ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تزکیہ قرآنِ کریم کی ایک اہم اصطلاح ہے، لیکن اس کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسے محض روایتی مذہبی تصورات کے بجائے قرآن کے اپنے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں سمجھیں۔ تزکیہ کا بنیادی مفہوم پھلنا، پھولنا، بڑھنا اور نشوونما پانا ہے۔ اس اعتبار سے تزکیہ انسانی ذات کو مٹانے کا نہیں بلکہ اسے صحیح خطوط پر پروان چڑھانے کا نام ہے۔
1۔ تزکیہ کا روایتی تصور کیا ہے؟
تصوف کی بعض روایات میں تزکیۂ نفس کو خواہشات، جذبات اور دنیاوی تعلقات سے نجات حاصل کرنے، ریاضتوں اور مراقبوں کے ذریعے نفس کو دبانے اور مادی زندگی سے الگ ہو کر روحانی بلندی حاصل کرنے کے تصور سے جوڑا جاتا ہے۔ بعض فلسفیانہ تصورات میں انسانی ذات کو کسی اصل سے جدا ہو کر مادے میں گرفتار ہونے اور پھر اس اصل میں واپس مل جانے کے تصور کے ساتھ بھی بیان کیا جاتا ہے۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق انسان کی ذات کو فنا کرنا، زندگی کی فطری خواہشات سے مکمل طور پر دست بردار ہونا یا دنیا سے الگ تھلگ ہو جانا تزکیہ کی اصل حقیقت نہیں۔ تاہم یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ تصوف کی تمام روایات اور تمام اہلِ تصوف کے نظریات یکساں نہیں ہیں۔
2۔ قرآن کے مطابق تزکیہ کیا ہے؟
انسانی ذات اللہ کی عطا کردہ ایک عظیم صلاحیت ہے۔ انسان ان صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے جنہیں صحیح نشوونما، درست طرزِ عمل اور مستقل اخلاقی اقدار کے ذریعے پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
قرآن کا مقصد انسان کی ذات کو ختم کرنا نہیں بلکہ اسے اس مقام تک پہنچانا ہے جہاں اس کا کردار پاکیزہ، عمل منصفانہ اور زندگی حق و صداقت کے اصولوں کے تابع ہو۔
ترجمہ: یقیناً کامیاب ہوا جس نے اس نفس کو پروان چڑھایا، اور نامراد ہوا جس نے اسے دبا دیا یا آلودہ کر دیا۔ (سورۃ الشمس، 91:9-10)
ان آیات میں نفس کے تزکیے اور اسے آلودہ کرنے کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ تزکیہ انسانی ذات کی نشوونما اور اس کی صلاحیتوں کو صحیح سمت میں ترقی دینے کا نام ہے، نہ کہ اسے فنا کرنے کا۔
3۔ تزکیہ صرف انفرادی عبادات کا نام نہیں
اگر تزکیہ کا مقصد انسان کے کردار اور عمل کو بہتر بنانا ہے تو اس کا تعلق محض تنہائی میں عبادت کرنے، مخصوص ریاضتیں اختیار کرنے یا ظاہری طور پر مذہبی دکھائی دینے تک محدود نہیں رہ سکتا۔
ایک انسان کی حقیقی اخلاقی نشوونما اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اپنے معاملات میں سچائی اختیار کرے، دوسروں کے حقوق ادا کرے، ظلم اور استحصال سے بچے، امانت میں خیانت نہ کرے، دولت اور اختیار کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے اور معاشرے میں انصاف کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
قرآنی تعلیمات کے مطابق پاکیزگی کا تعلق انسان کے عملی کردار سے بھی ہے۔ محض دعوے، ظاہری وضع قطع یا مخصوص مذہبی رسومات کسی شخص کے مکمل تزکیے کی ضمانت نہیں بن سکتے۔
4۔ قرآنی معاشرہ اور تزکیہ
انسانی ذات کی حقیقی نشوونما کے لیے ایسا معاشرتی ماحول ضروری ہے جس میں قرآن کی مستقل اقدار عملی طور پر نافذ ہوں۔
اگر معاشرے میں ظلم، ناانصافی، معاشی استحصال، حقوق کی پامالی اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم موجود ہو تو افراد کے لیے اخلاقی زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے تزکیہ کو صرف فرد کی ذاتی اصلاح تک محدود کرنے کے بجائے معاشرتی حالات اور اجتماعی ذمہ داریوں کے ساتھ بھی دیکھنا چاہیے۔
قرآن کی تعلیمات میں عدل، احسان، امانت، دیانت اور حقوق کی ادائیگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ایسا معاشرہ جو ان اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی میں جگہ دیتا ہے، افراد کی اخلاقی اور انسانی نشوونما کے لیے بہتر بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اس نقطۂ نظر سے تزکیہ صرف یہ نہیں کہ انسان اپنے اندر کی اصلاح کرے، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کردار اور اجتماعی ذمہ داریوں کے ذریعے ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل میں حصہ لے۔
5۔ کیا تزکیہ فریضۂ رسالت سے تعلق رکھتا ہے؟
قرآنِ کریم میں رسول کی ذمہ داریوں کے ضمن میں تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب و حکمت اور تزکیہ کا ذکر موجود ہے۔
سورۃ الجمعہ میں ارشاد ہے کہ اللہ نے رسول کو لوگوں میں مبعوث کیا، جو انہیں اس کی آیات سناتے ہیں، ان کا تزکیہ کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ (سورۃ الجمعہ، 62:2)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآنی تصور میں تزکیہ رسالت کی تعلیم و تربیت سے وابستہ ایک اہم مقصد ہے۔ رسول کی جدوجہد محض پیغام پہنچانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے ذریعے ایسا معاشرہ قائم کرنا بھی مقصود تھا جس میں انسان قرآنی اقدار کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔
6۔ تزکیہ کا عملی معیار کیا ہونا چاہیے؟
تزکیے کو سمجھنے کے لیے ہمیں اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لینا چاہیے۔
کیا ہماری زندگی میں سچائی بڑھ رہی ہے؟ کیا ہم دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہمارے معاملات میں امانت اور دیانت موجود ہے؟ کیا ہم اپنے مفاد کے لیے دوسروں کا استحصال تو نہیں کرتے؟ کیا ہم معاشرے میں عدل اور بھلائی کے قیام کے لیے عملی کردار ادا کرتے ہیں؟
یہ سوالات تزکیے کو محض ایک نظری بحث کے بجائے عملی زندگی سے جوڑتے ہیں۔
اگر کوئی شخص ظاہری طور پر بہت زیادہ مذہبی دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے معاملات میں ظلم، تکبر، بددیانتی اور حقوق کی پامالی موجود ہے تو اس کے طرزِ عمل کو قرآنی اخلاقی معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔ اسی طرح ایک شخص کی حقیقی بہتری اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے علم، کردار اور عمل میں مثبت تبدیلی پیدا ہو۔
نتیجہ
تزکیہ کے بارے میں بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسانی ذات کو فنا کرنا، خواہشات کو مکمل طور پر ختم کرنا یا دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنا تزکیے کی اصل حقیقت نہیں۔ اس کے برعکس قرآنی تصور میں انسانی ذات کی نشوونما، کردار کی پاکیزگی اور مستقل اخلاقی اقدار کے مطابق زندگی بسر کرنے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اس نقطۂ نظر سے تزکیہ کوئی الگ تھلگ روحانی مشق نہیں، بلکہ ایک ایسی عملی زندگی کا نام ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کو درست سمت میں پروان چڑھائے، اپنے حقوق کے ساتھ دوسروں کے حقوق بھی ادا کرے اور عدل و انصاف پر مبنی معاشرتی زندگی کی تشکیل میں حصہ لے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ انسان دنیا سے کتنا دور ہو گیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ قرآنی اقدار کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے اپنے کردار، معاملات اور معاشرے کو کتنا بہتر بنا رہا ہے۔