تاریخ دان لکھتے ہیں اگر چنگیز خان کا پوتا برکے خان مسلمان نہ ہوتا تو ہلاکوخان کے ہاتھوں نہ کوئی مسلمان بچتا اور نہ ہی کوئی اسلامی سلطنت بچتی بلکہ مکہ اور مدینہ سے بھی منگول سلطنت چند سو کلومیٹر کی دوری پر پہنچ چکی تھی لیکن قدرت نے منگولوں کی طاقت ان کو آپس میں لڑا کر ختم کیا اور مسلمان حکومتوں کو مٹنے سے بچالیا۔
منگول سلطنت کے پہلے شہنشاہ چنگیز خان کی فتوحات میں کل اموات کا تخمینہ 4 کروڑ لگایا گیا اور انکی کی پیدائش 1162 اور وفات 1227 تھی۔
چنگیز خان کا بیٹا جوچی خان جو اس کی زندگی میں ہی فوت ہوا اسکا بیٹا اور چنگیز خان کا پوتا جو 1208 میں پیدا ہوا تو باپ کی وفات کے بعد اسے منگول سلطنت کا ” گولڈن ہارڈ ” علاقہ دیا گیا جس میں آج کا روس اسکا دارالحکومت ماسکو، یوکرین، قازقستان اور قفقاز کا خطہ شامل تھا۔ یہ علاقہ یورپ اور ایشیا کی سرحد پر پھیلا ہوا اور منگول سلطنت کا سب سے مشرقی اور مغربی حصہ تھا۔
اسلامی دنیا پر 1250 میں منگول سلطنت اور خصوصاً ہلاکوخان کی گرفت بڑھتی جارہی تھی کہ ایک صوفی بزرگ سیف الدین باخارزی کی تعلیمات اور حکمت سے متاثر ہوتے ہوئے برکے خان نے اسلام قبول کیا تو ساتھ ہی ان کے ماتحت منگول فوج نے بھی مسلمان بننا پسند کیا تو منگول حکمرانوں میں مسلمانوں کی باقاعدہ شمولیت ہوگئی جس نے آگے چل کر مسلمانوں کو ختم ہونے سے بچایا۔
ہلاکوخان نے 1258 میں بغداد پہ خوفناک حملہ کیا اور شہر کو تہس نہس کرتے ہوئے عباسی خلیفہ کو بے دردی سے ختم کیا تو اپنے منگول خون اور روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے برکے خان کو بطور مسلمانوں اپنے چچا زاد بھائی ہلاکو خان پر شدید غصہ آیا اور اسے نے بدلہ لینے کا اعلان کردیا، اس دوران ہلاکو خان نے دمشق 1260 میں فتح کیا تو اب وہ قبلہ اول سے 200 کلومیٹر دور اور مکہ مدینہ سے لگ بھگ 800 کلومیٹر دور تھا۔
ہلاکوخان اب مشرق وسطی کے بعد دریائے نیل کے خطے پر نظریں گاڑنے لگا تو مملوک بادشاہ سلطان بیبرس نے برکے خان سے مدد کی درخواست تو اس نے فورا مان لی اور یوں تاریخ میں پہلی بار منگول فوج آپس میں ایران اور قفقاز میں 1262
میں لڑ پڑی اور یہی سے منگول خانہ جنگی کا آغاز ہوگیا۔
ایک طرف ہلاکو خان کو برق خان کی فوج نے سخت مقابلہ دیا تو پیچھے سے مملوک فوج بھی کود پڑی اور یوں 1263 میں دریائے تیرک میں برکے خان کی فوج ہلاکو خان کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہوئی اور اسی دوران دریا پر جمی برف دباؤ برداشت نہ کرسکی اور ٹوٹ گئی جس میں ہزاروں منگول سپاہی اور گھوڑے ڈوب کر ہلاک ہوگئے۔
بظاہر دونوں اطراف کوئی بھی واضح اور بڑی جیت حاصل نہ کرسکے لیکن اس باہمی خانہ جنگی نے منگولوں کی افرادی قوت، مالی وسائل اور عسکری صلاحیت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا کیونکہ پہلی بار دونوں اطراف منگول افواج ہی تھی۔ البتہ ہلاکوخان اس لڑائی کے بعد اسلامی دنیا کو فتح کرنے کا پہلے جیسا سفر جاری نہ رکھ سکا بلکہ ہلاکو خان اس خاندانی لڑائی کا اور منگول فوجوں کی خانہ جنگی کا صدمہ دل پر لیتے ہوئے 1265 میں تبریز میں فوت ہوا جبکہ اگلے ہی سال 1266 میں برکے خان اسلامی منگول سلطنت کی دفاعی مہم میں بوجہ بیماری فوت ہوگئے۔
ہلاکو خان کی سلطنت ایل خانی میں پہلا مسلمان حکمران اسکا پوتا سلطان احمد تکودار 1282 میں حکمران بنا لیکن اسلامی دنیا اور مسلمان کو مٹنے سے بچانے کے لیے قدرت نے برکے خان کو فرشتہ بناکر بھیجا۔
لیکن ایک بات تاریخ لکھتی ہے کہ ۔۔۔۔
” منگول کو صرف منگول ہی ہرا سکتے تھے کیونکہ دنیا میں تب کوئی بھی دنیاوی طاقت ان سے جیتنا تو دور لڑائی لڑنے کا حوصلہ دکھاتے ہوئے بھی ڈرتی تھی۔
اس تحریر کو لکھنے میں ڈیوڈ مورگن کی کتاب” دا منگولز "۔ پیٹر جیکسن کی کتاب ” دا منگول اینڈ دا ویسٹ 1221 تا 1410″ اور جارج ورناڈسکی کی کتاب ” دا منگول اینڈ ریشیا” کی مدد لی گئی ہے۔