آدمی کا اپنے پہ غرور۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تصوف کا گروپ چلانا ایک عجیب تجربہ رہا لوگ تصوف سیکھنا تو چاہتے ہیں اور جوق در جوق شامل بھی ہوتے جاتے ہیں مگر وہ یہ نہیں چاہتے کہ انہیں کوئ بات سمجھائی جائے بلکہ لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ انکی ہر بات پہ امنا و صدقنا کیا جائے

گروپ کے رولز کیا بلا ہیں، تصوف پہ چلنے کے کیا اداب ہیں؟ کسی بزرگ سے بیعت ہونے کے بعد کیا احتیاطیں ہیں یہ سب بتانا ازحد ضروری معلوم ہوا، شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

دیکھیں پہلے تو کسی سے بیعت ہونے میں وقت لیں اور جب کسی شیخ کو چھان پھٹک کر اس سے وابستہ ہو جائیں تو اسکا کہنا ماننا واصل بالحق ہونے کے لئے ضروری ہے اسکے بعد خودرائی رہے گی تو حضوری حاصل نہیں ہوسکتی ، تو اپنی انا کے بت کو توڑیں اور جو سمجھایا جاتا ہے اس پہ عمل کریں تو ہی کامیابی ملے گی ورنہ ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں گے

طریقِ تصوف اور روحانیت کی راہ میں جب کوئی طالبِ حق مکمل چھان پھٹک اور جانچ پڑتال کے بعد کسی صاحبِ نسبت شیخ یا استاد سے وابستہ ہوتا ہے، تو اس کے احکام کی اطاعت اور فرماں برداری واصل بالحق ہونے کے لیے نہایت ضروری ہو جاتی ہے۔ جب تک دل و دماغ میں خودرائی اور ذاتی علم و عقل کا غرور باقی رہے، انسان بارگاہِ حضوری اور قربِ الٰہی کی کیفیت سے محروم رہتا ہے۔ مرشد کی صحبت اور نگاہِ التفات کا اصل مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ سالک کے باطن میں چھپے ہوئے ان تمام اندرونی بتوں کو ریزہ ریزہ کیا جائے۔

میں روحانیت کی تو بہت شوقین ہوں اور چاہتی ہوں کہ سڑک پہ چلتے لوگوں کو بتاؤں کہ تمہارے دل میں کیا چل رہا ہے بیماروں کو پھونک ماروں اور شفایاب کردوں کسی کو درخت سے الٹا لٹکا دوں کسی کو پھونک مار کر آسمان تک اڑا دوں پھر لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں وہ مجھے جھک جھک کر سلام کریں کہ واہ کیا پنہچی ہوئ ہستی ہیں جنکی عظمت کو ہم نے پہچانا ہی نہیں

لیکن خدانخواستہ اللہ کے کسی بندے نے میری اصلاح کردی یا مجھے کوئ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ جناب یہ باتیں تو اپنے اپکو مٹانے سے حاصل ہوتی ہیں آپ نے تو اپنے اندر تقوی، عجب، فخر ، تصنع اور نہ جانے کون کون سے بت بنائے ہوئے ہیں

کہیں آنا کا بت ہے کہیں تفاخر کا ، کہیں آپ سمجھتے ہیں کہ مجھ سے زیادہ کوئ علم نہیں رکھتا ، مجھ سے زیادہ کوئ اچھا نہیں، مجھے تو کیا مشاہدات ہوتے ہیں تو جب تک آپ ان بتوں کی پوجا کرتے رہیں گے تو کہیں نہ پہنچ پائیں گے جب تک یہ بت نہ ٹوٹیں گے میں دس اولیاء اللہ کے پاس بھی بیٹھ جاؤں میں کہیں نہیں پنہچ سکتا

میری انا تو اتنی طاقتور ہے کہ اگر کوئ مجھے یہ بتادے کہ میں اس وقت فون پہ بات نہیں کرسکتا تو مجروح ہوجاتی ہے، اگر یہ بتا دیا جائے کہ گروپ یا حلقے میں رہنے کے کچھ اصول ہوتے ہیں تو میں روٹھ جاتا ہوں مجھے یہ بتادیا جائے کہ جب ایک سلسلے سے وابستہ ہوں تو ہر سلسلے کے اوراد نہیں پڑھتے ورنہ distraction ہوتی ہے تو مجھے لگتا ہے مجھے بڑا ولی اللہ بننے سے روکا جارہا ہے🤦‍♂️

درحقیقت انسان کی ذات میں سب سے زیادہ مضبوط اور کٹھن بت اس کی اپنی جھوٹی "انا” کا ہوتا ہے، جو اس وقت تک نہیں ٹوٹتا جب تک مرید اپنے استاد کے سامنے عاجزی کے ساتھ بیٹھ کر اس کے فیض اور علم کو قبول نہ کرے۔ روحانی کامیابی اور کامرانی کی منزل پانے کے لیے لازمی ہے کہ انسان اپنے نفسانی غرور اور انا کے بت کو پاش پاش کر دے اور جو کچھ رہنمائی دی جائے اس پر صدقِ دل سے عمل پیرا ہو۔ بصورتِ دیگر، انسان اس طریقت کے سفر میں اندھیروں میں محض ٹامک ٹوئیاں ہی مارتا رہے گا اور کبھی بھی اپنے حقیقی مقصود تک نہیں پہنچ پائے گا۔

استاد کی حرکات و سکنات بھی سبق لئے ہوئے ہوتی ہیں یہ ہم پہ ہے کہ ہم اس سبق کو کس طرح جذب کرتے ہیں آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ کچھ شاگرد اپنے استاد کے پاس سب سے بعد میں جاتے ہیں اور سب سے زیادہ علم حاصل کرلیتے ہیں جبکہ پرانے شاگرد اس ہی طرح بیٹھے ہوتے ہیں یہ استاد کا نہیں شاگرد کا کمال ہے کہ اسکی ریسیو کرنے کی صلاحیت اسٹرانگ ہے

اسکے ادب اداب اتنے پسندیدہ ہیں کہ وہ استاد کے دل میں اتر جاتا ہے اسکے etiquettes, مینرز، بات کرنے کا طریقہ اور سب سے بڑھکر خلوص اور سچائی استاد کو اسکی طرف متوجہ رکھتی ہیں اپنے استاد کے بارے میں یہ نہ سوچئے کہ انہوں نے مجھے علم نہیں دیا بلکہ یہ سمجھئے کہ کوتاہی کہاں ہورہی ہے

یارب وہ نہ سمجھیں ہیں نہ سمجھیں گے میری بات

دے اور دل انکو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

اور جس نے اپنی لغزشوں پہ غور کیا تو اپنی جلد اصلاح کرلے گا مگر آدمی کا اپنے پہ غرور جبکہ اس میں خودرائ بھی شامل ہو جائے اپنے کو راہ صواب سے محروم کرتا ہے

حنا عرفان سہروردی

نفحات تصوف سندھ

Thursday 22 October 2026