🛑یہ ہے اسلام کی تاریخ کی سب سے خطرناک، سب سے گہری اور سب سے زہریلی سازش، جس کی آگ آج چودہ سو سال بعد بھی نہیں بجھی۔
اس کا نام تھا عبداللہ بن سبا، یمن کا یہودی، کالا رنگ، ماں حبشی لونڈی تھی، اسی لیے اسے ابن السوداء بھی کہا جاتا ہے۔
♦️یہ آیا کیوں؟
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دور تھا، اسلام دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکا تھا، ایران فتح، روم فتح، مصر فتح، کوئی بھی اسلام کو جنگ سے نہیں ہرا سکتا تھا۔ یہودیوں کے بڑے ربیوں نے بیٹھ کر مشورہ کیا کہ محمد کے دین کو تلوار سے ختم نہیں کیا جا سکتا، اس کو اندر سے ختم کرنا پڑے گا۔ عبداللہ بن سبا کو مدینہ بھیجا گیا، وہ بظاہر مسلمان ہوا، کلمہ پڑھا، داڑھی رکھ لی، لیکن دل میں وہ آج بھی یہودی تھا۔ وہ مدینہ آیا تو اس نے دیکھا کہ یہاں صحابہ ہیں، ابوبکر و عمر کے شاگرد ہیں، یہاں اس کی دال نہیں گلے گی۔ وہ فوراً شام چلا گیا، وہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے اسے پہچان لیا اور نکال دیا۔ وہ بصرہ گیا، وہاں بھی نکالا گیا، کوفہ گیا، وہاں اسے کچھ سادہ لوح لوگ مل گئے۔
#یہ_پوسٹ_ہیسٹری_آف_ہیومن_پیج_کی_جانب_سے_پیش_کی_جاتی_ہیں۔
🟥اس کی سازش کیا تھی؟ اس کے تین زہر تھے۔
📍پہلا زہر – وصیت کا نظریہ
اس نے کہا کہ ہر نبی کا ایک وصی ہوتا ہے، موسی کا وصی یوشع تھا، عیسی کا وصی شمعون تھا، تو محمد کا وصی علی ہونا چاہیے۔ حضرت عثمان نے غصب کر لیا ہے۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود حضرت عثمان کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے اور ان کے مشیر تھے۔ لیکن اس نے یہ بات اتنی خوبصورتی سے پھیلائی کہ نئے مسلمان جو قرآن کو زیادہ نہیں جانتے تھے، اس کے جال میں آ گئے۔
📍دوسرا زہر – حضرت عثمان پر الزام
اس نے خط لکھنا شروع کیے، ایک خط مصر بھیجا کہ عثمان نے تمہارے گورنر کو کہا ہے کہ تمہیں قتل کر دے، دوسرا خط کوفہ بھیجا کہ عثمان بیت المال کھا رہا ہے، تیسرا خط بصرہ بھیجا کہ عثمان نے اپنے رشتہ داروں کو نوازا ہے۔ یہ سارے خط جھوٹے تھے، تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ اس کے پاس ایک ہی وقت میں پانچ مختلف مہروں والے خط ہوتے تھے۔ آج کی زبان میں اسے فیک نیوز کی فیکٹری کہتے ہیں۔
📍تیسرا اور سب سے خطرناک زہر – رجعت کا نظریہ
اس نے کہا کہ جس طرح عیسی واپس آئیں گے، اسی طرح محمد بھی واپس آئیں گے اور علی بھی واپس آئیں گے۔ اس نے نبوت کے ختم ہونے کا انکار کرا دیا۔ یہ
📍 پوسٹ جاری ہے پیج پر دیکھے۔۔۔۔۔