یقین کا مطلب یہ نہیں کہ انسان عقل بند کردے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی  نیوز انٹرنیشنل )یقین کا مطلب یہ نہیں کہ انسان عقل بند کردے، سوال کرنا چھوڑ دے یا ہر دعوے کو بغیر دلیل مان لے۔

یقین کا مطلب یہ ہے کہ جس حقیقت کی صداقت معتبر دلیل سے واضح ہوچکی، اس کے بعد دل مسلسل بے بنیاد شک کی گرداب میں نہ پڑا رہے۔

 قرآن مجید خود تدبر، تفکر اور غور کی دعوت دیتا ہے۔

لہذا تحقیق اور وسوسہ دو الگ چیزیں ہیں۔

تحقیق حقیقت کو سمجھنا چاہتی ہے، وسوسہ حقیقت مل جانے کے بعد بھی دل کو بے قرار رکھنا چاہتا ہے۔

 تحقیق سوال کرکے مطمئن ہوتی ہے، وسوسہ جواب ملنے کے بعد دوسرا بے بنیاد سوال کھڑا کردیتا ہے۔

اسی لیے عام زندگی میں بھی مسلسل وسوسہ انسان کو تھکا دیتا ہے۔ ایک آدمی ہر فیصلہ کرنے کے بعد سوچتا رہے کہ شاید غلط ہوگیا ، ہر خیر کے بعد اندیشہ کرے، ہر عبادت کے بعد یہی سوچے کہ شاید قبول نہیں ہوئی، ہر دعا کے بعد یہی کہے کہ شاید مجھے سنا ہی نہیں گیا، تو وہ اندر سے بکھرنے لگتا ہے۔

 اس کا جسم ایک جگہ ہوتا ہے اور ذہن بیسیوں احتمالات میں بھٹک رہا ہوتا ہے۔

*اَللّٰھُمَ صَلَّی عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍﷺ وَّ عَلٰی اَلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍﷺ*