تانگے گاڑیوں پر سوار ہو کر اپنے سائے سے دور ، بہت دور بھاگ جانے کی کوشش کی، مگر جب منزل مقصود پر پہنچتے، سایہ پھر ساتھ ہوتا۔ صبح سویرے ہو کر اٹھتے تو سایہ مغرب کی طرف ہوتا، چنانچہ لوگ مشرق کی طرف بھاگنا شروع کر دیتے۔ دوپہر تک مشرق کو بھاگتے رہتے ۔ دوپہر کے بعد سامیہ ان سے آگے نکل جاتا تو وہ اسے پیچھے چھوڑ کر مغرب کا رخ کر لیتے۔

پاگلوں کی طرح مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق بھاگنے والی اس قوم میں چند لیڈر نمودار ہوئے۔ یہ ہر روز صبح سویرے عوام کو یوں مخاطب کرتے ۔ ” عزیز ہم وطنو! ہماری نجات مشرق میں ہے۔ آواپنا رخ مشرق کو کریں اور سب مل کر مشرق کو بھا گئیں۔“

ان لیڈروں کے خلوص سے متاثر ہو کر عوام مشرق کی طرف بھاگنے لگتے۔ دوپہر کے بعد چند لیڈر عوام کو گھیر کر یوں تقریر جھاڑتے۔ ” بھائیو! ہماری نجات مغرب میں ہے۔ آؤ اپنا رخ مغرب کو موڑیں اور سب مل کر مغرب کو بھا گیں۔

“ لیڈر کے ان مشوروں پر عمل کرتے ہوئے غریب عوام خواہ مشرق بھاگتے خواہ مغرب کا رخ کرتے، کسی کو اپنے سائے سے نجات مل سکی نہ سائے کا پر اسرار بوجھ کم ہوا۔ اُدھر لیڈروں کے متضاد مشورے شدت اختیار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ہر صبح، ہر دو پہر اور ہر شام لیڈروں کی آپس میں تکرار ہوتی۔ یہ تکرار بھی شدت پکڑتی گئی۔ عرصہ دراز تک مشرق اور مغرب دونوں میں اپنی نجات کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے باوجود جب لوگوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو عوامی لیڈروں میں ایک تیسری جماعت میدان میں آنکلی ۔ انہوں نے عوام کو ایک نیا مشورہ دیا۔ ” ساتھیو ! جو لوگ تمہیں مشرق یا مغرب کی راہ دکھاتے ہیں، عذار ہیں۔ ہماری مانو تو نہ مشرق کو بھا نہ بھا گو نہ مغرب کو ، تمہاری نجات مشرق اور مغرب کے عین وسط میں ہے۔“

لوگ اب اس مشورے پر عمل پیرا ہونے لگے دو پہر کے قریب جب ان کے سائے چھوٹے ہوتے ہوئے ختم ہونے کو آتے ، تو وہ خوشی سے چلا اٹھتے ۔ آہا اب ان نامراد سایوں سے نجات ملی کہ ملی۔ “ مگر بیچاروں کی خوشیاں دیر پا ثابت نہ ہوتیں۔ دو پہر گزرتے ہی سائے پھر لمبے ہونے شروع ہو جاتے ۔ اب لوگ مجبوراً مغرب کا رخ کرتے اور پھر پہلے کی طرح سر پٹ مغرب کی جانب بھاگنے لگتے کسی کو اپنے سائے سے نجات نہ ملی تو تینوں سیاسی گروہوں کے حامیوں کی آپس میں ہاتھا پائی مار کٹائی تک نوبت آگئی۔

عوام نے روز روز کی تک تک جھک جھک سے بیزار ہو کر از سر نو آہ و فغاں شروع کر دی۔ اف اب ہم نہیں کھینچ سکتے، ہائے! اب ہم نہیں اٹھا سکتے ۔ “

حاکم وقت کے محلوں کی دیواروں سے ٹکڑا کر یہ ہاؤ ہو اس کے کانوں تک پہنچی تو وہ ان صداؤں سے سخت مضطرب ہوا۔ اس نے چلا کر پوچھا۔ ” اب پھر یہ کیسا شور و غوغا ہے جو ہماری نیند میں خلل کا باعث بن رہا ہے…..؟

حواریوں نے جواب دیا۔ ” حضور والا! یہ آپ کی رعایا کی انکار ہے جسے نہ مشرق کو بھاگنے سے اپنے سائے سے نجات ملی ہے نہ مغرب کا رخ کرنے سے اور نہ اپنی اپنی جگہ ساکن کھڑے رہنے سے۔“ حاکم وقت نے اپنے چالیس ماہروں کو پھر اکٹھا کیا۔ نہایت برہم ہو کر بولا ۔ ” کیا ما بدولت نے تمہیں سالہا سال سے اسی لیے پالا پوسا کہ تم مشکل میں میرے کام نہ آؤ۔ آج ہم تمہیں اپنے علم کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا آخری موقع دیتے ہیں۔ سب سر جوڑ کر کوئی ایسا علاج ڈھونڈو کہ ہماری پیاری رعایا کو اُن کے سایوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات مل جائے آئندہ کسی کے منہ سے آواز نہ نکلے اور ہم آرام کی نیند سو سکیں۔“ ماہروں نے جواب دیا۔ ” حضور کا حکم سر آنکھوں پر ، مگر ہماری ایک شرط ہے اور وہ یہ کہ ہمیں چالیس روز کی مہلت دی جائے، ان چالیس دنوں میں ہمیں چالیس بوریاں کشمش اور بادام

کھلائے جائیں۔ تا کہ ہمارے ذہن روشن سے روشن تر ہو جائیں۔ ہم اکتالیسویں دن لوگوں کو اُن کے سایوں سے نجات حاصل کرنے کا ایسا نسخہ تجویز کریں گے جو حضور والا کی مرضی کے عین مطابق ہو گا۔ “

حاکم وقت نے ماہرین کی شرط منظور کر لی۔ انہیں محل کے ایک بڑے کمرے میں بند کر وایا اور باہر سے تالا لگوادیا۔ ہر صبح کمرے میں ایک بوری کشمش بادام داخل کر کے دوبارہ تالا لگوا دیا جاتا۔ کبھی کبھی حاکم وقت کے جی میں ماہرین کی کاروائی کا جائزہ لینے کا شوق اُٹھتا تو وہ چپکے سے دروازے کے سوراخ سے جھانکتا ۔ ماہرین ہمیشہ کشمکش بادام کھاتے دکھائی دیتے یا پھر کھیل کود میں مصرف نظر آتے ۔ چالیس روز بعد جب انہیں باہر نکالا گیا تو سب سے بڑے ماہر نے دست بستہ ہو کر کہا۔ ” عزت مآب ! چالیس روز کشمش بادام کھا کر ہمارے دماغ اتنے روشن ہو گئے ہیں کہ ہم نے حضور کے فرمان کے عین مطابق اپنے علم کی طاقت سے ایک ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالا جس سے رعایا اپنے

سایوں سے چھٹکارا پا سکتی ہے۔

طریقہ بیان کیا جائے ! “ حاکم وقت نے حکم دیا۔

بڑے ماہر نے جواب دیا۔ ” جناب عالی! حضور کو معلوم ہی ہے کہ رات پڑنے پر سائے خود بخود غائب ہو جاتے ہیں، لہذا ہماری نا چیز رائے میں لوگوں کو ان کے سائے سے نجات دلانے کے لیے رات کے اند ھیرے کا بندوبست کر نالازمی ہے۔ “

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ اپریل 2026