تیرے کوچے سے مریضوں کو شفا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔

تیرے کوچے سے مریضوں کو

شفا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اللہ کے نبی ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ایک صحابی آئے سعد الاسود اور کہا یا رسول اللہ میری شادی کروا دیں میں بہت کالا بھی ہوں اور بد صورت بھی ہوں تو مجھے اپنی لڑکی ہی کوئی نہیں دیتا۔ آپ نے کہا اچھا اور پھر پوچھا کیا عمربن وہب بیٹھے ہیں؟  بتایا گیا نہیں تو فرمایا عمر بن وہب کے پاس جاؤ اور کہو کہ مجھے اللہ کے نبی نے بھیجا ہے اور مجھے اپنی بیٹی نکاح میں دے دو۔ عمر بن وہب کافی خوبصورت بھی تھے اور بہت مالدار بھی تھے۔ یہ اٹھے اور جاکر ان کے دروازے پر دستک دی اور کہا اللہ کے رسول کا قاصد آیا ہے باہر آؤ۔ باہر آئے تو دیکھا سعدالاسود تھے۔ پوچھا کس لئے آئے ہو جواب دیا اللہ کے نبی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دو۔ عمر بن وہب نے کہا جاؤ تجھے دوں گا اپنی بیٹی، تم غریب کو دونگا اپنی بیٹی ۔ سعد الاسود اسی قدموں کے ساتھ واپس آگئے لیکن عمر بن وہب کی بیٹی نے ساری بات سن لی۔ بیٹی نے عمر بن وہب سے کہا ابا جان آپ نے میرے نبی کی بات کو ٹھکرایا ہے جاؤ جا کر ہاں کر دو کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تباہ و برباد ہو جائیں۔ آپ نے میری خاطر انکار کیا ہے نہ کہ میری بیٹی گزارا کیسے کرے گی آپ جاکر ہاں کر دیں میرے نبی کا حکم ہے میں گزارا کر لوں گی۔ عمر بن وہب مجلس میں آئے تو سعد الاسود پہلے مجلس میں آئے بیٹھے تھے۔ اللہ کے نبی نے عمر بن وہب کو دیکھا تو کہا عمر بن وہب آپ نے تو ہماری بات ہی ٹھکرا دی۔ کہا یا رسول اللہ میں نے نہیں ٹھکرائی میں حاضر ہوں یا رسول اللہ آپ میری بیٹی کا سعد الاسود کے ساتھ نکاح پڑھیں۔ 400 درہم حق مہر طے ہوا آپ نے فرمایا سعد اپنی بیوی کو لے جاؤ۔ کہا یارسول اللہ پیسے کہاں سے لاؤں میرے پاس تو حق مہر ادا کرنے کے پیسے ہی نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا تم عبدالرحمن بن عوف کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اللہ کے نبی نے مجھے بھیجا ہے اور وہ تمہارا کام کر دیں گے (عبد الرحمن بن عوف وہ صحابی تھے جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی اور وہ اتنے امیر تھے کہ ان کے بارے میں علماء کرام لکھتے ہیں اگر آج کے دور میں ہوتے تو اتنا پیسہ تھا ان کے پاس کہ پورا یورپ خرید سکتے تھے لیکن ایماندار تاجر تھے اور اللہ کے نبی نے ان کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی)۔ سعد ان کے پاس گئے اللہ کے نبی کا پیغام دیا تو انہوں نے رقم کا بندوبست کر دیا اور چار سو درہم سے زیادہ پیسے جمع ہوگئے۔ سعد نے سوچا 400 درہم تو بیوی کو حق مہر دوں گا باقی میں بیوی کے لئے کچھ تحائف لیے لیتا ہوں اور بازار چلے گئے۔ بازار میں داخل ہوئے تو اتنے میں اعلان ہوا کہ مدینے پر کچھ بدوؤں نے حملہ کر دیا ہے۔ جیسے ان کے کان میں آواز پڑی کہ مسلمانوں آؤ دفاع کرنے کے لئے تو بیوی کے تحائف کا خیال ترک کیا، ایک گھوڑا اور تلوار خریدی اور لشکر میں گھس گئے۔ لڑتے لڑتے ان کا گھوڑا زخمی ہو کر نیچے گرا اور بدوؤں نے ان پر حملہ کردیا تو اچانک دور سے اللہ کے نبی کی سعد پر نظر پڑی تو لپکے سعد تم یہاں کیا کر رہے ہو تمہیں تو میں نے تمہاری بیوی کے پاس بھیجا تھا تب تک سعد الاسود شہید ہوچکے تھے۔ اللہ کے نبی سعد کی طرف لپکے سعد کے سر کو اپنی جھولی مبارک میں رکھ لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل کے سعد کے چہرے پر پڑ رہے تھے اور اللہ کے نبی پیار سے کہنے لگے سعد تو کتنا پیارا ہے، تو کتنا خوبصورت ہے، تو کتنا خوشبودار ہے۔ پھر آپ مسکرائے اور فرمایا رب کعبہ کی قسم سعد حوض کوثر پر پہنچ گیا ہے۔ ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ ابھی آپ رو رہے تھے اور پھر آپ اچانک مسکرا پڑے یہ سمجھ نہیں آیا۔ اللہ کے نبی نے فرمایا میں رو سعد کی جدائی میں رہا تھا اور مسکرایا اس لیے کہ مجھے سعد کے جنت میں عالی شان محلات نظر آئے۔

"صَلَّی اللهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ و صحبہ وَسَلَّم”

  1. امام ابن عدیؒ، الکامل في ضعفاء الرجال، جلد ۶، صفحات ۲۰۹–۲۱۱۔ اس میں روایت کی سند اور قصہ موجود ہے۔ سند میں سُوَید بن سعید اور محمد بن عمر بن صالح الکِلابی نامی راوی آتے ہیں؛ روایت میں ان کے ذریعے حضرت انسؓ سے قصہ نقل کیا گیا ہے۔

  2. حافظ ابن حجر عسقلانیؒ، الإصابة في تمييز الصحابة، جلد ۳، صفحہ ۸۹، ترجمہ نمبر ۳۳۱۹، حضرت سعد الاسود السلمیؓ۔ ابن حجرؒ نے اسی روایت کا حوالہ ابن عدی، ابن حبان اور مخلّص کی طرف دیا ہے۔