ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب کوئی رائٹر اپنی طرف سے کچھ لکھتا ہے
جو اس کی اپنی ذہنی اختراع یعنی اپنی سوچ ہوتی ہے اس کو تصنیف کہتے ہیں
مثلا کسی ناول نگار کا اپنی سوچ سے ناول لکھنا
کسی افسانہ نگار کا اپنی سوچ سے افسانہ لکھنا
تصنیف کہا جاتا ہے لکھنے والے کو مصنف کہا جاتا ہے
جب کوئی رائٹر دوسرے مصنفین کی تحریروں سے استفادہ کر کے کوئی کتاب لکھتا ہے اسے تالیف کہا جاتا ہے
مثلا کوئی شاعری کی کتاب لکھنا جس میں مختلف شاعروں کی شاعری سے استفادہ کیا گیا ہو
جیسے زُلفوں پر کوئی کتاب لکھی گئی ہو اور اس میں بتایا گیا ہو کہ فلاں شاعر زُلفوں کے بارے میں یہ کہتا ہے فلاں شاعر یہ کہتا ہے
کوئی ایسی کتاب لکھنا جس میں احادیث کی کتب سے مواد لیا گیا ہو ۔۔ فلاں حدیث کی کتاب میں یہ حدیث اس طرح آئی ہے ۔۔۔ فلاح حدیث کی کتاب میں یہ حدیث ان الفاظ میں آئی ہے
یہ سب تالیف کہلاتی ہیں تالیف لکھنے والے کو مُؤَلِّف کہا جاتا ہے
تالیف کا مطلب الفت و محبت دوستی اور دل جوئی بھی ہوتا ہے
(آف لائن اردو لغت )
![]()






