حضرت نوح علیہ السلام — 950 سال کی دعوت، ایک عظیم کشتی اور ایسا طوفان جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت نوح علیہ السلام — 950 سال کی دعوت، ایک عظیم کشتی اور ایسا طوفان جسے قرآن نے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا!

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک اللہ کا نبی صدیوں تک اپنی قوم کو سمجھاتا رہے، لوگ اس کا مذاق اڑائیں، اس کی بات ماننے سے انکار کریں، لیکن وہ پھر بھی اپنی دعوت جاری رکھے؟

یہ داستان ہے حضرت نوح علیہ السلام کی، جن کی زندگی ہمیں صبر، ایمان اور اللہ پر بھروسا کرنے کا سبق دیتی ہے۔

📜 1۔ حضرت نوح علیہ السلام کون تھے؟

حضرت نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ قرآنِ مجید میں ان کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے، حتیٰ کہ قرآن کی 71ویں سورت کا نام بھی سورۃ نوح ہے۔

آپؑ کی قوم شرک اور بت پرستی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو ان کی اصلاح اور لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دینے کے لیے بھیجا۔

آپؑ نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو، اسی سے معافی مانگو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔

🌙 2۔ ساڑھے نو سو سال کی دعوت!

حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کا سب سے حیران کن پہلو ان کی دعوت کا طویل عرصہ ہے۔

قرآنِ مجید کی سورۃ العنکبوت، آیت 14 میں بیان ہوا ہے کہ حضرت نوحؑ اپنی قوم میں 950 سال رہے۔

آپؑ نے لوگوں کو دن میں بھی سمجھایا اور رات میں بھی۔ کبھی علانیہ دعوت دی اور کبھی انفرادی طور پر لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا۔

لیکن قوم کے بہت سے لوگ اپنی ضد پر قائم رہے۔

قرآن کے مطابق، آپؑ کی قوم کے سرداروں نے آپ کو جھٹلایا اور لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کرنے کے بجائے مخالفت کی۔

⚠️ 3۔ جب قوم نے مذاق اڑانا شروع کر دیا!

حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے باوجود قوم کے بہت سے لوگ ایمان نہ لائے۔

آپؑ نے اپنی قوم کو اللہ کے عذاب سے خبردار کیا، لیکن انکار کرنے والے اپنی روش پر قائم رہے۔

بالآخر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو وحی کے ذریعے بتایا کہ اب ان کی قوم میں مزید لوگ ایمان نہیں لائیں گے، سوائے ان کے جو پہلے ایمان لا چکے تھے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کو کشتی بنانے کا حکم دیا۔

یہ حکم ایک ایسے وقت میں دیا گیا جب وہاں کشتی بنانے کی بظاہر کوئی ضرورت نظر نہیں آتی تھی۔

لیکن ایک نبی کا کام اللہ کے حکم پر عمل کرنا ہے، چاہے دوسرے لوگ اس بات کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔

🛶 4۔ خشکی پر کشتی کی تیاری!

حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کر دی۔

قوم کے لوگ وہاں سے گزرتے تو آپؑ کا مذاق اڑاتے۔ انہیں سمجھ نہیں آتا تھا کہ خشکی پر کشتی کیوں بنائی جا رہی ہے۔

لیکن حضرت نوحؑ نے اپنا کام جاری رکھا۔

قرآنِ مجید میں سورۃ ہود، آیت 38 میں ان لوگوں کے مذاق اڑانے کا ذکر موجود ہے۔

آخرکار وہ وقت آ پہنچا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو دی تھی۔

🌧️ 5۔ وہ عظیم طوفان جس نے قوم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا!

اللہ تعالیٰ کا حکم آیا تو زمین سے پانی ابلنے لگا اور آسمان سے بارش برسنے لگی۔

حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ کشتی میں مومنوں اور جان داروں کے جوڑوں کو سوار کریں، اللہ کے حکم کے مطابق۔

قرآن بتاتا ہے کہ حضرت نوحؑ کے ساتھ ایمان لانے والے لوگ بہت کم تھے۔

پانی بڑھتا گیا اور کشتی موجوں کے درمیان چلنے لگی۔

یہ کوئی عام بارش نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ کا وہ فیصلہ تھا جس کے بارے میں حضرت نوحؑ اپنی قوم کو مسلسل خبردار کرتے رہے تھے۔

قرآنِ مجید نے اس واقعے کو مختلف سورتوں میں بیان کیا ہے، خصوصاً سورۃ ہود اور سورۃ القمر میں۔

 6۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا — ایک باپ کی دردناک آزمائش!

جب کشتی چل پڑی اور پانی بلند ہونے لگا تو حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کو پکارا:

’’اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ۔‘‘

لیکن بیٹے نے جواب دیا کہ وہ کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے بچ جائے گا۔

حضرت نوحؑ نے فرمایا کہ آج اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچا سکتا، سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔

پھر ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بیٹا غرق ہونے والوں میں شامل ہو گیا۔

یہ واقعہ سورۃ ہود، آیات 42 اور 43 میں بیان ہوا ہے۔

بعد میں حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا، تو اللہ نے واضح فرمایا کہ نجات کا اصل معیار ایمان اور نیک عمل ہے، محض خاندانی تعلق نہیں۔

یہ واقعہ ہمیں ایک گہرا سبق دیتا ہے: کسی نبی کا بیٹا ہونا بھی ایمان کی جگہ نہیں لے سکتا۔

👨‍👩‍👧‍👦 7۔ حضرت نوحؑ کا خاندان

قرآنِ مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوحؑ کی بیوی ایمان والوں میں شامل نہیں تھی۔ سورۃ التحریم، آیت 10 میں حضرت نوحؑ کی بیوی کی مثال ان لوگوں کے لیے بیان ہوئی ہے جنہوں نے کفر کیا۔

قرآن میں حضرت نوحؑ کے ایک بیٹے کا واقعہ بھی واضح طور پر موجود ہے، جو طوفان میں غرق ہوا۔

🕊️ 8۔ طوفان کے بعد کیا ہوا؟

اللہ تعالیٰ کے حکم سے طوفان کا پانی اترنے لگا اور کشتی جودی پہاڑ پر ٹھہر گئی۔

پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت نوحؑ کو سلامتی اور برکت کے ساتھ اترنے کا حکم دیا گیا۔

یہ واقعہ سورۃ ہود، آیات 44 تا 48 میں بیان ہوا ہے۔

یوں حضرت نوحؑ اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محفوظ رہے۔

🌟 9۔ حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے؟

✨ پہلا سبق: حق بات کہنے میں جلد مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

✨ دوسرا سبق: لوگوں کی مخالفت انسان کو اللہ کی اطاعت سے دور نہ کرے۔

✨ تیسرا سبق: انسان کی نجات کا تعلق ایمان اور عمل سے ہے، صرف خاندان یا نسب سے نہیں۔

✨ چوتھا سبق: اللہ تعالیٰ کے حکم پر بھروسا رکھنا چاہیے، چاہے حالات بظاہر ناممکن نظر آئیں۔

✨ پانچواں سبق: دینی واقعات بیان کرتے وقت مستند معلومات اور غیر ثابت شدہ روایات میں فرق کرنا ضروری ہے۔

❤️ آخری بات!

حضرت نوح علیہ السلام کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صبر کا راستہ طویل ہو سکتا ہے، لیکن حق کی دعوت کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوتی۔

آپؑ نے صدیوں تک اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلایا اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں انبیائے کرام کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنے، حق کو پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اس سے ایک اور سبق ہمیں یہ بھی ملتا ہے کہ چاہے نبی کا بیٹا بھی کیوں نہ ہو اگر ایمان کی حالت میں نہ مرے تو اس کی کوئی بخششِ نہیں ۔

دوستوں یہ تھی حضرت نوح علیہ السلام کی زندگی کی داستان آگر آپ کو یہ پوسٹ اچھی لگے تو لائک کریں اور کمنٹ میں اگلی شخصیت کون سی ہو ضرور بتائیں ۔