جدید ٹیکنالوجی، مایا جال اور معاشی محتاجی: ایک سائنسی و منطقی جائزہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)”کیا آپ جانتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی ہمیں کس اندھے کنویں کی طرف لے جا رہی ہے؟ ایک سائنسی اور منطقی حقائق پر مبنی تحریر… اسے پورا ضرور پڑھیں!”
کچھ عرصہ قبل رمضان المبارک کے دوران ڈاکٹر عبدالسلام عارف صاحب کی سورہ کہف، دجالی میڈیا، اور اے آئی (AI) میٹرکس پر مبنی پوڈ کاسٹس سننے کا موقع ملا۔ اکثر لوگ ایسی باتوں کو "غیر سائنسی” کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں، اسی لیے میں نے کئی بار لکھ کر اپنی پوسٹس مٹا دیں، لیکن سچ یہ ہے کہ اگر ہم منطق (Logic) اور سائنسی تربیت کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں، تو تصویر بالکل واضح نظر آتی ہے۔
سب سے پہلی بار شعور کو تب جھٹکا لگا جب یہ بات سامنے آئی کہ مستقبل کا وہ بڑا فتنہ وقت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا (جہاں ایک دن سال کے برابر محسوس ہوگا اور جس کا تجربہ آج کل جدید سائنسی لیبز میں جاری ہے) اور وہ ہولوگرام یا فریبِ نظر سے مردہ لوگوں کو دوبارہ زندہ دکھانے کا ڈھونگ رچائے گا۔ حال ہی میں سدھو موسے والا کے ہولوگرام کی جھلک اور ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی اس کی واضح شروعات ہیں۔
یہ سب کچھ اس وقت سکھر پر پہنچے گا جب ہماری معیشت اور خوراک پر چند عالمی طاقتوں کا مکمل کنٹرول ہو چکا ہوگا۔ مثال کے طور پر، ہمارے جیسے زرخیز زرعی ملک میں روایتی بیجوں کو ختم کر کے ہائبرڈ اور سیڈ لیس (Seedless) بیج کیوں متعارف کروائے جا رہے ہیں؟ کسانوں کے ساتھ عجیب کھیل کھیل کر مقامی گندم کی فصل کو نقصان پہنچایا گیا اور باہر سے درآمد کرنے پر مجبور کیا گیا۔ حکیم محمد سعید جیسے لوگ اسی مغربی فارماکوپیا اور کارپوریٹ اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھاتے اٹھاتے دنیا سے چلے گئے۔
آج پوری دنیا کو "ٹک ٹاک” اور "یوٹیوب” کے پیچھے لگا کر سستی شہرت اور شارٹ کٹ سے کمانے کی لت لگا دی گئی ہے۔ زراعت اور صنعت کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور روبوٹکس پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسانی دماغ سست اور ناکارہ ہو رہے ہیں۔ ایک وقت آئے گا جب یہ پورا سسٹم کسی کے ایک اشارے پر کنٹرولڈ ہو جائے گا، لوگ اپنے ہاتھ اور دماغ کا استعمال بھول چکے ہوں گے، اور پھر وہی ڈیجیٹل مایا جال کا مالک سامنے آ کر کہے گا کہ "روزی روٹی چاہیے تو میری غلامی قبول کرو”۔ وہ معجزات دکھا کر خود کو رزاق ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔
فلکیاتی دنیا میں اس دور کو یوں ہی "راہو کی صدی” نہیں کہا جاتا۔ راہو کا مطلب ہی فریب، وہم، اور الیوشنز (Illusions) کا نیٹ ورک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس صیہونی نیٹ ورک، فری میسنز اور عالمی کنٹرول سے صرف مسلمان ہی پریشان نہیں ہیں، بلکہ دنیا بھر کے ویدک اسکالرز, عیسائی اور مغربی مفکرین بھی اس غلبے کے خلاف مسلسل لکھ رہے ہیں۔ یہ کوئی وہم نہیں، بلکہ ایک مایا جال ہے جو بڑی خاموشی سے ہم سب کے گرد بنا جا رہا ہے۔
تحریر: نینا بٹ (Naina Butt)
⚠️ حقوقِ تصنیف محفوظ (Copyright Protected): اس تحریر کے جملہ حقوق مصنفہ کے نام محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت یا بغیر نام کے کاپی کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہے۔
⭐ خصوصی نوٹ: اگر آپ کو میری یہ فکری کاوش پسند آئی ہو، تو آپ کا دیا ہوا ایک ایک اسٹار (Star) میرے بچوں کی پڑھائی اور روشن مستقبل میں مددگار ثابت ہوگا۔ آپ کی یہ چھوٹی سی محبت میرے لیے بہت بڑا سہارا ہے۔ شکریہ! 🙏
Image created for creative/discussion purposes (Fan Art).”