🌻يزيد کے زمانے سے متعلق احادیث:

🌻يزيد کے زمانے سے متعلق احادیث:

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ظرف علم کے یاد کئے ہیں۔ (یعنی دو قسم کا علم حاصل کیا ہے) ان میں سے ایک قسم (جو عقائد اور دین کے احکام پر مشتمل ہے) اس کی تو میں نشر واشاعت کرچکا ہوں۔ رہا دوسرا علم (جو نالائق حکمرانوں کے ناموں اور حالات پر مشتمل ہے) اگر میں اس کی نشر واشاعت کروں تو (ان لوگوں کو اور ان کے متعلقین کو میری باتیں گوارا نہ ہوں گی اور وہ میرے سخت دشمن بن جائیں گے اور) میرا نرخرہ کاٹ دیا جائے گا۔ (چونکہ وہ صرف آئندہ کی خبریں ہیں اور دین کی تعلیم سے ان کا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اشاعت مجھ پر فرض نہیں ہے اس لئے میں ان کو ذکر نہیں کرتا)

البتہ اشارہ کنایہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کا کچھ ذکر بھی کیا ہے۔  مثلاً وہ یہ دعا مانگتے تھے:

#أعوذ بالله من رأس الستين وإمارة الصبيان.

(فتح الباری: ۲۱۶/۱)

میں اللہ تعالیٰ سے سن ساٹھ کے شروع ہونے (جب یزید کی حکومت قائم ہوئی) اور (بڑے صحابہ کے اعتبار سے بنو امیہ کے) لونڈوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں (جو یزید سے شروع ہوئی)

🌻#فائدہ :#حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دعا قبول ہوئی اور وہ یزید کے حکمراں بننے سے ایک سال پہلے وفات پاگئے۔

ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے:

قالوا وما أمارة الصبيان؟ قال: إن أطعتموهم هلكتم وإن عصيتموهم أهلكوكم.(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث نمبر: ۳۷۷۳)

#حاضرین نے پوچھا لونڈوں کی حکومت کا کیا معنی؟ فرمایا: (ان کی صفت یہ ہوگی کہ) اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو (جائز ناجائز احکام ماننے کی وجہ سے) تمہارا دین برباد ہوا اور دین کے اعتبار سے) تم ہلاک ہوئے اور اگر تم نے ان کی (بات نہ مانی اور) نافرمانی کی تو وہ تمہیں ہلاک کر دیں گے (کہ یا تو جان سے مار دیں گے یا تمہارا مال لوٹ لیں گے یا تمہاری جان و مال دونوں تباہ کر دیں گے)

🌻#حضرت سعید بن عمرو کہتے ہیں میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے صادق و مصدوق ذات ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کی (خاص بربادی و تباہی) (اور فساد) قریش کے چند لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔ اس پر مروان کی زبان سے نکلا خدا کی ان پر لعنت ہو۔ کیا آپ صرف لونڈے بتاتے ہیں؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے (مزید) کہا اگر میں بتانا چاہوں کہ فلاں فلاں کے لڑکے ہوں گے تو بتا بھی سکتا ہوں۔

🌻2- ) #یزید کے ظالم گورنروں کو مقرر کرنے سے متعلق احادیث:

1- #مدینہ منورہ پر عمرو بن سعید کو گورنر مقرر کیا جس کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: کان متألهاً متكبراً (البدایہ: ۱۱۹/۸)

ترجمہ: (یہ اپنے آپ کو خدا کی جگہ پر سمجھنے والا بڑا ہی مغرور تھا)

#حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے چونکہ یزید کی بیعت نہ کی تھی اور مکہ مکرمہ میں پناہ گزیں تھے اس لئے اس نے مدینہ منورہ آتے ہی ان کو گرفتار کرنے کے لیے حرم مکہ پر لشکر کشی شروع کردی۔ حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول تھے انہوں نے اس کو فہمائش کی:

🌻ترجمہ:#حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ نے عمرو بن سعید کو جب کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف مکہ معظمہ پر چڑھائی کے لیے فوجی دستے بھیج رہا تھا فرمایا: اے امیر! مجھے اجازت دیجئے تاکہ میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان کروں جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن کھڑے ہو کر بیان فرمایا تھا۔ اس کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو یاد رکھا اور جس وقت آپ اس کو بیان فرما رہے تھے میری دونوں آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا:

اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو حرم (یعنی واجب الاحترام) بنایا ہے لوگوں نے اس کو حرم نہیں بنایا۔ لہذا جو شخص بھی اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ مکہ مکرمہ میں کسی کا خون بہائے اور نہ وہاں کا کوئی درخت بھی نہ کاٹے۔۔ پھر اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہاں قتال کرنے کی وجہ سے اس بات کی رخصت چاہے تو اس کو بتا دو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس کی اجازت دی تھی مگر تم کو اس کی اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے اجازت دی۔ پھر آج اس کی حرمت اسی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کہ کل اس کی حرمت تھی اور جو شخص یہاں حاضر ہے اس کو چاہیے کہ جو شخص غائب ہے اس تک یہ بات پہنچادے۔ اس پر ابو شریح رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ عمرو نے پھر آپ کو کیا جواب دیا؟ فرمایا اس نے کہا: ”اے ابو شریح! میں اس بات کو آپ سے زیادہ جانتا ہوں حرم (مکہ) نہ کسی عاصی (گنہگار) کو پناہ دیتا ہے (اس سے عمرو بن سعید کی مراد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے) اور نہ کسی ایسے شخص کو جو خون کر کے وہاں بھاگ جائے اور نہ اس شخص کو جو چوری کر کے وہاں  قرار ہو جائے۔

🌻#فائدہ :عمرو بن سعید کا یہ کہنا کہ میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر شخصیت کو عاصی و نافرمان کہنا اس کی بڑی ڈھٹائی اور سرکشی تھی اور مکہ مکرمہ پر لشکر کشی ایک علیحدہ جرم۔

2- کوفہ پر عبداللہ بن زیاد کو مقرر کیا۔ اس کے جرائم یہ ہیں:

🌻1: #حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ بدتمیزی:

إن عائذ بن عمرو كان من أصحاب رسول الله ﷺ دخل على عبيد الله بن زياد فقال: أي بني! إني سمعت رسول الله ﷺ قال: إن شر الرعاء الحطمة، فإياك أن تكون منهم، فقال له: اجلس فإنما أنت من نخالة أصحاب محمد ﷺ، فقال: وهل كانت لهم نخالة، إنما كانت النخالة بعدهم وفي غيرهم. (مسلم: حدیث: ۱۸۳۰)

  🌻ترجمہ:#حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے، (ایک مرتبہ) عبید اللہ بن زیاد کے پاس آئے اور (نرمی سے سمجھانے کی خاطر) فرمایا: بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے فرماتے تھے: حکمرانوں میں سے سب سے برا وہ ہے جو بے رحم ہو (اور لوگوں کو پیس ڈالے) تو تم اپنے آپ کو ان میں شامل کرنے سے بچتے رہنا۔ یہ سن کر وہ کہنے لگا (بڑے میاں) بیٹھ جاؤ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی بھوکسی ہو۔ یہ جواب سن کر حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا صحابہ میں بھی بھوکسی تھی۔ بھوکسی تو بعد میں آنے والوں میں اور ان میں ہے جو صحابی نہیں ہیں۔ (کیونکہ صحابہ تو سارے ہی خالص ہیں)

🌻2)  ترجمہ:#ابو طالوت عبدالسلام بن ابو حازم کہتے ہیں میں اس وقت موجود تھا جب حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ عبید اللہ بن زیاد کے پاس (اس کے بلانے پر) تشریف لائے۔ جیسے ہی عبید اللہ کی نظر آپ پر پڑی کہنے لگا: (لو یہ تمہارا محمدی ٹھگنا موٹا آگیا۔ حضرت (ابو برزہ رضی اللہ عنہ) اس کی بات سمجھ گئے (اور اس کے ٹھگنا موٹا کہنے پر تو تو توجہ نہ کی البتہ اس نے محمدی کہہ کر جو آپ کا مذاق اڑایا اس پر آپ کو غصہ آگیا، کیونکہ اس سے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی کی اہانت نکلتی ہے۔ چنانچہ فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ ایسے لوگوں کے وجود میں آنے تک باقی رہوں گا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پر عار دلائیں گے۔ اب عبید اللہ نے (بات بدل کر) ان سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو آپ کے لئے زینت ہے باعث عیب نہیں ہے۔

🌻3) #حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل اور ان کی بے حرمتی:

عن أنس بن مالك قال: أتي عبيد الله بن زياد برأس الحسين فجعل في طست فجعل ينكت وفي رواية الترمذي فجعل يقول بقضيب في أنفه) وقال في حسنه شيئاً وفي لفظ الترمذي: ويقول: ما رأيت مثل هذا حسنا لم يذكر)، فقال أنس: كان أشبههم برسول الله ﷺ.

(بخاری: حدیث: ۳۵۳۸)

  🌻#حضرت انس بن مالك رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میں عبید اللہ بن زیاد کے پاس تھا اتنے میں) حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھ کر عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لایا گیا۔ وہ چھڑی سے اس کو چھیڑتا  رھا (اور ناک میں چھڑی گھماتا رہا) اور اس نے آپ کے حسن کے بارے میں بد زبانی کی (یعنی یہ کہ میں نے تو ان کو ایسا حسین نہیں پایا پھر ان کے حسن کا کیوں چرچا ہے؟) اس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت زیادہ مشابہ تھے

#احتساب ناصبیت

عربی متن پہلی کمنٹ میں ہے

 :اگر کسی کو پی ڈی ایف چاہے وہ کمنٹ کریں